مرکزی حکومت کے فیصلے سے مچی افراتفری

ہزار پانچ سو کے کرنسی نوٹ پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لگائی اچانک پابندی، کالے دھن پر سرجیکل اسٹرائیک کا کیا دعویٰ، عام لوگ ہیں پریشان، فیصلہ کے حامی کہتے ہیں: کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے

نئی دہلی(نامہ نگار):
وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل رات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو نصف شب سے بند کرنے کا جیسے ہی اعلان کیا ، ہرطرف افراتفری مچ گئی۔ بہت سے لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر اے ٹی ایم کی طرف دوڑے لیکن وہاں بھی انہیں مایوسی ہی ہاتھ لگی ۔ اے ٹی ایم مشینوں سے کم لوگ ہی سوروپے کے کرنسی نوٹ نکال پائے۔ دوسری طرف بہت سے لوگوں نے سونا اور چاندی کی خریداری کی، جس سے دونوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ درج کیا گیا۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں لوگوں سے کہا کہ وہ گھبرائیں نہیں ، حکومت نے سارا انتظام کررکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ لوگ پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ بینکوں اور پوسٹ آفسوس سے بدل سکتے ہیں۔ ایک دن میں صرف چار ہزار روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے لیے بدھ کو بینکوں کو بند رکھا گیا۔ جمعرات سے بینک کھولے جائیں گے، جبکہ اے ٹی ایم جمعہ کو کھلے گا۔ اے ٹی ایم سے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ دوہزار روپے نکالے جاسکتے ہیں جبکہ بینک سے ایک دن میں ۱۰؍ہزار لیکن ہفتے میں صرف ۲۰؍روپے ہی نکالنے کی اجازت ہے۔
حکومت نے لوگوں کو اپنے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو بدلنے کے لیے۱۵؍دنوں کاوقت دیا ہے، جبکہ انہیں بینک کھاتوں میں آئندہ ۳۰؍دسمبر تک جمع کرایاجاسکتا ہے۔ وزیراعظم مودی کے اعلان کے مطابق آئندہ پندرہ دنوں میں ہرایک فرد صرف ۶۰؍ہزار روپے تبدیل کرواسکتا ہے۔ اسی طرح اگلے اعلان تک ہر ہفتے فی کس صرف ۲۰؍ ہزارروپے کی نکاسی کی جاسکتی ہے۔ البتہ رقم کو چیک یا آن لائن ٹرانسفرکرنے کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ گویا آن لائن خریداری یا کسی بل کی ادائیگی پہلے کی طرح ہی معمولل کے مطابق کی جاسکتی ہے۔
عام لوگ ہوئے پریشان
حکومت کے فیصلے کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑا ہے۔ خاص طور سے روزانہ تھوڑے بہت نقدی سے گھربار چلانے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کہنے کو تو حکومت نے اسپتال، ریلوے اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کے لیے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ کے استعمال کی اجازت ۱۲؍نومبر تک دے رکھی ہے، لیکن ۹؍نومبر کو ہی اکثر جگہوں پر خردہ یا کھلے پیسے نہیں ہونے کا بہانے پانچ سو اور ہزار روپے کا نوٹ لینے سے منع کرتے دیکھا گیا۔ پٹنہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں ہزار روپے کے نوٹ ۸۰۰؍ روپے میں بدلے جارہے ہیں۔ اسی طرح کئی شہروں میں چھوٹے دکانداروں نے اپنی دکانیں بند رکھیں کیونکہ ان کے پاس چھوٹے کرنسی نوٹ نہیں تھے۔ پٹرول پمپ پر بھی افراتفری مچی رہی۔ دوپہیا گاڑی والے زیادہ پریشان نظر آئے ۔ مرکزی حکومت کے فیصلے نے کچن کو بھی شدید طور سے متاثر کیا ہے۔ سبزی ترکاری کی خریداری کم ہونے سے چھوٹے کسانوں اور کارباریوں پر منفی اثر پڑا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *