وزیر مالیات نے پیش کیا ایک لاکھ ۶۶؍ ہزار کروڑ روپے کا بجٹ

عبدالباری صدیقی نے ۲۲؍ منٹ میں ختم کی اپنی بجٹ تقریر، زراعت اور تعلیم پر توجہ، صنعتی شعبہ نے مایوسی کا اظہار کیا، اقلیتوں کی ترقی کے لیے مختص رقم میں اضافہ، اقلیتی فلاح کے وزیر نے کہا: سب کے ساتھ اقلیتوں کی بھی ترقی ہوگی

پٹنہ، نامہ نگار:

بہار کے وزیر مالیات عبدالباری صدیقی نے پیر کو مالی سال ۱۸۔۲۰۱۷کے لیے مہاگٹھ بندھن حکومت کا بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے اپنی ۲۲؍ منٹ کی بجٹ تقریر میں کہا کہ اس میں زراعت، خواتین، درج فہرست ذات و قبائل اور پسماندہ طبقوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی فلاح کا بھی خصوصی دھیان رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، سڑک، بجلی اور زراعت سمیت سات عزائم کے تحت جاری منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ شعبہ ٔتعلیم کے لیے ۲۵۲۵۱؍ کروڑسے زائد روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اقلیتوں کی فلاح کے لیے گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں ۱۵۱؍ فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے ۸۱۳ کروڑ روپے دینے کی تجویز ہے۔ گذشتہ مالی سال یہ رقم ۳۴۷؍ کروڑ روپے تھی۔ وزیر مالیات نے کہا ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اقلیتوں کی چہار طرفہ ترقی کے لیے مختلف منصوبے اور اسکیم نافذ ہیں۔ ان میں طالب علموں کو اسکالرشپ کے علاوہ نوجوانوں کو اپنا روزگار شروع کرنے کے لیے قرضوں کی فراہمی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ عبدالباری صدیقی نے کہا کہ ریاست میں بنکروں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ دینے کے ساتھ ہی بینکوں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی تاکہ لوگوں کو بینک تک جانے کے لیے میلوں کا سفر نہیں کرنا پڑے۔ ریاست کے لوگوں پر نوٹ بندی کا اثر نہیں ہو اس کے لیے کھاتہ داروں کو پلاسٹک منی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور ایک مہم چلا کر جگہ جگہ پی او ایس مشینیں لگائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکس چوری روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

اس بجٹ میں منصوبہ بند اور غیرمنصوبہ بند اخراجات کے فرق کو ختم کردیا گیا ہے۔ منصوبہ بند خرچ کے لیے ۸۰؍ ہزار کروڑ روپے جبکہ غیرمنصوبہ بند مد میں ۸۶ ؍ ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستی خزانہ کا خسارہ ۱۸؍ ہزار ۱۱۲؍ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جو ریاست کی کل ناخالص آمدنی کا ۲ء۸۷؍ فیصد ہے۔

وزیر مالیات نے تعلیمی شعبہ کے لیے ۲۵؍ہزار ۲۵۱؍ کروڑ سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے جبکہ محکمۂ صحت کو اپنی صحت بہتر کرنے کی خاطر سات ہزار ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔

عبدالباری صدیقی نے کہا کہ مرکز کے ذریعہ مالی تعاون میں کمی کرنے کے باوجود حکومت بہار کے عزم و حوصلے بلند ہیں اور وہ عام آدمی کی بھلائی کے لیے کام کرتی رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ ۱۴ویں اقتصادی کمیشن کی سفارش پر مرکز کے مالی تعاون میں کمی کی گئی ہے جس سے بہار کو کم و بیش ۵۰ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ واضح ہو کہ اب مرکز کی بیشتر اسکیموں کو نافذ کرنے میں ریاستی حکومت کو ۵۰ فیصد اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب بندی کرنے سے حکومت بہار کو سالانہ چار ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے، لیکن بہت سے شہریوں کا پیسہ اب شراب کے بجائے دوسری چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔

بہار کے بجٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صنعتی شعبے نے کہا ہے کہ ریاست کو تیز رفتار ترقی دینے کے لیے صنعتوں پر جتنی زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تھی، وہ نہیں دی گئی جس سے مایوسی ہوئی ہے، البتہ اس میں عام لوگوں کی فلاح کا خیال ضرور رکھا گیا ہے۔ نئے بجٹ سے ترقی کی رفتار تو تیز نہیں ہوگی لیکن موجودہ رفتار کو بنائے رکھنے میں یہ مددگار ہوگا۔ ادھر اقلیتی فلاح کے وزیر ڈاکٹر عبدالغفور نے کہا ہے کہ اقلیتوں کی ترقی کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، اس سے بہار کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ بہار کے وزیر تعلیم اشوک چودھری نے بھی وزیر مالیات کی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *