یہ اچھی بات نہیں ہے

اسفر فریدی

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے آخری مرحلے میں ۵۷ حلقوں میں ۵؍ نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس سے پہلے آج انتخابی مہم کا شور تھم جائے گا۔ لیکن ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے دیگر رہنماؤں نے جس طرح کی زبان اور جن ہتھ کنڈوں کا استعمال کیا ہے ، اسے ملک کے مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں قرار دیا جاسکتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی بار بار فرقہ وارانہ بنیاد پر دلتوں، مہا دلتوں، آدیباسیوں اور پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کوٹے میں سے ایک مخصوص فرقہ یعنی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی ’سازش‘ کا مہاگٹھ بندھن کے لیڈروں پر الزام لگارہے ہیں۔ اس طرح ایک طرف وہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے سماج کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری جانب ایک سچ کو چھپارہے ہیں۔ یہ دونوں باتیں ہندوستان جیسے عظیم ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتیں۔

وزیر اعظم ہونے کے ناطے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ریزرویشن کا جو فارمولہ فی الحال ذات پات کی بنیاد پر رائج ہے، وہ مذہبی شناخت کے ساتھ جڑا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص درج فہرست ذات کا ہے اور ہندو، سکھ یا بدھ اور جین ہے تو اس کو ریزرویشن کے تحت مراعات دی جاتی ہیں۔ لیکن وہی شخص اگر اسلام قبول کرلیتا ہے یا پھر عیسائی ہوجاتا ہے تو اس سے وہ مراعات چھین لی جاتی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مودی اپنی انتخابی ریلیوں میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کے دوسرے حلیفوں پر جو دلتوں، مہادلتوں اور پسماندہ طبقات کے حصے میں سے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا الزام لگارہے ہیں، وہ بے بنیاد ہے۔ وہ عوام سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ۱۹۸۴ء کے سکھ مخالف فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ آخر وہ اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ایک غلط کام یا واقعہ دوسرے غلط کام یا واقعے کو درست ٹھہراسکتا ہے؟انہیں تو اس سلسلے میں اس لیے بھی خاموش رہنا چاہیے کیونکہ ان کے اپنے دور حکومت میں گجرات نے تاریخ کا بدترین فرقہ وارانہ فساد دیکھا ہے۔ اس کی ذمہ داری آج تک کسی پر عائد نہیں کسی جاسکی ۔ آخر کوئی تو اس کا ذمہ دار ہوگا، کسی کو تو ان انسانیت سوز مجرمانہ وارداتوں کے لیے سزا ملتی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ گجرات میں ۲۰۰۲ ء کے فرقہ وارانہ فسادات کے چند ایک معاملے میں دوچار افراد کو

سزا ضرور ہوئی مگر اس کی سازش رچنے والے آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ وزیر اعظم ہونے کے ناطے نریندر مودی کو سکھوں کے قتل عام کا درد ہونے کے ساتھ ہی گجرات اور ملک کے دوسرے حصوں میں مارے گئے اور مارے جارہے کمزوروں، محروموں اور اقلیتوں کے لیے بھی درد ہونا چاہیے۔
نریندر مودی کو گجرات فسادات کے حوالے سے اس وقت ملک کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ’راج دھرم نبھانے ‘ کی تلقین کی تھی۔ اگر اٹل بہاری واجپئی آج صحتیاب ہوتے اور بول سکتے تو اپنے انداز میں وہ شاید یہی بولتے’یہ اچھی بات نہیں ہے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *