کچھ تو اپنی حب الوطنی کا بھی خیال کرو !

?

اسفر فریدی

ہندوستان ایک ملک ہے۔ یہاں کا نظام حکومت جمہوری ہے۔ عوام کے ذریعے منتخب نمائندے آئین میں درج عوام کی خواہشات کے مطابق حکومت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ اس میں کوئی حکومت نہیں کرتا ہے، سب ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ اس میں کوئی حاکم نہیں ہوتا سب شہری ہوتے ہیں۔ اس میں ہر ایک کے ووٹ کی قیمت برابر ہوتی ہے۔ ایک آئین اور ایک قانون کی ایک ہی تشریح کے مطابق ہر شہری پر اس کا نفاذ ہوتا ہے۔ لیکن آج کل ملک میں جو حالات ہیں، وہ ان سب سے الگ ہیں ۔ جمہوری نظام میں عوام کا حق برابر ہوتا ہے۔ سب کو اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے۔  مگر، جہاں تک نظر جائے اٹھا کر دیکھ لیں، اور پھر بتائیں کہ کہاں کہاں آپ کو کیا کیا دکھائی دے رہا ہے۔  جی ہاں، آپ نے درست فرمایا، ہر جگہ لٹھ مار کی حکمرانی تھوپنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آپ نے اپنے ووٹ کا استعمال کرلیا۔ آپ کا کام ختم۔ اب آپ خاموشی کے ساتھ گھر بیٹھیے۔  گھر اس لیے بھی بیٹھیے کہ باہر کوئی کام نہیں ہے۔ کوئی کام ہوتا تو پھر حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی سے لے کر جواہرلعل نہرو یونیورسٹی اور وہاں سے لے کر پٹیالہ ہاؤس کورٹ تک لٹھ ماری نہیں کی جاتی۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ کسی بھی یونیورسٹی میں، کالج میں، اسکول میں، گھر میں، بازار میں، کورٹ میں اور یہاں تک کہ قانون ساز اداروں میں بھی کبھی کوئی ایسی بات کہہ جائے یا حرکت کر بیٹھے جو زیادہ تر لوگوں کو ناپسند ہو، جس سے بیشتر لوگ اختلاف رکھتے ہوں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک موضوع  پر الگ رائے رکھنے والے کو سب مل وہیں زد وکوب کرنا شروع کردیں گے؟ کیا ملک سے قانون کی حکمرانی کا دور اٹھ گیا ہے ، اور کیا قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے والے اتنے بے پروا اور لاپروا ہوگئے ہیں کہ انہیں کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ اس سے بھی بڑا سوا ل یہ ہے کہ ان سب حرکتوں میں ملوث افراد یہ کیسے سمجھائیں گے کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ اپنے وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار ہوکر کررہے ہیں۔ کیا اپنی ماں سے محبت کرنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس کے انگ انگ کو زخمی کردیا جائے؟ اس کے دوسرے سپوتوں کو زمین پر گھسیٹ گھسیٹ کر مارا جائے؟ اس کو عدالت میں بھی تحفظ نہیں ملے، تو اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ملک کو وطن سے محبت کرنے کا دعویٰ کرنے والے لوگ کہا ں لے جارہے ہیں۔
ہماری پریشانی تو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اوپر ہورہے مظالم کو تو برداشت کرلیتے ہیں مگر وطن سے بھکتی کے نام پر جب کوئی ہندوستان کی عزت وآبرو سے کھلواڑ کرتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے تو اسے سمجھا بھی نہیں پاتے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں کے حالات کو بدسے بدتر ہوتے ہوئے دیکھنے کے باوجود ’میک ان انڈیا‘ کے یہ متوالے ہندوستان کو کیسا انڈیا بنانا چاہتے ہیں، سمجھ سے بالا تر ہے۔

ان کو یہ بات کب سمجھ میں آئے گی اور کون انہیں سمجھا ئے گا کہ جب تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو کھلے ذہن سے سوچنے کی آزادی نہیں ہوگی، بولنے سے پہلے ان کے لب سل دیے جائیں گے، عوام کی حفاظت کے لیے بنائی گئی پولس قانون کی نہیں حاکموں کے اشارے پر کام کرے گی، عدالتوں میں بغیر قانونی چارہ جوئی کے فیصلے صادر ہی نہیں کیے جائیں گے بلکہ ان پر عمل آوری بھی ہوگی، تو پھر بھلا وہ کون سا ہندوستان ہوگا؟ کیسا بھارت ہوگا اور انڈیا کی کیا صورت ہوگی؟ کیا اس سے یہ نہیں لگتا ہے کہ کسی بھی راستے پر انسان اپنے ہاتھ پاؤں سمیٹ کر چلنے کی بجائے ادھر ادھر لات گھونسے مارتا چلے گا۔ کوئی بھاگتا نظرآئے گا، کوئی اسے بھگاتا ہوا ملے گا۔ کہیں کوئی گرا پڑا ہوگا اور کچھ لوگ اسے چڑھ چڑھ کر ماررہے ہونگے۔ ذرا غور کیجیے، کیا اپنے ہندوستان کو اسی سمت میں لے جانے کی کوشش نہیں ہورہی ہے؟ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہاں وطن عزیز کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے، تو پھرخاموش کس وجہ سے ہیں، کیا یہ آپ کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے کہ ملک کو اندرونی اور باہری خطروں کے وقت اس کے دفاع کے لیے آگے آئیں۔ آپ سینہ سپر ہوجائیں۔ ظلم کتنا کیا جائے گا، کتنے لوگوں کو اس کا شکار بنایا جائے گا، اور اگر ظلم کیا بھی گیا تو کیا ملک کی حفاظت کے لیے ، اپنے وطن کے بہتر مستقبل کے لیے آپ ان پولس والوں کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرسکتے جو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں طالب علموں اور صحافیوں پر ہورہے حملوں کو خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہے تھے؟ کیا انہیں یہ احساس دلانے کی ذمہ داری سے آپ آزاد ہوگئے ہیں کہ پولس کا کام عوام کی حفاظت کرنا ہے؟ اگر ذہن کے کسی گوشے میں آپ نے یہ خیال خام پال لیا ہے کہ جن کو لات جوتے اور گھونسے پڑرہے ہیں، وہ جانیں، ہم تو محفوظ ہیں، تو یہ آپ کی بہت بڑی غلطی ہے۔ ظالم اپنے پنجے اسی طرح پھیلاتا ہے۔ وہ اپنے شکنجوں کو اسی طرح کستا ہے، اور آہستہ آہستہ سب کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ یہ آزادی مفت میں نہیں ملی ہے۔ بڑی قربانیاں دی گئی ہیں۔ اس آزادی کی حفاظت کے لیے بھی برسوں سے وطن عزیز کے بہت سے جیالے قربانی دیتے رہے ہیں۔ کچھ تو خاموشی کے ساتھ شہید ہوجاتے ہیں، ان کی آخری رسم بھی نہیں منائی جاتی ۔حال ہی میں سیاچین کے برفیلے پہاڑوں پر آئے طوفان کی زد میں آکر ملک کے ۹؍ نوجوان شہید ہوگئے ۔ گذشتہ کم وبیش ۳۰؍ برسوں میں ۹۰۰؍ نوجوانوں نے سیاچین کے علاقے میں اپنی جانیں دی ہیں۔ سرحدوں پر قربان ہونے والے دوسرے جانبازوں کی تعداد بے شمار ہے۔ گویا آزاد رہنے کے لیے ہمیں ہر وقت قربانی دینی پڑتی ہے۔ سب سے بڑی آزادی بولنے کی آزادی ہے۔ اسی آزادی کو چھینا جا رہا ہے۔ ٹی وی کے معروف صحافی رویش کمار نے ٹھیک ہی کہا ہے جب آپ سے بولنے کا حق چھین لیا جائے گا تو پھر سوچیے، آپ کیسے نظرآئیں گے؟ آپ کے پاس کیا رہ جائے گا؟

مضمون لکھنے سے پہلے ۱۷؍ فروری کو تازہ خبریں پڑھیں۔ معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ نے پٹیالہ ہاؤں کورٹ میں جے این یو طلبہ یونین کے صدر کو بطور ملزم پیش کیے جانے کے دوران حفاظت کا پورا انتظام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ابھی اس خبر کو پڑھنے کے بعد یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سب کچھ کیا اب عدالتیں ہی کریں گی، تبھی معلوم ہوا کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پھر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ طالب علموں اور صحافیوں پر حملے ہوئے۔ پولس ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ ایک ذمہ دار ملک کا ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے سبھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز ہندوستان کو ایسی حالت سے نکالنے کے لیے متحد ہوں۔ ہندوستان رہے گا تو سب کا ساتھ اور سب کا وکاس بھی ہوگا۔ شاید اچھے دن بھی آجائیں۔ ہندوستان اور یہاں کے عام لوگوں کی آزادی ہی نہیں رہے گی تو پھر سب کا ساتھ کیسے ملے گا ، اور سب کے وکاس کا کیا ہوگا؟ ہندوستان دنیا کی رہبری کرسکتا ہے، لیکن اس طرح نہیں ۔ یہ کام دوسرے ممالک کررہے ہیں۔ ہندوستان کو ایک مہذب ملک بنائے رکھنا ہے ، اس لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ، اور خود سے الگ رائے رکھنے والوں کو غدار وطن کہنا حب الوطنی ہے ، تو پھر اس فہرست میں ہمارا نام ہرگز نہیں ہوگا۔مناسب سمجھیں تو آپ اپنے بارے میں سوچ کر خود کو بتادیں، دوسروں کو سند دینے اور دکھانے والے تو آج کل بہت گھوم رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *