ہندوستان میں عربی زبان وادب کو فروغ مل رہاہے

جے این یو میں منعقد پروگرام میں مشہور ادیبہ اور ناقدہ ڈاکٹر سناء شعلان کا اظہار خیال
?

نئی دہلی، ۶؍اپریل: ہندوستان میں عربی زبان وادب کے میدان میں شعبۂ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ یہاں کے طلبہ ، اساتذہ اور ریسرچ اسکالر عربوں کی طرح نہ صرف عربی بولتے اور لکھتے ہیں بلکہ ادب کا عمدہ ذوق بھی رکھتے ہیں۔ سمینار کے دورا ن طلبہ سے جب ملاقات اور بحث ومباحثہ کا موقعہ ملا تو اندازہ ہوا کہ عربی زبان وادب جے این یو میں فروغ مل رہا ہے اور یہاں مختلف موضوعات پر تحقیق بھی ہورہی ہے ۔ ان آراء کا اظہار اردن کی مشہور ادیبہ،ناقدہ،افسانہ نگار اور مختلف موضوعات پرچالیس سے زائد کتابوں کی مصنفہ ڈاکٹر سناء شعلان نے کیا۔وہ شعبۂ عربی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طرف سے منعقد ہ ایک پروگرام میں طلبہ ،اساتذہ اور ریسرچ اسکالر وں سے مخاطب تھیں۔

اس پروگرام کی صدارت ہندوستان میں اردن کے سفیر ڈاکٹر حسن محمود محمد الجوارنح نے کی ،جبکہ عرب لیگ کے سفیر ڈاکٹر مازن المسعودی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ شعبۂ عربی کے صدرپروفیسر رضوان الرحمن نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیااورشعبۂ عربی کے سابق صدر پروفیسر مجیب الرحمن نے ڈاکٹر شعلان کا تعارف پیش کیا۔ عربی ادب کے میدان میں اپنے تخلیقی تجربات اور عربی زبان وادب میں اردن کی خدمات کے موضوع پر حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈاکٹر شعلان نے مزید کہاکہ اردن کے اندر جدید عربی زبان وادب کے بڑے بڑے شعراء اور ادباء نے جنم لیاہے۔ یہاں کی حکومت نے تعلیم اور تحقیق کو ہمیشہ فروغ اور اہمیت دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں تعلیم سو فیصد ہے اور اس چھوٹے سے ملک میں تقریبا تیس بڑی یونیورسیٹیاں قائم ہیں۔ عربی زبان وادب کے مستقبل کے تناظر میں انہوں نے امید ظاہر کی اور کہا کہ عرب دنیا میں بہت عظیم ادب کی تخلیق ہورہی ہے اور پوری دنیا میں ترجمہ کے ذریعے اس کی پذیرائی بھی ہورہی ہے ۔انہوں نے ہندوستانی طلبہ اور اساتذہ کے ذوق وشوق اور ان کی عربی دانی کوبھی سراہا۔ وہیں عرب لیگ کے سفیر ڈاکٹر مازن المسعودی نے شعبۂ عربی جے این یو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں اس شعبہ کے اشتراک سے عرب لیگ دہلی میں ایک عظیم پروگرام منعقد کرے گا،جس میں طلبہ اور ریسرچ اسکالر سمیت اساتذہ کی بھی شرکت ہوگی۔ پروگرام کے اخیر میں ڈاکٹر محمدقطب الدین نے تمام مہمانان،اساتذہ،طلبہ اور ریسرچ اسکالروں کا شکریہ ادا کیا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *