بھارت ماتا کی جے کا نعرہ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں :امیر جماعت

مرکز جماعت میں ماہانہ پریس کانفرس کا انعقاد
DSC00097نئی دہلی، ۲؍ اپریل(پریس ریلیز) جماعت اسلامی ہند کا احساس ہے کہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتیں وطن پرستی کی بحث اس لیے چھیڑ ر ہی ہیں تاکہ ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا ملے اور قومی اتحادکو ٹھیس پہنچے۔وہ بڑی عیاری سے ان لوگوں کوملک کا دشمن ٹھہرانے پر تلی ہوئی ہیں جو ان کے مخصوص نظریات کی پیروی نہیں کرتے۔وطن پرستی کے اس ڈھونگ کے پیچھے حکومت کی ہوس،اقلیتوں پر ظلم اور ان تمام افرادکی مخالفت مقصود ہے جو ان کی سازشی ہنیت سے اتفاق نہیں رکھتے۔اس بحث کو چھیڑنے کی ایک اور وجہ آنے والے اسمبلی انتخابات بھی ہیں جن میں فسطائی طاقتیں سماج کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔این ڈی اے حکومت کی دوسالہ کارکردگی انتہائی ناکام اور عوام مخالف ہونے کی وجہ سے یہ طاقتیں عوام کے سامنے دوبارہ کسی تعمیری ایجنڈے کے ساتھ جانے سے خوفزدہ ہیں۔ایک عمومی فسطائی حربہ یہ ہے کہ عوام کو تشدّد اور دھونس و دھاندلی کے ذریعہ وطن پرستی کا ثبوت دینے پر مجبور کیا جائے۔ان خیالات کااظہار مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت نے مرکز جماعت میں منعقد ماہانہ پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مولانا عمری نے دہشت گردی کے ملزموں کی برائت کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی ہند کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جن لوگوں پر دہشت گردی کا جرم ثابت ہوجائے صرف ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔عدل کا بنیادی تقاضا ہے کہ ایک شخص اس وقت تک بے قصور ہے جب تک اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہوجائے۔جماعت سیکیورٹی ایجنسیوں کی نااہلیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے ۔جماعت کا یہ مطالبہ ہے کہ ایسے افسروں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ وہ پھر بے گناہوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔جب تک ان افسروں کو عبرت ناک سزائیں نہیں ملیں گی اس وقت تک وہ اپنی ترقی اور پروموشن کے لیے بے گناہوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے رہیں گے۔اس مطالبہ کے تحت فوجداری قانون کی دفعہ ۱۹۷؍کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا عمری نے کہا کہ وندے ماترم،بھارت ماتا کی جے جیسے نعروں کا استعمال مسلمانوں کے لیے جائزہ نہیں اور دستور بھی ہمیں ایسے نعروں کا پابند نہیں بناتا۔ جماعت دار العلوم دیوبندکے فتویٰ کی تائید کرتی ہے۔
نائب امیر جماعت نصرت علی نے یکساں سول کوڈ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ جماعت اسے ملک کے لیے نا قابل عمل چیز مانتی ہے اور اسے دستور کے ذریعہ دیے گئے مذہبی آزادی کے مخالف سمجھتی ہے ، اس لیے جماعت ہمیشہ اس کی مخالفت کرتی ہے۔
مستقبل قریب میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے متعلق بات کر تے ہوئے محمد احمد، سکریٹری جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ جماعت نے آسام میں کل ۱۲۶؍سیٹوں میں ۱۱۴؍امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں سے ۹۹؍امیدوار وں کا تعلق کانگریس سے اور۱۵؍کا یوڈی ایف سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے حلقوں سے متعلق جماعت کے فیصلوں کا بھی اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کی ابتدا میں جماعت کے سکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈمیں گاؤ رکشا کے نا م پر مسلمانوں کا بے رحمی سے قتل اور کچھ مخصوص نعروں کو زبردستی بلوانے کے واقعات نے ہندوستان کی تصویر کو بین الاقوامی سطح پر مجروح کیا ہے اور مرکزی حکومت کے اصل ایجنڈے کا پردہ فاش کیا ہے۔جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان اس وقت ایک بہت نازک دور سے گذر رہا ہے ۔ وقت کا تقاضاہے کہ تمام جمہوریت اور امن پسند لوگ متحد ہوکر فسطائی طاقتوں کا مقابلہ کریں اور تشددکا جواب امن اور بھائی چارگی سے دیں ورنہ یہ ملک تیزی سے جنگل راج کی کھائی میں گرتا چلا جائے گا۔ انجینئر محمد سلیم نے کولکاتا میں فلائی اوور حادثہ پر شدید غم کا اظہار کیا اور اسے کرپشن کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت سمجھتی ہے کہ اخلاقی قدریں اور جواب دہی کے احساس کی عدم موجودگی نے کرپشن کو پروان چڑھایا ہے جو ملک کے لیے سمّ قاتل ہے۔ تقویٰ اور آخرت کا خوف ہی اس بیماری کا علاج ہے، محض سخت سزاؤں سے کرپشن کو روکا نہیں جا سکتا۔ برسلزاور لاہور میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں پر بات کرتے ہوئے سکریٹری جنرل نے اس کی سخت مذمت کی اور کہا کہ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کچھ نام نہاد اسلامی تنظیموں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جو کہ اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ مجروح کرنے کی ایک سازش ہے۔بین الاقوامی طاقتوں کو چاہیے کہ دہشت گردی کے چیلنج کا متحد ہو کر سامنا کریں لیکن ساتھ ہی اس معاملہ میں سیاسی سوجھ بوجھ بھی ملحوظ رکھاجائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *