عربی زبان وادب علوم وفنون کا عظیم خزانہ

جے این یو کے ریکٹر پروفیسر چنتامنی مہاپاترا کا دو روزہ قومی سمینار کے افتتاحی پروگرام میں اظہار خیال

?
?

نئی دہلی، (نامہ نگار) زبان وادب کسی بھی تاریخی واقعات کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہے،قوم کی زندگی اس سے جڑے ہو تی ہے،یہ صرف بہلانے کے لیے نہیں ہے، اسی لیے تاریخ اور سماجی علوم کو سمجھنے میں ادب بہت مدد کرتاہے ۔آج اگر امریکہ اور ویتنام کی جنگ کا حقیقی چہرہ لوگوں کے سامنے آیا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ ایک ناول ہے جو موجودہ زمانے میں ادب کا اہم جز ہے۔عربی زبان وادب علوم کاخزانہ ہے،عربوں کا تعلق ہندوستان سے قبل مسیح ہی سے ہے۔آج اگر جے این یو کے طلبہ اس میں جوش وخروش سے حصہ لے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عظیم وراثت اور اہمیت کا اعتراف کررہے ہیں۔ان آراء کا اظہار جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریکٹرپروفیسر چنتامنی مہاپاترانے عربی زبان وادب کے دوروزہ قومی سمیناربعنوان ’’جدید عربی ادب میں معاصر رجحانات ‘‘ کے افتتاحی پروگرام میں کیا ۔

پروفیسر چنتامنی مہاپاترا طلبہ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالر وں سے مخاطب تھے۔ اس سمینار کا انعقاد شعبۂ عربی جے این یو نے آل انڈیا عربک ٹیچرس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے کیا ہے۔ اپنے صدارتی کلمات میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سمینار کا موضوع موجودہ حالات سے بہت مطابقت رکھتا ہے۔ اس پروگرام میں شعبۂ عربی کے سالانہ مجلہ ’’ الدراسات العربیہ ‘‘ کی بھی رونمائی ہوئی۔سمینار کے حوالے سے جے این یوکے شعبۂ عربی کے صدرپروفیسر مجیب الرحمن نے افتتاحی کلمات کا اظہار کیاجبکہ تعارفی کلما ت سمینار کے کنوینر ڈاکٹر محمد قطب الدین نے پیش کیے۔

سمینارمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ثناء اللہ نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔انہوں نے ادب اور عربی زبان کی تاریخ پر سیر حاصل گفتگو کی ۔عربی ادب میں موجودہ رجحانات کے تعلق سے انہوں کہا کہ محمود درویش،بدرشاکر سیاب اور فدوی طوقان نے جہاں جدید طریقہ کی شاعری کرتے ہوئے رومانیت، واقعیت اور وجودیت کو جگہ بخشی ہے،تووہیں نجیب محفوظ،توفیق الحکیم اور طہٰ حسین جیسے عظیم نثرنگاروں نے ناول ،افسانہ اور ڈرامہ کو نیا رنگ بخشا ہے۔

مہمان خصوصی کے طور پر شریک دارالمعارف حیدرآباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مہ جبیں اختر نے عربی زبان کی پاکیزگی اور تقدس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے جس زبان کو اپنے آخری کلام کے لیے چنا ہے وہ ہمیشہ بلند رہے گی۔اقوام متحدہ کے اندر اس کو سرکاری زبان کے طور پر قبول کرنا اس کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ آل انڈیا ٹیچرس ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر نعمان خان نے عربی ادب کی موجودہ صورت حال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عرب ملکوں کی سیاسی حالت ضرور خراب ہے لیکن عربی زبان وادب ترقی کی نئی بلندیوں کو چھورہی ہے،اور غیرعرب ملکوں میں فروغ پارہی ہے۔

مصری سفارت خانہ کے ثقافتی امور کے کاؤنسلر قاضی عبدالرحمن نے بھی شعبۂ عربی کی کوششوں کو سراہا اور ہر ممکن مدد کی یقین دہائی کرائی۔ آسی سی آر کی محقق ڈاکٹر نشاء نے بھی سمینار میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اخیر میں پروفیسر رضوان الرحمن نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

واضح ہو کہ شعبۂ عربی کا دورو زہ قوم سمینار کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔اس کی سب سے بڑی خصوصیت نوجوان ریسرچ اسکالروں کی حصہ داری ہے، جو ہندوستان کی تقریباً ہر بڑی یونیورسٹی سے آئے ہیں۔ افتتاحی تقریب کے بعد پہلے دن سمینار کے بارہ سیشن ہوئے ،جس میں تقریباً مختلف موضوعات پر تقرباً ۵۰؍مقالات پیش کیے گئے۔مقالہ نگاروں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبۂ عربی کے صدرپروفیسر کفیل احمد،ڈاکٹر نعیم الحسن دہلی یونیورسٹی،ڈاکٹر محمود عبدالرب مرزاالہ آباد یونیورسٹی اور پروفیسر ڈاکٹر سید جہانگیر ایفلو حیدرآباد یونیورسٹی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *