توہم پرستی سے بگڑی حالت

کٹیہار، ۱۸نومبر(اسدالرحمن):آج کے جدید دور میں بھی بڑی تعداد میں لوگ توہم پرستی اور خرافات کے مکڑجال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا انہیں نقصان بھی ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال ریاست بہار کی پورنیہ کمشنری میں پڑنے والے منیہاری اسمبلی حلقہ میں ایک خاندان کے لوگوں نے کتا کے کاٹنے کا ڈاکٹروں سے علاج کروانے کی بجائے توہم پرستی کا سہارا لیا۔

اطلاع کے مطابق منیہاری میں ایک کتے نے چند بچوں کو کاٹ لیا۔ بچوں کے بدن سے کتے کے زہر کو زائل کرنے کے لیے ان بچوں کے گھر والوں نے ایک انوکھا طریقہ اپنایا۔ انہوں نے سانپ کے کیچوے کو پانی میں ڈال دیا، اور اس پانی کو نہ صرف ان بچوں کو پلایا جنہیں کتے نے کاٹا تھا، بلکہ گھر کے دوسرے افراد کو بھی پلایا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کتے کا زہر ان بچوں کے بدن سے زائل ہوجائے گا ، جنہیں کتے نے کاٹا ہے۔
لیکن گھر کے بڑے بوڑھوں کی اس حرکت سے نہ صرف بچوں کی حالت بگڑنے لگی بلکہ خاندان کے دوسرے لوگ بھی بیمار پڑگئے۔ توہم پرستی کے مکڑجال میں پھنسے ان لوگوں کی حالت جب زیادہ خراب ہونے لگی تو انہیں ہوش آیا اور وہ سبھی منیہاری پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچے ۔ یہاں ڈاکٹروں نے ان کا علاج کیا جس سے ان کی حالت میں بہتری آئی اور اب وہ سب ٹھیک ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *