بہار میں مہاگٹھ بندھن کی عظیم جیت

پٹنہ، ۸؍ نومبر: بہار اسمبلی انتخابات میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی سربراہی والے مہا گٹھ بندھن نے بی جے پی کی زیر قیادت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کو شکست فاش دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ کی لیڈر شپ میں الیکشن لڑنے والے این ڈی اے کو گذشتہ لوک سبھا میں

دبئی میں-مقیم بہار کے محمد فاروق ٹی وی پر بہاراسمبلی انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے
دبئی میں-مقیم بہار کے محمد فاروق ٹی وی پر بہاراسمبلی انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے

زبردست جیت کے بعد یہ دوسری ہار نصیب ہوئی ہے۔ راشٹریہ جنتادل ، جنتادل متحدہ اور کانگریس پر مشتمل مہاگٹھ بندھن پر بہار کے عوام نے بھروسہ کیا اور اسے ریاست کی ۲۴۳ رکنی اسمبلی میں ۱۷۸ سیٹوں پر کامیابی دلائی۔اس میں لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتادل ۸۰ سیٹوں پر جیت کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جبکہ جنتادل متحدہ کو ۷۱ نشستوں پر کامیابی ملی اور کانگریس نے ۲۷ اسمبلی حلقوں میں اپنے جھنڈے لہرائے۔
اسی کے ساتھ دوتہائی اکثریت کے ساتھ جیت کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کے کھاتے میں صرف ۵۳سیٹیں آئیں جبکہ اس کی حلیف جماعتوں ہندوستانی عوام مورچہ (سیکولر) ایک اور لوک جن شکتی پارٹی و راشٹریہ لوک سمتا پارٹی دودو سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے ۵؍ نومبر کو ووٹنگ کا عمل پورا ہونے کے بعد صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک رہنے والے ہندوستانی بھی بڑی بے صبری سے انتخابی نتائج کا انتظار کررہے تھے۔ آج صبح سویرے سے ہی ملک و بیرون ملک کے مختلف گوشوں میں لوگ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کا حال جاننے کے لیے ٹی وی، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے سامنے نظریں جمائے بیٹھے رہے۔ ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو سبقت ملنے سے اس کے حامی خوشی سے جھومنے لگے تھے۔ چند ایک پرجوش کارکنوں نے تو پٹاخے داغے اور مٹھائیاں تک تقسیم کیں لیکن ان کی خوشی بہت دیرتک قائم نہیں رہ سکی اور وہ مہاگٹھ بندھن کے حامیوں کے حصے میں چلی آئی ۔

ووٹوں کی گنتی کا عمل جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، مہاگٹھ بندھن کے حامیوں کی بھیڑ راجدھانی پٹنہ کے علاوہ دوسرے شہروں ، قصبوں اور گاؤں میں خوشیاں منانے سڑکوں پر اترنے لگی۔ لوگ ووٹوں کی گنتی کی پل پل بدلتی تصویر سے ایک دوسرے کو مطلع کرتے نظرآئے۔ سہرسہ ضلع کے ہریوہ اور کسمہی میں بھی لوگ ٹی وی اسکرین کے سامنے صبح سے دیر شام تک بیٹھے رہے۔ یہی حال ریاست کے بیشتر گاؤوں کا رہا۔
ادھر بہار سے باہر ملک و بیرون ملک میں رہنے والے ریاست کے شہریوں نے بھی انتخابی نتائج کا حال جاننے میں کافی دلچسپی دکھائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *