انتخابی مہم میں اترے اخبارات

Newspapers published from Patnaپٹنہ، ۲۶؍ اکتوبر: ایک طرف جہاں الیکشن کمیشن بہار اسمبلی انتخابات کے دوران پیڈ نیوز کی بیماری پر روک لگانے کی کوشش کررہا ہے، وہیں ریاست کی راجدھانی پٹنہ سے شائع ہونے والے بیشتر اخبارات بی جے پی کی سربراہی والے قومی جمہوری اتحاد( این ڈی اے) کو تین چوتھائی سے بھی زیادہ کوریج دے کر کچھ اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں۔

ریاست میں تیسرے مرحلے کے لیے ۲۸؍ اکتوبر کو ۵۰ اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے لیے ۲۶؍ اکتوبر کو انتخابی مہم ختم ہوگئی۔ لیکن اس دن پٹنہ سے شائع ہونے والے زیادہ تر اور خاص طور سے ہندی کے اخبارات نے بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کو دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں اتنا زیادہ کوریج دیا ہے کہ بعض لوگ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ ایک بار پھر میڈیا نے این ڈی اے کو جتانے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھالی ہے۔

پٹنہ کے راجہ بازار علاقے کے رہنے والے راجیو کمار کہتے ہیں:’’میڈیا تو اب اتنا بدل گیا ہے کہ نہ ٹی وی پر خبر دیکھنے کا من کرتا ہے اور نہ ہی اخبار پڑھنے کو جی کرتا ہے۔ عوام جس کو چاہیں گے اسی پارٹی یا گٹھ بندھن کی جیت ہوگی۔ لیکن میڈیا والے کو صحیح خبر دینا چاہیے نا، مگر وہ تو لگتا ہے ایک ہی پارٹی کا پرچار کررہے ہیں۔ یہ تو غلط بات ہے۔ ‘‘

وہیں نزدیک ہی کے سمن پورہ علاقے میں رہنے والے مرشد کہتے ہیں:’’یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ میڈیا کو جہاں سے مال ملتا ہے، وہ اسی کے گن گانے لگتا ہے۔ اگر ملک کا میڈیا ٹھیک ڈھنگ سے کام کرتا تو بہت سی پریشانیاں ویسے ہی حل ہوجاتیں۔‘‘

مرشد نے اپنا پورا نام بتانے سے منع کردیا اور کہا : دیکھیے، دنیا جانتی ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ آج کے اخبارات کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ انتخابی میدان میں اترنے والی سبھی پارٹیاں یکساں ہوتی ہیں۔ آپ کسی کو چھوٹی یا بڑی نہیں کہہ سکتے۔ اگر ایسا ہوتا تو چھوٹی پارٹیوں کو الیکشن لڑنے سے منع کردیا جاتا۔دوسرے انتخابی مہم میں اپنی پارٹی یا اتحاد کے لیے حصہ لینے والا کوئی وزیر یا وزیر اعظم نہیں ہوتا۔ وہ اپنی پارٹی کا لیڈر ہوتا ہے۔ میڈیا والوں کو کسی بھی لیڈر کے بارے میں لکھنے یا بولنے سے پہلے اس بات کا دھیان دینا چاہیے۔ مگر کس کو اس بات کی فکر ہے۔ ملک اور یہاں کے عوام کہیں جائیں ، میڈیا اور اس کی آزادی کا بیڑہ غرق ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جن کا ساتھ دے رہے ہیں، اگر وہ جیت گئے تو سب کی چاندنی ہوجائے گی۔ سب اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

میڈیا پر لگنے والے اس طرح کے سنگین الزامات کی وجہ بھی ہے۔ آج پٹنہ سے شائع ہونے والے کئی ہندی اخباروں نے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی بڑی بڑی تصویروں کے ساتھ مختلف صفحات پر الگ الگ سرخیوں کے تحت جگہ دی ہے۔ وہیں بعض اخبارات نے تو پورے کے پورے صفحے پر صرف بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی خبریں شائع کی ہیں۔ کئی اخبارات نے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے لیڈر سشیل کمار مودی کا انٹرویو شائع کیا ہے۔مہاگٹھ بندھن کی خبریں اس طرح پیش کی گئی ہیں جیسے خالی جگہوں کو پر کیا گیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *