اس سے پہلے کہ دیرہوجائے!

اسفر فریدی بہاراسمبلی کے انتخابات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب تک جن ۸۹سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوئی ہے، اس کے حوالے سے سیاسی asfar-faridyپارٹیاں اپنی اپنی جیت کے دعوے کررہی ہیں۔ میڈیا جو اب تک ایک طرفہ رپورٹنگ کررہا تھا، اس کے رجحانات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اس سب کے باوجود سیکولر ووٹروں اور خاص طور سے مسلم ووٹروں کی ذمہ داری کم نہیں ہوئی ہے۔ بہار اسمبلی کا الیکشن دوسرے رائے دہندگان سے زیادہ مسلم رائے دہندوں کے لیے امتحان ہے۔ اس میں ذرا سی بھی چوک کے لیے انہیں بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اس لیے ان کے لیے ضر وری ہے کہ وہ ایسی پارٹیوں کے امیدواروں کو ووٹ دیں جن کو وہ حکومت بناتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے امیدواروں کے جھانسے میں ہرگز نہیں آئیں جو قوم کے نام پر تو ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن وہ ان پارٹیوں کی حکومت بنانے میں مددگار ہونگے جنہیں آپ ناپسند کرتے ہیں۔  بہار میں دو بڑے اتحادکے علاوہ کئی چھوٹی چھوٹی پارٹیاں انتخابی میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ آزاد امیدوار بھی قوم کی قیادت کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔اردو اخبارات میں ان کے اشتہارات بھی آرہے ہیں۔ان کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ انہیں جو بھی ووٹ ملیں گے اس سے جنتادل متحدہ ، راشٹریہ جنتادل اور کانگریس پر مشتمل مہاگٹھ بندھن کو نقصان کو بی جے پی کی سربراہی والے این ڈی اے کو فائدہ ہوگا۔اس سے یہ اندیشہ بہت قوی ہوجاتا ہے کہ ایسے رہنما دوچار سو یا ہزار دو ہزار ووٹ لے کر آپ کے مستقبل کو تاریک بنا سکتے ہیں۔

اس لیے ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بہار اور ملک کے دوسرے حصوں میں سرگرم سیاسی پارٹیوں نے سیکولرزم کے نام پر اقلیتوں کو دھوکہ ہی دیا ہے۔ اس کے باوجود انتخابی سیاست کی شکل وصورت اور مجبوریوں سے آگاہی ضروری ہے۔بہار اور قومی سطح پر پورے ملک میں اب تک رائے دہندگان کو سب سے اچھی پارٹی کا انتخاب کرنے کا موقع میسر نہیں آیا ہے۔ اس لیے باشعور ووٹر سب سے کم بری پارٹی اور اس کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ بہارمیں اقلیتی طبقے کے ووٹروں کو بھی اسی حکمت عملی کا انتخاب کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *