جاگوصاحب، دیر ہورہی ہے!

asfar-faridyاسفر فریدی
بہار اسمبلی انتخابات کے لیے ا ب صرف ۱۰۴ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل باقی ہے۔ اس سے پہلے تیسرے مرحلے کے اختتام کے ساتھ ہی ۱۳۹ سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل پورا گیا۔ اس میں کس اتحاد کے حق میں ووٹروں نے اپنا فیصلہ سنایا ہے، اس کا انکشاف نتائج ہی سے معلوم ہوسکے گا،لیکن جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے دوسرے لیڈران کی زبان سے متعصبانہ جملے ادا ہورہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جناب کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔
گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کا نعرہ دے کر ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے والے نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد اس طرح کے جملے کا استعمال کریں گے ، کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ریزرویشن کے مسئلے پر آرایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے ذریعے اٹھائے گئے سوال کے بعد بیک فٹ پر آئی بی جے پی کو وزیر اعظم نے جس طرح فرقہ وارانہ رنگ دے کر دلدل سے نکالنے کی کوشش کی ہے، وہ ملک کے لیے نہایت ہی خطرناک ہے۔ بی جے پی کے لیڈر کے طور پر وہ فرقہ وارانہ صف بندی کے لیے کوشاں رہے۔ وہ ان کی پارٹی کی کھلی پالیسی ہے لیکن وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی اگر وہ انتخابی مہم کے دوران تقریر کرتے ہوئے اپنے مخالفین پر دلتوں اور پسماندوں کے ریزرویشن کوٹہ میں سے کاٹ کر ایک مخصوص فرقہ یعنی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی سازش کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو یہ صرف دکھ کی بات ہی نہیں بلکہ خطرناک حدتک تشویشناک بھی ہے۔
دراصل موہن بھاگوت نے اسی لیے ریزرویشن کا راگ چھیڑا تھا۔ ریزرویشن کے سوال پر ایک عرصے سے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسے مذہب کی بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اب تک مذہب کی بنیاد پر ہی ریزرویشن دیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر درج فہرست ذات یا قبیلہ سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص مسلمان یا عیسائی ہوجاتا ہے تو اس کو ریزرویشن کے تحت ملنے والی مراعات سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریزرویشن اصل میں ذات کی بنیاد پر نہیں بلکہ چند ایک مخصوص مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کو ریزرویشن کی سہولت فراہم جو مخصوص ذات اور قبیلے سے آتے ہیں۔ اسی لیے ملک کے مسلمان اور وہ لوگ جو ملک کے سبھی فرقوں کو ترقی کے راستے پر دیکھنا چاہتے ہیں، اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن ریزرویشن کی مراعات سے غریب مسلمانوں کو محروم رکھنے کی سازش کے تحت اس مطالبے کو یہ کہہ کر ٹالا جارہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن آئین کے خلاف ہے۔اب سوال یہ کہ بہار اسمبلی انتخابات کے دوران اس مسئلے کو اچھالنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ آرایس ایس کی سربراہی میں کام کرنے والی بی جے پی ایک تیر سے کئی نشانہ لگانا چاہتی ہے۔ ایک طرف وہ اعلیٰ ذات کے لوگوں کو اپنے حق میں صف آراء کرنا چاہتی ہے اور دوسری جانب دلتوں، پسماندوں اور کمزوروں کو مسلمانوں کے خلاف متحد کرنا چاہتی ہے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کے ووٹ کی طاقت کو ختم کرنا ہے۔ انہیں سیاسی اعتبار سے حاشیے پر کھڑا کرنا ہے تاکہ جو سیکولر اور نیم سیکولر جماعتیں ووٹ کے لیے ہی سہی ، ان کے حق میں آواز اٹھاتی رہی ہیں وہ بھی بی جے پی کے رنگ میں رنگ کر صرف اکثریتی فرقہ کے حق کی بات کرنے لگ جائیں۔ اس میں وہ لوگ بھی جانے انجانے آرایس ایس اور بی جے پی کا ساتھ دے رہے ہیں جو اپنا ووٹ اپنی قیادت کا نعرہ بلند کررہے ہیں۔ ان کی ان حرکتوں سے ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کو مضبوطی مل رہی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے اگراسمبلی اور پارلیمنٹ میں انہیں نمائندگی نہیں مل رہی ہے تو اس کے لیے دوسرے راستے ہیں۔ مذہب کی بنیاد پر پارٹی بنالینے سے وہ مسائل حل نہیں ہونگے۔ دوسرے یہ کہ اس طرح کی حرکت کرنے سے چند ایک ریاست میں زیادہ سے زیادہ چار پانچ ارکان اسمبلی میں پہنچ سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ان کی تعداد اور بھی کم ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ اگر مسلمان اپنی قوم اور اپنی قیادت کی بات کرنے لگیں گے تو پھر دوسروں کے ایسا کرنے پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا یہی مطلب ہوگا کہ بی جے پی جو کررہی ہے وہ درست کررہی ہے۔ اس لیے مسلمانوں اور ملک کے سیکولرعوام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آرایس ایس کے بچھائے ہوئے دام میں آنے سے بچیں۔ اگر آج وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو کل بہت دیر ہوجائے گی۔
بہار کے جن اسمبلی حلقوں میں آئندہ یکم نومبر اور ۵نومبر کو انتخابات ہونے ہیں، وہاں کے ووٹروں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک کے مستقبل کی تقدیر لکھنے میں ان کے ایک ایک ووٹ کا اہم کردار ہوگا۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے ووٹ کی قیمت اور اہمیت نہیں سمجھتے ہیں تو کل ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ ملک کو فرقہ واریت اور تناؤ کی بھٹی میں جھونکنے سے بچانے کے لیے انہیں ایک سنہری موقع ملا ہے۔ اس کااظہار پہلے بھی کیا جاچکا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں بہار کی جنگ جیتنے کے لیے ہر داؤ کھیل رہی ہیں۔ لیکن عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں شکست دے سکتے ہیں۔ انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان سب کا ہے۔ سب مل کر جب تک ایک ساتھ نہیں رہیں گے، ایک ساتھ کام نہیں کریں گے ، ایک ساتھ سپنے اور خواب نہیں دیکھیں گے تب تک اس کی ترقی ممکن نہیں ہے۔
اس لیے صرف بہار کو ہی نہیں بلکہ ہندوستان کو بھی بچانے کے لیے ان طاقتوں کو شکست دینا ہوگا جو ترقی اور روزگار کا خواب دکھاکر گاؤں محلوں میں ایک کو دوسرے کے خلاف اکسانے کی بات کررہے ہیں۔ بہار یا ہندوستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں امن وامان ہوگا اور لوگ دن میں بے خوف ہوکر کام کریں گے اور رات میں چین سے سو سکیں گے۔ گذشتہ کم وبیش ڈیڑھ سال سے ملک کے طول وعرض میں حالات کو جس طرح سے کشیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان سے صاف ظاہر ہے کہ دیش بھکتی کے لبادے میں ملک دشمنی کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس لیے وطن پرستوں اور انسان دوستوں کو متحد ہوکر ان طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔بہار اور ہندوستان میں ترقی کے آسمان چھونے کے بہت زیادہ امکانات ووسائل ہیں۔ ان کا استعمال اسی وقت ممکن ہے جب حالات ٹھیک رہیں گے۔اس لیے مسلمانوں اور سیکولر ووٹروں کو ایک طرف جہاں ان طاقتوں سے نبرد آزما ہونا ہے جو فرقہ واریت کا زہر گھول رہے ہیں اور دوسرے ان قوتوں کو بھی پہچاننا ہوگا جو چولا بدل کر ان کے درمیان گھوم رہے ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج اگر یہ بتانے میں ناکام رہے کہ لوگوں نے مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک پر امن بہار اور ہندوستان کے لیے ووٹ دیا ہے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مستقبل قریب میں حالات اور بھی زیادہ خراب ہونے والے ہیں۔ ایسے میں یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ کیسا بہار اور کیسا ہندوستان چاہتے ہیں۔ وہ جیسا بہار اور جیسا ہندوستان چاہتے ہیں، انہیں اسی کے مطابق اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔
(بشکریہ روزنامہ انقلاب،۲۹؍اکتوبر ۲۰۱۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *