اردو کے نقادوں کے درمیان ’’غالب کی معنویت‘‘ پر مثبت بحث

قاضی افضال حسین نے شریف حسین قاسمی اور خالد علوی کے بعض نکات کی تردید کی، جب کہ نصیر احمد خاں کی بات کو سمجھ ہی نہیں پائے سامعین

دائیں سے بائیں: جی آر کنول، پروفیسر نصیر احمد خاں، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر قاضی افضال حسین، پروفیسر سلیل مسرا
دائیں سے بائیں: جی آر کنول، پروفیسر نصیر احمد خاں، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر قاضی افضال حسین، پروفیسر سلیل مسرا

نئی دہلی، ۲۱ فروری (ڈاکٹر قمر تبریز): غالب اکیڈمی نے اپنے ۴۷ویں یومِ تاسیس اور غالب کی ۱۴۷ویں یومِ وفات کے موقع پر منعقد کی جانے والی سالانہ تقریبات کے دوسرے روز آج ’’غالب کی معنویت‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا۔ سیمینار میں جہاں ایک طرف اردو کے مشہور و معروف نقاد پروفیسر قاضی افضال حسین، پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر نصیر احمد خاں اور پروفیسر شریف حسین قاسمی موجودہ تھے، وہیں دورِ حاضر کے نوجوان ادیب ڈاکٹر خالد علوی، ڈاکٹر کوثر مظہری، ڈاکٹر ابوبکر عباد، ڈاکٹر احمد محفوظ وغیرہ نے بھی اپنے مقالات پیش کیے۔

سیمینار میں دلچسپ موڑ تب آیا، جب پہلے اجلاس کے اختتام پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تشریف لائے پروفیسر قاضی افضال حسین نے اپنی صدارتی تقریر کے دوران خاص کر پروفیسر شریف حسین قاسمی اور ڈاکٹر خالد علوی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ دراصل، پہلے اجلاس کے دوران جن ۹ حضرات نے اپنے مقالے پیش کیے، ان میں یہ دونوں حضرات بھی شامل تھے۔ اپنے مقالہ میں پروفیسر شریف حسین قاسمی نے یہ نشاندہی کی کہ غالب نے اپنی شاعری میں فارسی اور اردو شاعری میں پہلے سے چلی آ رہی روایتوں کی پیروی تو کی ہی، لیکن بعض مروّج الفاظ و تراکیب کو نئے معنی بھی عطا کیے۔ انھوں نے خاص طور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ مُردوں کو پھونک کر زندہ کردینے کے واقعہ کو فارسی اور اردو شاعری میں کیسے استعمال کیا گیا ہے، اس پر تفصیلی روشنی ڈالی اور دعویٰ کیا کہ غالب نے اس واقعہ کو جس طرح اپنی شاعری میں برتا ہے، ویسی مثال فارسی شاعری میں اُن سے پہلے کہیں نہیں ملتی۔ اُن کی اس بات کی قاضی افضال حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں تردید کی اور کہا کہ اس پر کبھی اور تفصیلی بحث ہو سکتی ہے۔

Seminar_Ghalib ki Ma'avaviat (18)

دوسری طرف ڈاکٹر خالد علوی نے غالب کی مشکل پسندی اور ’’نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا‘‘ کے حوالے سے اپنے مقالہ میں کہا تھا کہ غالب نے اس واقعہ کو ایران سے مستعار لیا ہے اور وہاں کی حکایت کو اس مصرع میں نقل کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر افضال حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ غالب کی شاعری ایرانی رسم و رواج کی مرہونِ منت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر غالب کے اشعار آپ کو مشکل لگتے ہیں، تو یہ غالب کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ آپ کا مسئلہ ہے، آپ اپنے اندر صلاحیت پیدا کیجئے، پھر بات کیجئے۔‘‘

پہلے اجلاس کے آخری مقالہ نگار جواہر لعل نہرو نیورسٹی کے سابق پروفیسر نصیر احمد خاں تھے۔ انھوں نے اپنے مقالہ میں غالب کی شاعری میں استعمال کیے گئے اسلوب پر تفصیلی روشنی ڈالنی چاہی، لیکن چونکہ سامعین میں یونیورسٹی کے اساتذہ کو چھوڑ کر اُن کی بات کو سمجھنے والا کوئی تھا ہی نہیں، اس لیے ان کے مقالہ پڑھنے کے دوران کئی بار لوگوں نے بے چینی کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے وہ اپنی بات پوری نہیں کر پائے۔ حالانکہ پروفیسر نصیر احمد خاں یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ غالب کی شاعری میں انگریزی گرامر کے ’’کنسونینٹ‘‘ (سی) اور ’’واویل‘‘ (وی) کا اتنا شاندار طریقے سے استعمال کیا گیا ہے کہ غالب کی ہر غزل کو بلا جھجک گایا جا سکتا ہے۔ پروفیسر قاضی افضال حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں نصیر احمد خاں کی اس کاوش کی تعریف کی اور بتایا کہ اردو ادب میں غالب کی شاعری پر اس نظریہ سے اب تک کوئی کام نہیں ہوا ہے اور نصیر احمد خاں صاحب کو اسے آگے بڑھانا چاہیے۔

Seminar_Ghalib ki Ma'avaviat (33)

دوسرا اجلاس دوپہر کے کھانے کے بعد شروع ہوا، جس کی نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر قمر تبریز کو دی گئی۔ کھانا کھانے کے بعد چونکہ زیادہ تر سامعین وہاں سے غائب ہو چکے تھے، اس لیے قمر تبریز نے مائک سنبھالتے ہی اردو والوں کی اس حرکت کو قابل افسوس بتایا اور کہا کہ جو لوگ ہال میں بچ گئے ہیں، وہ تو پہلے سے ہی اردو ادب اور غالب کے ماہرین ہیں۔ سیمینار کا مقصد اردو کے اُن شائقین کو غالب کی شاعری کے بارے میں بتانا اور سمجھانا تھا، جو ان کی غزلوں کو سن کر محظوظ ہوتے ہیں، لیکن بعض الفاظ کے معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے اس سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوپاتے۔ دوسرے اجلاس میں ڈائس پر صدور کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر قاضی جمال حسین اور دہلی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ابو بکر عباد موجود تھے۔ اس سیشن میں کل ۷ لوگوں نے اپنے مقالے پڑھے، جن میں ڈاکٹر احمد محفوظ اور ڈاکٹر ابو بکر عباد کے مقالات کی خاص طور سے تعریف کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر پروفیسر قاضی جمال حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں اُن باتوں کو خاص طور سے اجاگر کیا، جو احمد محفوظ اور ابوبکر عباد نے اپنے مقالے میں پیش کیے گئے، البتہ ابوبکر عباد کے ذریعے معشوق کو بار بار ’’مذکر‘‘ کے بجائے ’’مؤنث‘‘ کہنے پر قاضی جمال حسین نے اعتراض کیا۔ دوسرے اجلاس کے آخری مقالہ نگار کے طور پر قاضی افضال حسین نے بھی غالب کی ایک نئی غزل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے غالب اکیڈمی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد کو مبارکباد دی کہ انھوں نے اس بار سیمینار کا نیا طریقہ ایجاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ عقیل صاحب نے غالب کی ایک ہی غزل مختلف مقالہ نگاروں کو بھیجی اور یہ دیکھنا چاہا کہ اس غزل کی معنویت کو کون کس طریقے سے پیش کرتا ہے۔ سیمینار میں آنے کے بعد ان مقالہ نگاروں پر یہ راز فاش ہوا کہ کئی لوگوں کو ایک ہی غزل بھیجی گئی تھی۔ سیمینار کرانے کے اس نئے طریقہ کو ایجاد کرنے کے لیے تقریباً سبھی نے غالب اکیڈمی کے سکریٹری کی تعریف کی۔ سیمینار کے اخیر میں عقیل احمد نے بتایا کہ دراصل یہ فیصلہ اکیڈمی کے صدر پروفیسر شمیم حنفی کا تھا، جس پر انھوں نے عمل کیا۔ مجموعی طور سے یہ سیمینار نہایت کامیاب رہا اور یہ پتہ چلا کہ غالب کی شاعری کے چند پہلو اب بھی ایسے ہیں، جن پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *