میڈیا سے غائب ہوتے جا رہے ہیں دیہات: پی سائی ناتھ

P. Sainath

نئی دہلی، ۲۱ مارچ (نامہ نگار): پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا (پاری) کے بانی اور مشہور صحافی پی سائی ناتھ نے یو جی سی کے ایک پروجیکٹ کے تحت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف سوشل سائنسز میں ایک پروگرام کے دوران تفصیل سے بتایا کہ کیسے ہمارے ملک میں دیہی علاقوں کو اب پوری طرح نظر انداز کیا جانے لگا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ پہلے اخباروں میں ’لیبر کریسپانڈینٹ‘ (مزدوروں کو کور کرنے والا نامہ نگار) ہوا کرتا تھا، لیکن اب کسی بھی میڈیا ہاؤس میں یہ پوسٹ نہیں ہے۔ خود پی سائی ناتھ نے اپنے صحافتی پیشہ کا آغاز یو این آئی سے لیبر کریسپانڈینٹ کے طور پر کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آج کل زیادہ تر خبریں ’ریونیو ماڈل‘ کو سامنے رکھتے ہوئی پیش کی جاتی ہیں اور میڈیا صحیح خبروں کو نہ دکھا کر رائے عامہ بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے، جو کہ ایک غلط ٹرینڈ ہے۔ انھوں نے دنیا کے کئی بڑے میڈیا گھرانوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ خود ان کا ’ریونیو ماڈل‘ اب فیل ہونے لگا ہے۔

Audience_JNU_P Sainath

پی سائی ناتھ نے بتایا کہ ان کی کوشش ہندوستان کے دیہاتوں پر مبنی ایک ایسی لائبریری اور آرکائیوز تیار کرنا ہے، جس میں عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو پیش کیا جا سکے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رائج بولیوں کو محفوظ کیا جائے، جو بڑی تیزی سے غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پچھلے ۵۰ سالوں میں ۲۲۵ بولیاں غائب ہو چکی ہیں۔ پی سائی ناتھ کے مطابق، اس وقت ہندوستان میں ۷۸۰ بولیاں زندہ ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں بولی جا رہی ہیں، لیکن ان کا مستقبل خطرے میں ہے اور یہ تیزی سے غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان بولیوں کو بھی ’پاری‘ کے تحت محفوظ کیا جائے۔ مثال کے طور پر انھوں نے سائی مار بولی کا ذکر کیا، جس کے اس وقت تریپور میں صرف ۷ بولنے والے ہی بچے ہیں۔ اس طرح ’جیرو‘ زبان بولنے والا اب صرف ایک آدمی بچا ہے، جو انڈمان نکوبار میں رہتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کی کوشش ہے کہ بہت سارے پیشے، جو تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، انھیں بھی فلم یا تصویروں کی شکل میں محفوظ کیا جا سکے۔ اس کی مثال میں انھوں نے مالابار علاقہ کے مسلم خلاصیوں کا ذکر کیا، جو کشتیوں کو سمندر کے کنارے لگانے کے پیشہ میں ماہر ہیں۔ اب وہ خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور پوری دنیا میں ’ہائڈرولکس‘ کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد بھی بہت کم رہ گئی ہے۔ اسی طرح انھوں نے تاڑی نکالنے والوں کا ذکر کیا، جو ہر دن ۲۰ فیٹ کے تاڑ کے تقریباً ۵۰ درختوں پر تین بار چڑھتے اترتے ہیں۔ اس کے لیے وہ نہ تو سیڑھی کا استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی رسی وغیرہ کا، پھر بھی وہ اپنے اس پیشہ کے ماہر ہیں اور ان کی تعداد سب سے زیادہ جنوبی ایشیا اور خاص کر جنوبی ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔

پی سائی ناتھ نے بتایا کہ سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف پچھلے دس برسوں میں ہجرت ہوئی ہے، اتنی ہجرت ہند و پاک کے بٹوارے کے وقت بھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن میڈیا میں اس خطرناک ٹرینڈ کو پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے کہا کہ سنٹر فار میڈیا اسٹڈیز (سی ایم ایس) دہلی ہر سال پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں دیہی علاقوں سے متعلق خبروں کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔ اس کی حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پچھلے ایک سال میں دو ہندی اخباروں اور ٹی وی چینلوں کے پرائم ٹائم میں صرف  .128 فیصد ہی دیہی علاقوں کو کوریج ملا ہے۔

کمال کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پی سائی ناتھ کے پاس نہ تو فنڈ ہے اور نہ ہی مستقل ملازمین۔ انھوں نے پروگرام میں موجودہ طلبہ و اساتذہ کو بتایا کہ وہ اتنا بڑا کام رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں اور اس کے لیے پوری دنیا سے لوگ ان کے ساتھ اس کام میں رضاکارانہ طور پر جڑ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *