بڑا سوال: کون سنبھالے گا ایم كروناندھی کی وراثت

نئی دہلی: ملک میں قومی اور خاص طور سے تمل ناڈو کی سیاست میں گزشتہ تقریبا 60 برسوں سے اہم کردار ادا کرنے والے ایم کروناندھی یعنی موتوویل کروناندھی نہیں رہے. انہوں نے منگل، 7 اگست کو شام میں مقامی وقت کے مطابق 6 بج کر 10 منٹ پر آخری سانس لی. ایم کروناندھی کے انتقال کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تمل ناڈو کی علاقائی سیاست میں کون لیڈر ان کی جگہ لے گا.

ایم کروناندھی، فائل فوٹو

یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ گزشتہ 6 دہائی سے تمل ناڈو میں کسی نے کسی شخص کے ارد گرد سیاست کا پہیہ گھومتا رہا ہے. پہلے ڈی ایم کے یعنی ڈراوڈ مونیتر كجگم کے بانی کاجیورم نٹراجن نے کمان سنبھالی. 1969 میں ان کے انتقال کے بعد ایم کروناندھی پارٹی کے صدر بنے لیکن جب ایم جی رام چندرن نے ڈی ایم کے سے الگ ہو کر اے ڈی ایم كے یعنی انا درمک مونیتر کجگم بنائی جو بعد میں اے آئی ای ڈی ایم یعنی آل انڈیا انا درمک مونیتر کجگم ہو گئی، تو 1987 میں اپنی موت تک وہ تمل ناڈو کی سیاست کا مرکز بنے رہے.  ایم جی رام چندرن نے 1972 میں اپنی پارٹی اے ڈی ایم کے  قائم کی اور 30 جولائی 1977 کو پہلی بار تمل ناڈو کے وزیر اعلی بنے. تمل ناڈو کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے معروف صحافی جے آر شرن بتاتے ہیں کہ جب تک ایم جی آر رہے، ایم کروناندھی کی اقتدار میں واپسی نہیں ہوسکی. دلچسپ بات یہ ہے کہ 1950 کی دہائی میں ایم کروناندھی ہی ایم جی آر کو ڈی ایم کے میں لے کر آئے تھے. لیکن انادورئی کے انتقال کے بعد دونوں میں سیاسی جھگڑا ہو گیا اور ڈی ایم کے کے معاصر صدر ایم کروناندھی نے ایم جی آر کو پارٹی سے نکال دیا.

جے آر شرن کہتے ہیں کہ ایم کروناندھی کی موت کے بعد تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے. جے. جے للیتا اور پھر ایم کروناندھی کی موت سے تمل ناڈو کی سیاست میں جو جگہ خالی ہوئی ہے، اس کو بھرنے کا قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے پاس اچھا موقع ہے. یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کے ساتھ ہی کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے لیے ایک چنوتی بھی ہے. انہوں نے کہا کہ ایم کروناندھی کی جو شخصیت تھی، اس کی بھرپائی تو مشکل ہے لیکن ان کے بیٹے ایم کے اسٹالن یعنی موتوویل کروناندھی اسٹالن میں اپنے والد کی سیاسی وراثت سنبھالنے کی صلاحیت ہے. یکم مارچ 1953 کو پیدا ہوئے ایم کے اسٹالن 1975 سے سیاست میں سرگرم ہیں اور گزشتہ 10 برسوں سے ڈی ایم کے کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں. پارٹی کے اندر انہوں نے اپنی گرفت مضبوط بنا رکھی ہے. جے آر شرن نے کہا کہ ایم کے اسٹالن کو ان کے والد ایم کروناندھی نے ایک طرح سے اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا. انہوں نے اپنے بڑے بیٹے ایم کے الاگری کو پارٹی سے بھی نکال دیا تھا. دراصل، ایم کے الاگری اپنے والد کی سیاسی وراثت سنبھالنا چاہتے تھے، لیکن انہیں یہ موقع نہیں ملا جس سے ناراض ہو کر انہوں نے 2011  کے اسمبلی انتخابات اور 2014  کے لوک سبھا انتخابات میں ڈی ایم کے کو نقصان پہنچایا. جے آر شرن نے کہا کہ جنوبی تمل ناڈو میں ایم کے الاگری کا اچھا اثر و رسوخ ہے.

ایم کے اسٹالن کے علاوہ سیاست میں نیا نیا قدم رکھنے والے دو بڑے فلم اداکار رجنی کانت اور کمل ہاسن بھی تمل ناڈو کی سیاست میں بڑا رول ادا کر سکتے ہیں. دونوں کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں لیکن وہ سیاسی طور پر اپنے پسندیدہ اداکاروں کی کتنی حمایت کرتے ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *