کیجریوال توجہ دیں

ممتاز میر
گذشتہ دنوں یعنی ۲؍اپریل کے اخبار میں دو دلچسپ خبریں نظر سے گذریں۔ہمیں لگتا ہے دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔قارئین کی نذر ہے کہ وہ ہوشار رہیں۔
پہلی خبر میں ہے کہ ایک سروے کے مطابق پنجاب کے آئندہ اسمبلی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کوریاست کی کل۱۱۷ ؍سیٹوں میں سے ۹۵؍ سے ۱۰۰؍تک سیٹیں مل سکتی ہیں ۔اسی سروے کے مطابق پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے سب سے زیادہ مقبولیت اروند کیجریوال کو حاصل ہے۔پنجاب کے عوام چاہتے ہیں کہ کیجریوال دلی کی وزارت علیا اپنے کسی ساتھی کے حوالے کرکے پنجاب آجائیں۔ان کے بعد عوام کی دوسری پسند کیپٹن امرندر سنگھ ہیں۔Arvind Kejriwal
دوسری خبر کے مطابق مشہور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کی بیوی نوجوت کور نے بی جے پی پنجاب اکائی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔نوجوت سنگھ سدھو خود بھی بی جے پی کی طرف سے رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔سدھو اپنے زمانے میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز رہ چکے ہیں۔سدھو نے نہ اپنے کرکٹ کیرئر میں کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام دیانہ اپنے سیاسی کیرئر میں۔اور خود انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے، اس لیے ٹی وی شوز میں خوب لفاظی کرتے رہتے ہیں اور چونکہ ہمارے ناظرین بھی بڑے سطحی ہیں اس لیے ان کی بھونڈی باتوں پر خوب قہقہے لگتے ہیں۔مگر ان میں ایک خوبی بھی ہے،وہ یہ کہ وہ فرقہ پرست نہیں ہیں۔اب ایسے شخص کو یہ شکایت پیدا ہو گئی ہے کہ پارٹی دونوں میاں بیوی کونظر انداز کررہی ہے۔یعنی انہیں پارٹی کی پالیسی سے فکر و نظر سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔گذشتہ دو سال سے پارٹی کے چھٹ بھیوں نے ملک میں جو دھما چوکڑی مچا رکھی ہے، خوب بولنے والے سدھو نے اس پر آج تک ایک لفظ بھی نہیں بولا۔نہ حمایت میں نہ مخالفت میں۔ارے بھئی۔ انوپم کھیر کو دیکھو۔بیوی کی تقویت کے لیے کیسے کیسے ڈرامے اسٹیج کر رہے ہیں۔پارٹی کی نظر کرم، ٹی وی پربھونڈے مذاق پیش کرنے سے نہیں ملنے والی ۔اس کے لیے انوپم کھیر جیسا خود کو وقف کردینے کا جذبہ دکھانا ہوگا ۔کان ناک ،آنکھ اور عقل بھی بند کرکے ملک سے عدم رواداری کا عدم وجود ثابت کرنا ہوگا۔بہرحال سدھو سے یہ کچھ نہ ہو سکا۔اور اب ان کا من بی جے پی سے ہی اچٹ گیا ہے۔مگر وہ جانا کو ن سی پارٹی میں چاہتے ہیں ۔جی ہاں، عام آدمی پارٹی میں ۔بڑی حیرت کی بات ہے۔جناب وہاں تو بی جے پی سے بھی زیادہ کارکردگی کی ضرورت پڑے گی ۔بی جے پی میں تو بڑے بڑے مہارتھی زبانی کارکردگی پر چل رہے ہیں۔ہمیں نہیں لگتا کہ عام آدمی پارٹی میں یہ سب چلے گا ۔مگر ڈرتے ہیں ۔یہ سیاست ہے اور وہ بھی ہندوستان کی۔اس لیے ہمارا سدھو کو مشورہ ہے کہ وہ دل بدلنے کے لیے جس پارٹی کا انتخاب کر رہے ہیں اس پر نظر ثانی کریں۔بیچاری عام آدمی پارٹی ہندوستانی سیاست میں بڑی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔اسے بخش دیں۔ کیجروال کو بھی ہمارا مشورہ ہے کہ اس قسم کے گھس پیٹھ کرنے والوں سے ہوشیار رہیں ورنہ جلد ہی آپ کا حال بھی سڑی ،بدبو دیتی ہندوستانی سیا سی پارٹیوں سے مختلف نہ ہوگا۔وہ لوگ جن کو پارٹی پالیسی سے، فکر سے، نظریے سے دلچسپی نہ ہو وہ کبھی بھی دھوکا دے سکتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *