تیسرے مرحلے کی پولنگ کے بعد دعوؤں کا دور شروع

election-photo-2
پٹنہ کے مختلف پولنگ بوتھوں کے مناظر

پٹنہ، ۲۸؍ اکتوبر: بہار اسمبلی انتخابات کے لیے آج تیسرے مرحلے میں ریاست کے ۵۰ اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔ گذشتہ دومرحلوں کے مقابلے میں کم مگر ۲۰۱۰ کی بہ نسبت زیادہ ووٹنگ ہوئی۔
ریاست کے کل چھ یعنی پٹنہ ، ویشالی، نالندہ ، سارن، بکسر اور بھوجپورضلعے میں ہوئی پولنگ میں مجموعی طور پر ۵۳؍ فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
اس مرحلے میں راشٹریہ جنتادل کے قومی صدر لالو پرساد یادو کے دونوں بیٹوں تیجسوی اور تیج پرتاپ یادو کے علاوہ بی جے پی کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے امیدواروں میں سے ایک اوربہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نند کشور یادو سمیت ۸۰۸ امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ہوگئی ۔اس مرحلے میں بھی خواتین ووٹروں نے مردوں سے زیادہ جوش دکھایا۔ مسلم خواتین بھی بڑی تعداد میں پولنگ بوتھوں پر قطار میں لگی نظر آئیں۔
election-photo1تیسرے مرحلے میں ووٹنگ کا عمل پورا ہونے کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی جیت کے دعوے کرنے شروع کردیے ہیں۔ لالو پرساد یادو نے دعویٰ کیا کہ انتخابی میدان میں بی جے پی کی شکست فاش یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا کام ختم ہوگیا۔ ادھر آرجے ڈی کے جنرل سکریٹری مندریکا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ تیسرے مرحلے کی ۵۰ سیٹوں میں سے عظیم اتحاد کو ۴۵سیٹیں ملیں گی۔ اس کے برعکس این ڈی اے کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی نے کہا ہے کہ این ڈی اے اس مرحلے میں ۴۲ سیٹوں پر جیت درج کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ باقیماندہ دومرحلوں میں این ڈی اے کی حمایت میں مزید اضافہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *