عام اردو قارئین تک کتابوں کی رسائی ضروری: پروفیسر ارتضیٰ کریم

اردو ادب پینل کی میٹنگ کا انعقاد

ncpul-meetingنئی دہلی: ایسی نادر و نایاب پرانی کتابیں جو فی الوقت کچھ خاص لائبریریوں اور ذاتی کتب خانوں کی زینت بنی ہوئی ہیں وہاں تک عام اردو قارئین کی رسائی ممکن نہیں ہے۔ ایسی کتابوں کو کونسل اپنی اشاعتی اسکیم میں ترجیحی طور پر شامل کرنا چاہتی ہے تاکہ محبان اردو اس سے استفادہ کرسکیں۔ اس ضمن میں کونسل سے عبدالقادر سروری کی دو اہم کتابیں ’کردار اور افسانہ یعنی دنیائے افسانہ‘ اور ’اصول افسانہ نگاری‘ جلد ازجلد شائع ہوکر منظر عام پر آرہی ہیں۔ یہ باتیں کونسل کے صدر دفتر میں منعقدہ اردو ادب پینل کی میٹنگ میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کا ایک نکاتی پروگرام اردو کا فروغ ہے اور اس سمت میں تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے۔ ہمیں نہ صرف تمام پینل کے ممبران سے مدد مل رہی ہے بلکہ موجودہ حکومت ہند کی خاص عنایت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتابوں کی اشاعت میں جو تاخیر ہوتی ہے، اس کی بڑی وجہ پروف ریڈر اور کمپوزر کی شدید کمی ہے۔ اس بات پر تمام ممبران نے متفقہ طور پر پروف ریڈر اور کمپوزر کی بحالی کی منظوری دی۔
اس پینل کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد (شیخ الجامعہ مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی) نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو مسودے اور پروپوزل آتے ہیں اسے حتمی صورت دینے میں تمام ممبران پوری شفافیت کے ساتھ فیصلہ لیتے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے پائے۔ اس موقع پر بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کہا کہ یہاں علاقائیت اور عصبیت سے بالاتر ہوکر فیصلے لیے جاتے ہیں تاکہ ملک کے کسی خطے کے ساتھ سوتیلے پن کا اظہار نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پینل میں جو ممبران ہوتے ہیں وہ ملک کے طول و عرض سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر قمر جہاں، پروفیسر سلیمہ بی کولور اور محترمہ مہ جبیں غزال نے بھی اپنے قیمتی آرا سے نوازا۔
میٹنگ میں قومی اردو کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک ) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، محترمہ آبگینہ عارف اور ڈاکٹر شاہد اختر نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *