رفع حاجت کے لیے باہر جانے میں شرم آتی ہے

rabia-basriرابعہ بصری
بہار کے سیتامڑھی ضلع ہیڈ کواٹر سے ۳۵؍ کلومیٹر دور پوپری بلاک میں واقع گاؤں کوشیل کی آبادی تقریباً ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہے، مذکورہ گاؤں میں جیسے جیسے اندر جاتے ہیں سڑکوں کی حالت خراب ہوتی جاتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خراب یہاں کی عورتوں کے حالات ہیں۔ اس گاؤں میں بیت الخلا ء نہیں ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ۳۵؍ سالہ آرتی دیوی کہتی ہیں :’’ میری شادی ہوئے ۱۰؍ سال ہو گئے ہیں، دو بچے بھی ہیں۔ ابھی تک میرے گھر میں بیت الخلا ء نہیں بنا ہے، مجھے رفع حاجت کے لیے دونوں چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ سڑک کا استعمال ٹوائلٹ کے طور پر کرنے میں بہت شرم آتی ہے۔ اگر گھر میں بیت الخلا ء ہوتا تو ہم گاؤں کی سڑک کو گندہ کیوں کرتے؟‘‘ نریش مہتو کی بیوی رام کلی دیوی کی بھی یہی شکایت ہے۔ اس کا کہنا ہے:’’ میرے گھر میں بھی بیت الخلاء نہیں ہے میں اور میرے بچے جب دن کے وقت رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں تو گاؤ ں کے لوگ کھڑے ہو کر مجھے اور بچوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ دن کے اجالے میں رفع حاجت کے لیے باہر جانے میں شرم آتی ہے۔ خاص طور پر جب بھیڑ زیادہ ہو تو نہ خود جاتی ہوں اور نہ بچوں کو لے جاتی ہوں، لیکن ایسا کرنے سے بچو ں کے پیٹ میں درد ہونے لگتا ہے۔ اور تو اور جس راستے سے ہو کر کھیت تک جانا ہوتا ہے، وہاں اتنا پانی جمع رہتا ہے کہ رات کے وقت آنے جانے میں ڈر لگتا ہے کہ کہیں سانپ بچھونہ کاٹ لے! کتنے لوگو ں کو تو سانپ نے کاٹا بھی ہے۔ اب آپ ہی سوچیں گھر میں بیت الخلاء ہوتا تو یہ سب مصیبت تھوڑے ہی اٹھانی پڑتی۔‘‘ چھوٹے لال مہتو کی بیوی ۴۰؍ سالہ بنارسی دیوی کہتی ہیں: شادی کو۲۰؍ سال ہو گئے ہیں نہ مائیکے میں ٹوائلٹ ہے اور نہ سسرال میں۔ میرے چار بچے ہیں، جوان بیٹیوں کو رفع حاجت کے لیے کھلے میں جانا اچھا نہیں لگتا وہ مجھ سے شکایت کرتی ہیں، مجھ پر غصہ بھی ہوتی ہیں لیکن میں کیا کر سکتی ہوں؟ اگر گھر میں بیت الخلا ء ہوتا تو میری بیٹیوں کو نہ سڑک کے کنارے پر جانا پڑتا نہ ہی مجھے ان کے طعنے سننے پڑتے، سڑک پر رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں توگاؤں کے دس لوگ دیکھتے ہیں جو بالکل بھی اچھا نہیں لگتا لیکن کیا کروں؟ مجبور ہوں۔‘‘

پینتالیس برس کی چانو دیوی کا مانناہے کہ’’ہمارے زمانے کی بات کچھ اور تھی ۔ہم بھی رفع حاجت کے لیے باہر جاتے تھے لیکن اس

مقامی خواتین سے گفتگوکرتے ہوئے چرخہ کی دیہی قلم کارہ رابعہ بصری
مقامی خواتین سے گفتگوکرتے ہوئے چرخہ کی دیہی قلم کارہ رابعہ بصری

وقت کا زمانہ کچھ اور تھا ۔گاؤں میں بہو بیٹیوں کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ جب ہم رفع حاجت کے لیے باہر جاتے تھے تو مرد ہمیں دیکھتے ہی کنارے ہو جاتے تھے لیکن اب کے زمانے میں شہر تو دور گاؤں میں بھی لڑکیوں کے ساتھ رفع حاجت کے لیے جاتے ہوئے بہت سارے حادثے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اکثر بیٹیوں کو باہر بھیجنے میں ڈر لگتا ہے۔ گھر میں دو بہوئیں ہیں۔ ان کے مائیکے میں بیت الخلا ء تھا لیکن ہمارے یہاں نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں یہاں رہنے میں بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے اپنے شوہر کو کتنی بار بولا کہ گھر میں اتنی جگہ ہے بہوؤں کے لیے ایک بیت الخلا ء بنوا دو لیکن وہ اپنی اس ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے سب کی بیٹیاں باہر جاتی ہیں ویسے تمہاری بھی جائیں گی تو کیا ہو گیا۔‘‘

چانو دیوی کے شوہر کی یہ بات معاشرے کی اس فکر کی عکاسی کرتی ہے جس میں ایک طرف تو بہو بیٹیوں کو گھر کی چاردیواری کے اندر محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے تو وہیں دوسری طرف کھلے میں رفع حاجت کے لیے جانے سے ان کی عزت پر داغ نہیں لگتابلکہ اسے دیہی زندگی کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں حکومت ہند کی طرف سے ۲۰۱۹ء تک ۹؍ کروڑ۸۰؍ لاکھ بیت الخلا ء بنانے کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ مکمل ہو پائے گا یا نہیں؟اس سے متعلق ’چرخہ فیچرس‘ سے بات کرتے ہوئے پوپری کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر نیرج کمار نے بتایا کہ ’ صاف بھارت مشن کے تحت بیت الخلاء بنوانے کے لیے ہر بار تین ڈویژن کو منتخب کرنا ہوتا ہے اور انتخاب کے بعد منتخب بلاک کے تمام گھروں میں بیت الخلاء تعمیر کیا جاتا ہے ۔ اس وقت جس تین ڈویژن کا انتخاب ہوا ہے، اس میں پوپری ڈویژن شامل نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے اگلی باریہ کام پوپری ڈویژن میں ہی ہو۔ تب اس کے تحت آنے والے تمام گاؤں کے گھروں میں بیت الخلا ء کی تعمیر کی جائے گی۔‘‘

کوشیل گاؤں میں بیت الخلاء کی حالت تو محض ایک مثال ہے۔ تازہ اعداد وشمار پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ کئی طرح کی کوششوں کے باوجود مالی سال۱۵۔۲۰۱۴ کے دوران فی منٹ محض۱۱؍ بیت الخلاء ہی بنائے گئے ہیں جبکہ ہدف فی منٹ ۴۶؍ بیت الخلاء بنانے کا رکھا گیا تھا۔ سن۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں ۵۳؍ فیصد گھروں میں آج بھی بیت الخلاء نہیں ہے، دیہی علاقوں کے۶۹ اعشاریہ ۳؍ فیصد گھروں میں بیت الخلا نہیں ہیں۔صرف دیہات کی ہی بات کریں تو زیادہ تر ریاستوں میں صورت حال انتہائی خراب ہیں۔محض ۱۶؍سال قبل ہندوستان کے نقشہ پر اُبھرنے والی ریاست جھارکھنڈ کے 92 فیصد گھروں میں بیت الخلا نہیں ہیں جبکہ ا ڈیشہ کے۸۵اعشاریہ ۹؍ فیصد، چھتیس گڑھ کے۸۵اعشاریہ۵؍ فیصد، راجستھان کے۸۰اعشاریہ۴؍ فیصد، اتر پردیش کے۷۸ اعشاریہ۲؍ فیصد اوربہار کے۸۲ اعشاریہ۴؍ فیصد گھروں میں آج بھی بیت الخلاء نہیں ہیں۔(چرخہ فیچرس)

جوگیا،پوپری،سیتامڑھی،بہار
فون نمبر:8809973039

erahi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *