ڈوب سکتا ہے بی جے پی کا جہاز

انتخابات کے طویل عمل سے گذر کر ۸؍ نو مبرکو بہار کے نتائج آگئے ۔حسب توقع مودی اینڈ کمپنی کی یہ دوسری کراری ہار ثابت ہوئی ہے۔سب سے بڑی اور سب سے زبردست شکست مودی اینڈکمپنی کی دہلی میں ہوئی تھی جو کئی معنوں میں بالکل الگ تھی۔بہار میں سارے کے سارے کھلاڑی پرانے ، آزمودہ کار اور ماہر تھے۔مگر دلی میں ایک نوآموز نے انہیں خاک چٹا دی تھی ۔انہیں اسی وقت اپنے منہ پر پڑنے والے طمانچے کا احساس ہو جانا چاہیے تھا مگر سنگھ کی تربیت میں انسان کو بے شرم بنانے کا عنصرسب سے قوی ہے ۔اس لیے سنگھی ہر طرف سے پڑنے والے طمانچوں کے باوجود بے مزہ نہیں ہوتے اور وہی حرکتیں دہراتے رہتے ہیں جن کی بنا پر عوام، اور خواص بھی ان کو طمانچے مارتے ہیں۔امید تو یہی ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی وہ بس اوپر اوپر سے لیپا پوتی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔

حالیہ انتخابات میں بھی سنگھ اور اس کے پرچارکوں نے خود اپنی حماقتوں سے لالو اور نتیش کو کئی ایسے نکات تھالی میں سجا کر پیش کیے جس کو دونوں نے بخوبی کیش کیا۔مثلاً انتخابی مہم کے بالکل ابتداء میں مودی جی نے بہاریوں کے ڈی این اے کی بات کرکے بہاری عوام کو بھڑکا دیا۔

پھر بہار میں جنگل راج کی بات کی گئی جبکہ ہر وہ شخص جس کے سر میں آنکھیں ہیں،بلکہ آنکھیں نہ ہونے والا شخص بھی دیکھ رہا ہے کہ جنگل راج کی کیفیت تو قومی راجدھانی دہلی کے آس پاس ہے، اور اس جنگل راج کو برقرار رکھنے میں خود سنگھیوں کا ہاتھ ہے۔دہلی میں ایک دن میں چار چار گینگ ریپ ہوتے ہیں اس کے باوجود مرکزی حکومت پولس کو دہلی حکومت کے ماتحت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔موہن بھاگوت کا ریزرویشن پر بیان بھی لالو اور نتیش کی مدد کے لیے ہی تھا۔لوگ اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بی جے پی کی سربراہی والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا سب سے بڑا دوست شاید پاکستان ہی ہے ۔این ڈی اے جب بھی مصیبت میں ہوتا ہے پاکستان کچھ نہ کچھ ایسا کرتا ہے جس سے وہ مصیبت سے باہر نکل آتا ہے۔گروداس پور اٹیک کے بعد اب کوئی نہ بی جے پی کی کرپٹ مہارانیوں کا ذکر کرتا ہے نہ ویاپم گھوٹالے کا۔

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی ہار سے سب سے زیادہ خوشی بہاری بابو شترو گھن سنہا کو ہوئی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔امت مودی جوڑی نے انہیں کہیں کا نہیں رکھنے کی کوشش کی تھی۔یہ بڑی عجیب انسانی نفسیات ہے کہ انسان اسی درخت کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتا ہے جس پر اس کا آشیانہ ہوتا ہے۔یہ شاہی دور میں بھی ہوتا تھا اور جمہوری دور میں بھی ہو رہا ہے۔مسٹر مودی ہراس شخص کو حاشیہ پر پہنچا رہے ہیں جس نے انہیں یہا ں تک پہنچانے میں دام درم مدد کی اور جس سے ان کو رتی برابر بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

اب آئیے، حالیہ انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہیں۔مہا گٹھ بندھن یا عظیم اتحاد میں راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) یا لالو پرساد کو ۸۰ سیٹیں ملی ہیں۔جنتادل متحدہ (جے ڈی یو) یا نتیش کمار کو ۷۱اور کانگریس کے حصے میں۲۷ سیٹیں آئیں۔ کانگریس کی کامیابی کا سہرا بھی عظیم اتحاد ہی کو جاتا ہے۔ راہل گاندھی کی محنت یا شخصیت کا اس میں کوئی کمال نہیں۔ہونا تو یہی چاہیے کہ اب کانگریس راہل گاندھی کو درمیان سے ہٹا کر الیکشن لڑے۔کانگریسیوں کو اس بات کا مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ وہ اب ہر جگہ ایک جونیر پارٹی بن چکی ہے اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ ان کی منافقت یا نرم ہندتو کی پالیسی کا ہے ۔

دوسری طرف این ڈی اے کی پارٹی پوزیشن بھی دیکھ لیں۔بی جے پی کو ۵۳نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کو دو دو اور جیتن رام مانجھی کی سربراہی والے ہندوستان عوام مورچہ (سیکولر) کو صرف ایک سیٹ پر کامیابی ملی۔ مانجھی کی پارٹی سے جیتنے والے خود مانجھی ہی ہیں۔ سی پی آئی ایم ایل کے حصے میں تین سیٹیں آئیں جبکہ چار سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔واضح ہو کہ ۲۰۱۰ کے اسمبلی انتخابات میں ان پارٹیوں کی پوزیشن کچھ یوں تھی:بی جے پی ۹۱،جے ڈی یو ۱۱۵،آر جے ڈی ۲۲،کانگریس چار،سی پی آئی ایک۔ایل جے پی تین۔یہ دونوں نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی اسی وقت جیت سکتی ہے جب ووٹوں کی تقسیم عمل میں آئے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی وطن عزیز کا ہر فرد جانتا ہے کہ بی جے پی آج تک انتخابات میں اپنے دم پر کبھی کامیاب نہیں ہوئی ۔ اس نے ہمیشہ حلیفوں کے کندھے پر چڑھ کر انتخابی میدان کو سر کیا ہے۔

بہار میں جب انتخابی مہم جاری تھی تب ہی تجزیہ کاروں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اس الیکشن میں این ڈی اے کی دال نہیں گلے گی۔آخری مرحلہ میں تویہ بالکل واضح ہو گیا تھا کہ این ڈی اے الیکشن ہار گیا ہے۔مگر اب ہمارا میڈیا بھی اسی مٹی کا بن گیا ہے جس کا سنگھ پریوار بناہوا ہے۔سنگھ کی لغت میں شرم و حیا نام کا کوئی لفظ نہیں ہے۔تمام واضح علامات کے باوجود کچھ ایگزٹ پول این ڈی اے کو جیتتے ہوئے دکھا رہے تھے۔اس سے بھی آگے بڑھ کر نتائج کے دن صبح نو سے ساڑھے نو بجے کے درمیان جب ووٹوں کی گنتی میں این ڈی اے لیڈ کر رہا تھا تو چینلوں کے تقریباً تمام اینکر کہہ رہے تھے کہ نتیش کی یہ ہار لالو کے ساتھ کی وجہ سے ہے۔کیا اتنا قبل از وقت اس طرح کا ریمارک دینا ٹی وی چینلوں کے اتنے ذمہ دار صحافیوں کو زیب دیتا ہے۔پیڈیا ایمبیڈیڈ صحافت کوئی نئی چیز نہیں۔گویا پیسہ لے کر خبروں کی اشاعت اور فوجی تحفظ میں رہ کر خبریں دینے کی بیماری کم و بیش ہر ملک میں نظر آئے گی۔مگر کچھ انا ، خودداری اور انفرادیت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔

بہاراسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کا سہرا بھی عظیم اتحاد ہی کو جاتا ہے۔ راہل گاندھی کی محنت یا شخصیت کا اس میں کوئی کمال نہیں۔ہونا تو یہی چاہیے کہ اب کانگریس راہل گاندھی کو درمیان سے ہٹا کر الیکشن لڑے۔

کانگریسیوں کو اس بات کا مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ وہ اب ہر جگہ ایک جونیر پارٹی بن چکی ہے اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ اس کی منافقت یا نرم ہندتو کی پالیسی کا ہے ۔

دنیا کے ایک بڑے جمہوری،طاقتور اور قابل احترام ملک کے میڈیا کی یہ روش کس نظر سے دیکھی جائے گی ؟ نیپال سے ہمارے تعلقات کو بگاڑنے میں میڈیا کا بھی کچھ حصہ ہے مگر اپنے مفاد کے لیے میڈیا کا استعمال کرنے والے حکمراں اس میں یہ شعور نہیں پیدا کرسکتے ۔میڈیا میں موجود کالی بھیڑوں کو سدھارنے کا کام میڈیا کی سفید (گوری)بھیڑوں کو ہی کرنا ہوگا۔حکومت، کلائنٹ اور منصف سبھی کو معلوم ہے کہ وکالت کا کاروبار جھوٹ پر ہی چلتا ہے ۔مگر نام کے لیے ہی سہی طلباء کو پیشہ ورانہ اخلاقیات کا سبق پڑھایا جاتا ہے جس میں بدقسمتی سے یہ بھی لکھا ہے کہ وکیل اپنی ذاتی رائے کو طاق پر رکھ ہر کلائنٹ(کم وبیش) کا کیس لے۔ اس کا مطلب کم سے کم ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس کو وہ قاتل سمجھتا ہے، اس کا کیس بھی لڑے ۔مگر صحافت کے پیشہ ورانہ اخلاقیات میں تو ایسا پیچ نہیں ہے ۔پھر اس میدان میں تو ہمارے اسلاف نے بڑی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔عوام صحافیوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ چیزوں کو بالکل ویسی ہی دکھائیں گے جیسی کہ وہ ہیں۔

عوام کی ذہن سازی مثبت بنیادوں پر ہوگی منفی پر نہیں۔اب اگر لالو پرساد اس طرح کے صحافیوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں تو کیا وہ غلط ہوگا؟اس الیکشن میں تو لالو پرساد سب سے بڑے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں۔اور سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود شیو سینا بی جے پی کی طرح وزارت اعلیٰ کی کرسی پر کوئی لڑائی نہیں ہے۔لالو سے پہلے ان کی دختر میسا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نتیش کمار کے دس سالہ ترقیاتی دور کے باوجود لالو یا آرجے ڈی سب سے بڑی پارٹی بن کر کیوں ابھری؟یہ مانا جاتا ہے کہ لالو پرساد یادو نے اپنے دور حکومت میں بہار کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیا ۔مگر اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ لالو نے اپنے دور میں فرقہ پرستوں کو پوری طرح اپنے پیروں تلے دبا رکھا تھا۔ان کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ منافرت کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔لالو پرساد فرقہ پرستوں کے جتنے بڑے دشمن ہیں، نتیش کماراپنے دور میں اتنے ہی بڑے دوست ثابت ہوئے۔ بی جے پی کی محبت میں انہوں نے بھی وہی مظالم کیے جو بی جے پی یا کانگریس کے لیے مخصوص ہیں۔ اس لیے جیسے ہی ون بائے ون فائٹ کا موقعہ آیا مسلمانوں نے اپنا سارا وزن لالو کے پلڑے میں ڈال دیا۔اب اگر نتیش کو مسلمانوں کا ووٹ لینا ہے تو ان کے پاس اپنے گذشتہ گناہوں کی تلافی کرنے کا موقعہ ہے ۔یاد رہے کہ اب سنگھی کیڈر بہار میں جنگل راج قائم کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ان سے کن آہنی ہاتھوں سے نپٹا جاتا ہے نتیش کمار یہ سبق لالو سے لے سکتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب جہاز ڈوبتا ہے تو سب سے پہلے چوہے نکل کر بھاگتے ہیں۔لوک سبھا انتخابات کے کامیاب سفر کے بعداین ڈی اے کا جہازاب بھنور میں پھنس چکا ہے ۔ مختلف انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس کے جہاز کے ڈوبنے کی ابتداء ہو چکی ہے ۔چوہوں کا بھاگنا شروع ہوا ہی چاہتا ہے ۔دوسرے جہاز کے کپتانوں کو چاہیے کہ الرٹ رہیں ۔یہ بھگوڑی مخلوق اب انہیں نشانہ بنائے گی ۔وہ لوگ جو سیکولرزم کے چاہنے والے ہیں انہیں چاہیے کہ ان سے دور رہیں ورنہ۔۔۔یہ تو پبلک ہے یہ سب جانتی ہے۔

آخر میں بزرگ صحافی حفیظ نعمانی کے ایک مضمون سے چند سطریں نقل کرتے ہیں۔اس لیے کہ ہم ان کے خیالات سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں:’’ایک بات تمام سیاسی پاٹیوں سے عرض کرنا ہے کہ بے وجہ جو یو پی، بہار اور بڑے صوبوں میں پانچ یا سات یا چار راؤنڈ میں الیکشن کرایاجاتا ہے یہ اس وقت تو ٹھیک تھا جب کہیں مار پیٹ ہو جاتی تھی کہیں بیلٹ باکس لوٹ کر لے جاتے تھے۔ کہیں دبنگ کمزوروں کو ووٹ نہیں ڈالنے دیتے تھے اور اپنے ساتھیوں براتیوں سے فرضی ووٹنگ کرا لیتے تھے۔لیکن اب جبکہ بہار کے پانچوں راؤنڈ میں ایک بھی سنگین واردات نہیں ہوئی تو دو مہینے الیکشن کا ماحول طاری کرائے رکھنا اور بڑے لیڈروں کا قیمتی وقت برباد کرنا ہرگز مناسب نہیں۔بہار میں زیادہ سے زیادہ دو راؤنڈ میں(الیکشن) ہونا چاہیے۔‘‘سوال یہ ہے کہ جن اندیشوں کی بنا پر اتنا طویل انتخابی عمل چلایا جاتا ہے وہ کس کے پیدا کردہ ہیں۔اس تعلق سے حکومت کی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ملک میں امن و شانتی بنائے رکھنا کس کی ذمہ داری ہے ؟اس سال ترکی میں دو بارالیکشن ہوئے ہیں ۔دونوں بار ووٹنگ سے لے کر نتائج تک کا عمل ۲۴؍ گھنٹوں میں مکمل ہو گیا تھا۔ہمار ے یہاں ووٹنگ سے لے کر ریزلٹ تک کا طویل عمل شایدانتخابات میں گھپلہ کے لیے ہے۔عوام بے چارے صرف اتنا سوچتے ہیں کہ ہم نیو کلیئر پاور ہیں۔اقوام متحدہ میں مستقل نشست کے دعویدار ہیں اور ڈھنگ سے الیکشن بھی نہیں کرا سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *