پپو یادو نے عوام سے معافی مانگی

مدھے پورہ، ۱۳؍ نومبر: رکن پارلیمنٹ اور جن ادھیکارپارٹی کے قومی کنوینر راجیش رنجن عرف پپو یادو نے انتخابی مہم کے دوران اپنے غیرمہذب بیانات کے لیے عوام سے معافی مانگی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کچھ ایسی باتیں ہوئیں جو غیرشائستہ تھیں، ان سے غلطی ہوئی ہے اور اس کے لیے وہ دل کی گہرائیوں سے عوام سے معافی مانگتے ہیں۔

راجیش رنجن عرف پپو یادو، قومی کنوینر جن ادھیکار پارٹی
راجیش رنجن عرف پپو یادو، قومی کنوینر جن ادھیکار پارٹی

واضح ہوکہ پپو یادو نے اپنی ایک انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ اگر راشٹریہ جنتادل کے لیڈر لالو پرساد کے دونوں بیٹے الیکشن جیت گئے تو ہ سیاست سے کنارہ کشی کرلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ لالو پرساد اور نتیش کمار نے برسوں تک بہار کے عوام کو بیوقوف بنایا ہے، انہیں ٹھگنے کا کام کیا ہے جس کے لیے ریاست کے عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے اور الیکشن میں مہاگٹھ بندھن کو بھاری شکست کا منھ دیکھنا پڑے گا۔

چارہ گھوٹالہ معاملے میں لالو پرساد کے ماخوذ ہونے اور جیل جانے کے بعد پپو یادو یہ خواب پالنے لگے تھے کہ اب وہی سب سے بڑے یادو لیڈر ہونگے اور راشٹریہ جنتادل کی کمان ان کے ہاتھوں میں آجائے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں زبردست ہار کا سامنے کرنے والے جنتادل متحدہ کے لیڈر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے لالویادو کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اس سے پپو یادو کو اپنے ہاتھوں سے یادو لیڈرشپ کی کمان جاتی نظر آئی ۔ اسی لیے انہوں نے مہاگٹھ بندھن اور لالو پرساد کے خلاف بیان بازی شروع کردی تھی۔

حالیہ اسمبلی انتخابات میں انہوں نے ملائم سنگھ یادو کی سربراہی والی سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا ۔ نتیجے کے طور پر ان کے اپنے لوک سبھا حلقے میں بھی جن ادھیکار پارٹی کے امیدوار کی بری ہار ہوئی ۔ اس کے بعد ہی پپو یادو نے عوام اور لالو پرساد سے معافی مانگی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لالو پرساد اپنے پرانے ساتھی کو واپس راشٹریہ جنتادل میںآنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ویسے پپو یادو نے اپنے غیرمہذب بیانات کے لیے عوام سے معافی مانگ کر ایک نظیر قائم کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *