امتحان کا وقت ہے، گھر سے نکلو صاحب!

اسفر فریدی
ملک کے جو حالات ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ان حالات میں بہارمیں ہورہے اسمبلی انتخابات کی اہمیت کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جمہوریت کے اس تہوار میں کمزوروں، محروموں اور خاص طور سے ان طبقوں کے لیے جو لگاتارنشانہ بنائے جارہے ہیں، یہ بہت ہی سنہری موقع ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جو طالب علموں کو امتحان سے پہلے ملتا ہے۔ اس دوران جو طلبہ محنت کرتے ہیں، ان کے امتحانات کا نتیجہ اچھا آنے کی امید ہوتی ہے اور جو اسے گنوا دیتے ہیں، ان کی تقدیر میں ناکامی لکھ دی جاتی ہے۔

بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھی جو لوگ گھر پر بیٹھے رہیں گے اور اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کریں گے ان کا حشر بھی کچھ ویسا ہی ہوگا۔اس لیے ان سبھی لوگوں کو جو ووٹ دینے کے حقدار ہیں اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جذبات میں آکر اور بھیڑ کے ساتھ چل کر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ دینا چاہیے ۔ ایک ایک ووٹ قیمتی ہے۔ ملک اور بہار کے حالات بتارہے ہیں کہ اس بار کے اسمبلی انتخابات دور رس نتائج کے حامل ہونگے۔ ایسے میں ووٹروں کی ذمہ داری اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جس

پیمانے پر انتخابی مہم چلائی جارہی ہے، اس سے ریاست کے عوام سمجھ گئے ہونگے کہ معاملہ کتنا حساس ہے۔
بہار اسمبلی انتخابات میں اپنی اپنی جیت کے لیے جہاں سیاسی پارٹیاں سر توڑ کوشش کررہی ہیں، وہیں کچھ میڈیا والے بھی ایک مخصوص گٹھ بندھن کو باربار نشانہ بنارہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت کا چوتھا ستون کتنا کمزور اور لاچار ہوگیا ہے۔ بعض ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحثیں سیاست کے الف ب سے انجان لوگوں کے بھی گلے نہیں اتر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خبریں دینے کی بجائے پردھان سیوک کے گن گان میں لگے رہتے ہیں، یا ان کی ہی باتوں کو اپنے سوال اور جواب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس موقع پر ہندی کے ایک اخبار میں شائع ایک رپورٹ بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بہار میں ان دنوں چائے خانوں پر آرایس ایس کے کارندے دوگروپ میں بٹ کر نقلی بحث کرتے ہیں، اور جب تک وہ نتیش کمار کی حمایت کرنے والے گروپ کو زیر نہیں کردیتے تب تک یہ بحث جاری رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ این ڈی اے کے رہنما الگ الگ حلقوں میں الگ الگ امیدواروں کو وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس کا مقصد بہت واضح ہے۔ وہ پہلے تو اپنے حریف سے سخت مقابلے کا سامنے کررہے امیدوار کو جتانا چاہتے ہیں اور دوسرے ذات پات کی سیاست میں الجھے بہار کے عوام کو یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ اس بار ان کی ہی ذات کا امیدوار وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہوگا۔ اس حکمت عملی کے تحت کہیں انتہائی پسماندہ طبقہ سے آنے والے امیدوار کا نام اچھالا جارہا ہے تو کبھی یہ کہاجارہا ہے کہ کوئی یادو ہی وزیر اعلیٰ بنے گا۔اس ضمن میں رام ولاس پاسوان اور پپویادو کے منھ سے یہ کہلوایا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر اس بار ایک مسلم رہنما بیٹھے گا۔ گویا پردھان سیوک کی طرف سے بظاہر جس ذات پات کی سیاست کا بائیکاٹ کیا جارہا تھا، ان کے پیروکار اسی ذات پات اور مذہب کا سہارا لے کر عوام میں بھرم پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس دوران بہار اسمبلی انتخابات نے ایک اور چہرے سے نقاب اتار دی ہے۔ اب تک سیکولرزم کا ڈھنڈورا پیٹنے اور مسلمانوں کی مسیحائی کرنے کا دم بھرنے والے پڑوسی ریاست اترپردیش کے ’سماجوادی‘ رہنما کھلے طور سے بی جے پی کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ اس سے لوگوں کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ گذشتہ دوتین برسوں میں اترپردیش میں مسلمانوں کا جینا حرام کرنے کے پیچھے کون لوگ ہیں اور وہ کن کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔

ادھر انتخابی مہموں میں جس طرح سے زبان وبیان میں گراوٹ آئی ہے وہ بھی کم تشویش کا باعث نہیں ہے۔ ریاست میں ترقی ہوئی ہے یا نہیں ، یہ سب کے سامنے ہے۔ دوسرے جو بہار میں بہار لانے کی بات کررہے ہیں، وہ اب تک کیا کرتے رہے ہیں، اس سے بھی لوگ واقف ہیں۔ تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ بہار یا پورے ہندوستان میں جو ترقی ہوگی، اس کی ریاست اور ملک کے عوام کو

کتنی زیادہ قیمت چکانی ہوگی؟ اس بارے میں پردھان سیوک اور ان کے قصیدہ خواں کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ ہندوستان کو ہندوستان کی بجائے کچھ اوربناکراس کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان صرف ایک ملک ہی نہیں ایک برصغیر ہے اور قوموں، تہذیبوں و ثقافتوں کا سنگم ہے۔ اس کی صورت بدلنے سے خود ہندوستان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔ اسے بچانے کے لیے ان لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور متحدہوکر آگے آنا ہوگا جو ہندوستان کے سیکولر اور جمہوری کردار میں یقین رکھتے ہیں۔

ملک میں پچھلی بار ایک سوچی سمجھی حکمت عملی نہیں بلکہ سازش کے تحت ایک شخص کے نام پر الیکشن لڑا گیا۔ پارلیمانی نظام حکومت کو صدارتی نظام حکومت میں بدلنے کی طرف اسے پہلا قدم سمجھنا چاہیے ۔ اسی طرز پر اب ریاستوں کے اسمبلی انتخابات بھی لڑے جارہے ہیں۔ جہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ جیت کے لیے بس دوہی شخص ذمہ دار ہیں۔ ایک سب سے بڑے سیوک اور دوسرے بادشاہ سلامت! باقی سب تو یوں ہی ہیں۔ دہلی اسمبلی کے انتخابی نتائج نے اس پر قدغن لگائی، لیکن بہار میں اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو ان کا اگلا نشانہ اترپردیش ہوگا جہاں کے مکھیا اوران کے بھائی یکے بعد دیگرے اپنے اپنے چہرے سے نقاب اتارتے ہیں، اور لوگوں کو وہ سب کچھ نظرآجاتا ہے جو وہ پہلے ہی سے جانتے تھے۔

ان حالات میں بہار کے جن اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ کا عمل باقی ہے، وہاں کے عوام اور خاص طور سے کمزور طبقوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ موقع باربار نہیں آتا۔ اس بار اگر وہ چوک گئے تو چڑیا کھیت چگ جائے گی۔ مظفرنگر اور دادری کی کہانیوں کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا چلاجائے گا۔ ادیبوں اور قلمکاروں کے ساتھ ہی ان سبھی کی آواز کا خاتمہ ہوجائے گا جو ناگفتہ بہ حالات میں بھی کمزوروں اور اقلیتی طبقوں کی آواز بنے ہوئے ہیں۔

بہار اور ملک کی ترقی بہت ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری لوگوں کو جینے کا حق دینا ہے۔ انہیں اپنے دسترخوان اور اپنی تھالیوں کو سجانے کا حق دینا اہم ہے۔ چاندی کی تھالی اور سونے کے کٹورے میں باپ کا سر کاٹ کر رکھ دینے سے کوئی اولاد اسے نہیں کھائے گی۔ لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی چاول کے ساتھ دال ،سبزی اور مچھلی گوشت چاہیے۔ ان کے دلوں سے یہ خوف جانا چاہیے کہ کھانا کھاتے وقت ان کے ماں باپ مارے نہیں جائیں گے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ترقی اور خوشحالی کا کوئی مطلب نہیں ہوگا۔

بہار کااسمبلی الیکشن ملک میں امن وامان کی بحالی قائم کرنے اور ان طاقتوں پر قدغن لگانے کا ایک موقع ہے جو ہندوستان کو اپنے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بناکررکھنا چاہتے ہیں۔ بہار کے لوگوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں اور ان کے ہاتھوں کے کھلونوں کو اچھی طرح جانتے سمجھتے ہیں۔ البتہ اس بار ایک دقت یہ ہے کہ میدان میں کچھ ایسے بھی کھلاڑی ہیں جن کی شکل وصورت دیکھ کر کوئی بھی دھوکہ کھاسکتا ہے۔ بہار کے لوگوں کے لیے یہ بھی بڑا امتحان ہے کہ وہ ایسے کارندوں کووقت سے پہلے پہچاننے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں ۔ویسے بہار کے عوام نے ماضی میں بھی ملک کو برے حالات سے نکالاہے۔ ان کے کندھوں پر ایک بارپھر بہت بڑی ذمہ داری آئی ہے۔ اسے نبھانے میں انہیں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔

(بشکریہ روزنامہ انقلاب، ۱۵ اکتوبر۲۰۱۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *