گجرات میں بی جے پی کی جیت یقینی: نتیش کمار

نامہ نگار
پٹنہ:
بہار کے وزیر اعلٰی نتیش کمار نے ایک بار پھر گجرات اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی جیت کو یقینی بتاتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ سیاست کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوگا۔ ریاست میں راشٹریہ جنتادل اور کانگریس کے مہاگٹھ بندھن سے الگ ہو کر بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے والے نتیش کمار نے یہاں ایک نجی میڈیا گروپ کے پروگرام میں کہا: گجرات کے عوام نے نریندر مودی کو وزیر اعظم بنا کر نئی دہلی بھیجا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لیڈر کو شکست سے دوچار نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نامزد وزیر اعظم نہیں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نتیش کمار اس سے پہلے بھی گجرات میں بی جے پی کی جیت کو یقینی بتا چکے ہیں۔ انہوں نے سنواد بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس ریاست سے وزیر اعظم ہوتے ہیں وہاں کے عوام ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
البتہ نتیش کمار کے مخالفین ان کے ایسے بیان کو بے بسی کا نتیجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی زندگی آخری پڑاو میں ہے۔ وہ اب بی جے پی کے رحم و کرم پر ہیں۔ جے ڈی یو میں بھی تبھی تک وہ لیڈر بنے ہوئے ہیں جب تک حکومت ہے اور یہ حکومت بہت دنوں تک چلنے والی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ آر جے ڈی لیڈر لالو یادو بھی کئی بار بول چکے ہیں کہ نتیش کمار اب بی جے پی کے اشاروں پر ناچنے کے لیے مجبور ہیں۔
اس دوران نتیش کمار کے لیے خوشی کی بات یہ ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے جے ڈی یو اور اس کے انتخابی نشان “تیر” پر شرد یادو خیمہ کی دعویداری کو مسترد کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جے ڈی یو پارٹی اور اس کا انتخابی نشان تیر نتیش خیمہ کے پاس رہے گا۔ کمیشن نے اپنا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ شرد یادو کی طرف سے اپنے حق میں جو ثبوت پیش کیے گئے تھے وہ ناکافی تھے۔ شرد نے دس ارکان پارلیمنٹ میں سے صرف دو کا حلف نامہ پیش کیا جبکہ باقی سبھی نتیش کمار کے ساتھ ہیں۔ اسی طرح بہار اسمبلی اور کونسل میں جے ڈی یو کے سبھی اراکین نتیش کمار کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ یہی حال پارٹی کی قومی کونسل کا بھی ہے جس کے ۱۹۵ میں سے ۱۳۸ ارکان نے نتیش کمار کی حمایت کی ہے۔ یاد رہے کہ نتیش کمار اکتوبر ۲۰۱۶ میں جے ڈی یو کے قومی صدر بنے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *