رشتہ داروں سے بہتر سلوک نہیں کرنے والوں سے اللہ ناراض ہوتا ہے: قاسم مظفرپوری

مدھوبنی (پریس ریلیز) بابوبڑھی بلاک میں واقع بستی ترہوتا میں دوروزہ عظیم الشان تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ کانفرنس نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا جس میں علاقہ بھر کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور علماء کرام کے مواعظ حسنہ سے بعد نماز عشاء تا فخر مستفیدہوتے رہے۔اس کانفرنس کاآغاز قاری ابوحمزہ قاسمی صاحب بونسی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ کانفرنس کی صدارت پروفیسرعابدحسین اورحضرت مولانا قاسم صاحب مظفرپوری نے فرمائی جب کہ کانفرنس کی نظامت منفرد لب و لہجے کے ناظم مولانا ڈاکٹر عبدالودود قاسمی نے کی۔ یوپی سے تشریف لانے والے شعراء شاداب اعظمی اور شاہ خالد مؤناتھ بھنجن کے علاوہ اشفاق کریمی اور علاقہ کے اُبھرتے ہوئے شاعر نعمت اللہ کے کلام کو منت اللہ نے پیش کیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا قاسم مظفرپوری نے اصلاح معاشرہ پر بات کی اور شریعت میں رشتہ داروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے اس پر گفتگو کی اور کہا کہ جو شخص اپنے رشتہ داروں سے محبت نہیں کرتا یا اُس کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا یا اُس کی خبر نہیں لیتا یا کوئی شخص اپنے رشتہ داروں سے دُوری بنا لیتا ہے ایسے شخص سے اللہ ناراض ہوتا ہے کیوں کہ رشتہ داروں سے ساتھ حسن سلوک نہیں کرنے اور اس کی خبرگیری نہیں کرنے والے کی موت اچھی نہیں ہوتی۔ حضرت نے مسلمانوں سے خاص اپنی تقریر میں کہا کہ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھیں اور اس کے ساتھ بہتر سلوک کریں ۔ اس دوران کانفرنس میں بطور مہمان پہنچے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم کوسماجی، فلاحی، ملی اور تعلیمی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں ’’حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔وہیں قومی تنظیم مدھوبنی کے بیورو چیف عاقل حسین کو بہتر صحافتی خدمات کے اعتراف میں ’’مولانا ابوالکلام آزادؒ ‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ روزنامہ راسٹریہ سہارا اُردو کیے بیوروچیف شاہدکامران کو بھی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ’’عزیز برنی ‘‘ ایوارڈ، قومی تنظیم کے مظفرپور بیوروچیف ڈاکٹر محمدشہاب الدین کے صحافتی و سماجی خدمات کے اعتراف میں ’’شاہد رام نگری ‘‘ ایوارڈ اور قومی تنظیم کے جھنجھارپور کے بلاک نمائندہ محمدعلی حسن کے صحافتی و علمی خدمات کے اعتراف میں ’’اجمل فرید‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔کانفرنس سے خطاب کرتا ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے کہا کہ تواریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم میں معراج پاکر ہی دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی ہے اور جب بھی مسلمان علم و فن اور تعلیم سے دُور ہوئے ہیں وہ غلام بنا لئے گئے ہیں یا جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقع سے خود کو محروم کیا ہے وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ کیوں کہ قرآن مجید میں لگ بھگ پانچ سو مقامات پر بالواسطہ یا بلاواسطہ حصول تعلیم کی اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے۔ علم کی فرضیت کا براہ راست بیان بے شمار احادیث میں بھی آیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حصولِ علم مسلمانوں پر بلاتفریق مرد و زن پر فرض ہے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیا‘‘اور پیارے رسول ﷺ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ حصولِ علم خواتین کے لئے بھی اُسی طرح فرق ہے جیسے مردوں کے لئے ہے، اس لئے تعلیم ہر صورت میں حاصل کرنا چاہئے اور حصولِ تعلیم کے فرض ہونے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خداپرستی، عبادت، محبت، خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اور نیک معاشرہ کی تشکیل ہوسکتی ہے۔انہوں نے آگے کہا کہ اس پرآشوب اور جدید ترین دَور میں تعلیم کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے، اسکولوں میں جاکر بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔ جدید علوم پر دسترس کے بغیر دُشمنانِ اسلام کا مقابلہ ناممکن ہے۔ اس لئے آج اِس کانفرنس کے موضع پر ہم عہد کریں کہ اپنے معاشرہ کو صد فیصد تعلیم یافتہ بنائیں گے۔ ان شاء اللہ۔اخیر میں انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعہ ملک بھر میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ اِن سے ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حوصلہ اور دانشمندی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، یہ وقت جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لینے کا ہے۔ جذبات سے مغلوب ہوکر کوئی کام ہرگز نہ کیا جائے،اس سے مسلم دُشمن طاقتوں کو ناپاک سازشیں رچنے کا موقع ملے گا۔اسی طرح ہم ملکی قوانین کے محافظ بنیں، کسی قیمت پر اُن کی خلاف ورزی نہ کریں، صبر سے کام لیں، یہ دیش ہمارا ہے، ہم اِس کے بھی محافظ ہیں اور اس کے آئین و دستور اور قوانین کے بھی محافظ ہیں۔ ہمیں اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے اپنی زندگی کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات ذہن نشیں رہے کہ ہر طرح کی مصیبت و پریشانی کی بنیاد ہماری بداعمالیاں ہیں، سماج کوبہتر بنانے اور اس میں پھیلی ہوئی خرابیوں کو دور کرنے کی جدوجہد اگر اس وقت نہ کی گئی تو مستقبل میں حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے اور کہیں جائے پناہ بھی نہیں ملے گا، ایسے حالات میں حکومت اور انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے تمام باشندوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کریں، اگر کچھ لوگوں سے قانون کی پابندی کرائی جائے گی اور دوسرے گروہ کو غنڈہ گردی کی کھلی چھوٹ دے دی جائے گی تو دیش کا امن و امان تباہ ہوجائے گا اور ہمارا یہ ملک اور خطہ خانہ جنگی کا شکار ہوکر ترقی کی راہ سے بھٹک جائے گا۔ حکومت کے ذمہ داران کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اقتدار کی کرسی تک اِن کو خدا نے ہی پہنچایا ہے اور اگر اُس کی مخلوق پر ظلم ہوگا تو وہ کرسی چھین لے گا، کیوں کہ ظلم اس دھرتی کا سب سے بڑا پاپ ہے، جس سے خدا کو سب سے زیادہ نفرت ہے۔ سیکولر عوام، حکومت اور انتظامیہ کے لئے کٹھن گھڑی میں غیرجانبدارانہ نظام ضروری ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بنارہے اور صبروتحمل کے ساتھ ساتھ شرپسندوں کے منصوبے کوناکام بنانا پورے معاشرہ کی ذمہ داری ہے۔اس جلسہ سے خطاب کرنے والے علماء میں قاضی حبیب اللہ قاسمی،خ قاضی عمران قاسمی ، مولانا طارق انور سیتامڑھی، مولانا محمدصدیق بونسی، مولانا احمد حسینی دلدار نگر یوپی، مولانا چترویدی کے علاوہ نامور سماجی کارکن الحاج ڈاکٹرشمیم احمد نے شادی بیاہ کی بے جا رسومات اور جہیز سے متعلق بڑی بیش قیمتی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس نبی رحمت کے ماننے والے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے سارے فرمان پر عمل کریں اور اپنے درمیان سے جہیز جیسی لعنت کو ختم کریں۔مذکورہ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ محمد مجیب الرحمن، نورالہدیٰ زخمی، ضیاء اللہ، ماسٹرمحمدعرفان، انجینئرمحمدانور،جمیل اختر، مولانا صابررحمانی کے نام اہم ہیں۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *