بھوپال انکاﺅنٹر ’قانون کا قتل‘: نازیہ الٰہی خان

سپریم کورٹ کی زیر نگرانی تفتیش کے لیے صدر جمہوریہ اور وزیراعظم کوعرضداشت

کولکاتا (پریس ریلیز):

بھوپال جیل میں قید کالعدم تنظیم اسلامک اسٹوڈنٹس موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے ۸ زیر سماعت قیدیوں کے مبینہ فرار اور پھر ان کو انکاﺅنٹر میں ہلاک کردیے جانے کے معاملے کو پورے ملک میں شک و شبہ کی نظرسے دیکھا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس کی اس کارروائی پر ملک کے ہر کونے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

’بھوپال انکاﺅنٹر‘ کو ’قانون کا قتل‘ قرار دیتے ہوئے ایڈووکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محترمہ خان کی جانب سے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری اور وزیراعظم نریندر مودی مکتوب کو عرضداشت بھی پیش کی گئی ہے۔

عرضداشت کی نقل یہاں نامہ نگاروں کو سونپتے ہوئے فورم فار آر ٹی آئی ایکٹ اینڈ اینٹی کرپشن کی سربراہ ایڈووکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرہ کے لیے قانون کی حکمرانی اولین چیز ہوتی ہے لیکن مدھیہ پردیش کی پولیس نے ایک خاص طبقہ کی دشمنی میں زیر سماعت قیدیوں کو ’قتل‘ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ قانون اور عدالتی نظام انصاف وغیرہ سے ماوراء ہیں اور اپنے صوابدیدی اختیارات کو ہی ملک کا قانون سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پولیس مقابلے کے سلسلے میں ۲۰۱۴ء میں کچھ رہنما اصول وضع کیے تھے لیکن مدھیہ پردیش کی حکومت اور پولیس نے سپریم کورٹ کو بھی انگوٹھا دکھاتے ہوئے ماورائے عدالت قتل کا ارتکاب کیا ہے جس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیے۔

ایڈووکیٹ نازیہ الٰہی خان نے اپنی عرضداشت میں صدر جمہوریہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے آئینی سربراہ ہونے کے ناطے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے، عدالتی نظام انصاف کو انگوٹھا دکھانے والے پولیس اور حکمرانوں کے اس اقدام کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ٹیم تشکیل دیں۔ اپنی عرضداشت میں انہوں نے مدھیہ پردیش کی حکومت اور پولیس کی جانب سے انکاﺅنٹر کے سلسلے میں پیش کی گئی وضاحتوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی سوالات بھی کیے ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ جیل میں قید ملزمین کے پاس اسلحہ کہاں سے آئے، آئی ایس او ۱۴۰۰۱-۲۰۰۴ سرٹی فائیڈ ہائی سیکورٹی بھوپال سینٹرل جیل کے سی سی ٹی وی کیمرے کیوں بند رہے۔ جیل کی ۳۰ فٹ اونچی چہار دیواری میں دوڑتی بجلی نے دیوار کودنے والے ملزموں کو اپنی لپیٹ میں کیوں نہیں لیا، فرار کے وقت جیل کا دیگرعملہ کہاں سویا ہوا تھا اور بیک وقت آٹھوں ملزمین کو مار گرانا کیوں ضروری ہوا۔ فرار کے واقعہ کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے کسی ایک کو صرف زخمی کیوں نہیں کیا گیا؟ اور جیل سے فرار ہوتے ہی انہیں عام کپڑے کیسے مل گئے اور وہ اتنی جلدی بھوپال کے دور افتادہ انت کھیڑی گاﺅں کیسے پہنچ گئے۔

محترمہ خان نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد اور آئین کے تحفظ کے لیے اس معاملے میں مداخلت کریں اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس معاملے کی تفتیش اور تحقیقات کی راہ ہموارہ کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں نظام انصاف کے عمل کی سست روی بھی اس طرح کے ماورائے عدالت قتل کی وجہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انصاف کے عمل کو تیز گام کیا جائے اور خصوصی عدالتیں اور جج مقرر کیے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *