آخری مرحلے میں پرجوش نظر آئے ووٹر

پٹنہ، ۵؍ نومبر:بہار اسمبلی انتخابات کے لیے پانچویں اور آخری مرحلے میں ۵۷ اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا عمل آج صبح سویرے شرع ہوا۔ اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے کے لیے ووٹر صبح سے ہی قطار لگا کر اپنی باری کا انتظار کرتے نظر آئے۔

Bihar Assembly Election Fifth Phase polling voters photos
سہر سہ ضلع میں سونبرسااسمبلی حلقہ کے کسمہی پولنگ بوتھ کا منظر، تصویر :رحمت اللہ

سہرسہ ضلع میں سمری بختیار پور اور سونبرسا اسمبلی حلقوں کے مختلف بوتھوں پررائے دہندوں کی خاصی بھیڑ نظر آئی۔  سمری بختیار پور اسمبلی حلقہ کے تحت آنے والے ہریوہ گاؤں کے دونوں بوتھوں پر مرد اور خواتین ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ نوجوان ووٹروں نے بھی بڑھ چڑھ کر جمہوریت کے اس تہوار میں حصہ لیا۔

اس دوران بعض پولنگ بوتھوں پر ووٹنگ مشین میں خرابی کے سبب رائے دہندوں کواپنا ووٹ ڈالنے کے لیے بڑی دیر تک انتظارکرنا پڑا۔ سمری بختیار کے ہری ونش اسکول میں ای وی ایم کے خراب ہونے سے پولنگ تقریباً دو گھنٹے دیر سے شروع ہوئی۔  ادھر سونبرسا اسمبلی حلقہ کے تحت کسمہی گاؤں میں بھی دونوں بوتھوں پر مرد و خواتین صبح سویرے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پہنچے۔  ووٹروں کو اپنے حق کا استعمال کرنے میں کسی طرح کی دشواری نہیں ہو اور وہ بے خوف ہو کر ووٹ دیں، اس کے لیے سبھی بوتھوں پر حفاظتی دستوں کا سخت پہرہ ہونے کے ساتھ ہی سیکورٹی فورس کی گاڑیاں بھی گشت کررہی ہیں۔

Bihar Assembly Election Fifth Phase polling voters photos
سہرسہ ضلع میں سمری بختیارپور اسمبلی حلقہ کے ہریوہ گاؤں میں مختلف پولنگ بوتھوں کا منظر، تصاویر:احمر ضیاء وارثی

اس مرحلے کی ووٹنگ کو مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے کے درمیان مقابلے میں بہت ہی فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ان اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد کا ہونا ہے ۔ مسلم ووٹروں کے بارے میں عام طور سے خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا زیادہ تر جھکاؤ نتیش کمار کی قیادت والے Voters-in-line-at-booth-no-14-Harewa-Panchayatعظیم اتحاد کی طرف ہے۔ لیکن اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی موجودگی سے خاص طورپر سیمانچل کے علاقے میں مقابلہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ اسی کے ساتھ ان اسمبلی حلقوں میں جہاں مسلم ووٹر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، وہاں سے مسلم امیدوار بھی کثیرتعداد میں ہیں۔ اس سے سیکولر ووٹوں میں انتشار کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔  واضح ہو کہ ان حلقوں میں بی جے پی کو چھوڑ کر زیادہ تر پارٹیوں نے مسلم امیدوار وں کو میدان میں اتارا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *