بہارکا شراب بندی معاملہ پھر پہنچا عدالت

پٹنہ(نامہ نگار):
بہار کا شراب بندی معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت پہنچ گیا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت بہار نے پٹنہ ہائی کورٹ کے ذریعہ ۳۰؍ستمبر کو ریاست میں امسال ۵؍اپریل سے نافذ شراب بندی قانون کو رد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے ، وہیں گاندھی جینتی یعنی ۲؍اکتوبر سے نافذ ہونے والے نئے شراب بندی قانون کو پٹنہ ہائی کورٹ میں چنوتی دی گئی ہے۔ ہائی کورٹ میں پروفیسر مراری نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شراب بندی کا نیا قانون پہلے سے بھی زیادہ سخت ہے اور اس میں ایک فرد کے جرم کی سزا دوسرے لوگوں کو دینے کی بات کہی گئی ہے ، جو کسی بھی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ عرضی گذار نے کہا ہے کہ ریاست میں شراب بندی کے نئے قانون کا نفاذ عدالت کی توہین بھی ہے کیونکہ پرانے قانون کے تحت شراب بندی کے معاملے میں عدالتی کارروائی جاری ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گذشتہ سال اسمبلی انتخابات کے دوران ریاست میں شراب بندی نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے تحت انہوں نے امسال یکم اپریل سے دیسی شراب کے استعمال اور اس کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس دوران بی جے پی سمیت دیگر مخالفین نے نتیش کمار سے سوال کرنا شروع کردیا کہ صرف دیسی شراب ہی پر کیوں پابندی لگائی گئی ، انگریزی شراب پر کیوں نہیں؟ اس کے جواب میں نتیش کمار نے پانچ اپریل کو غیرملکی شراب پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد بھی شراب بندی کے مخالفین حکومت کو الگ الگ بہانوں سے گھیرتے رہے۔ حکومت پر شراب بندی کو نافذ کرنے کے سلسلے میں کچھ زیادہ ہی سختی برتنے کا الزام لگایا گیا۔ اس دوران پروفیسر مراری نے ہائی کورٹ میں شراب بندی قانون کے خلاف عرضی داخل کرکے اس کو رد کرنے کی اپیل کی۔ عدالت نے ۳۰؍ستمبر کو ان کے حق میں حکم صادر کرتے ہوئے پانچ اپریل سے نافذ شراب بندی قانون کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ اس کی وجہ سے ان لوگوں کو بڑی راحت ملی جن کے خلاف پرانے شراب بندی قانون کے تحت کارروائی جاری ہے۔ حکومت بہار نے تین اکتوبر کو سپریم کورٹ میں پٹنہ ہائی کورٹ کے مذکورہ حکم کو چنوتی دی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے کوئی راحت نہیں مل سکے جن کے خلاف پرانے شراب بندی قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ شراب کے استعمال اور کاروبار سے ریاستی حکومتوں کو اچھا خاصا ریونیو ملتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سی سرکاریں اس پر پابندی لگانے سے کتراتی ہیں۔ خود بہار میں ۲۰۰۵ء سیشراب کے کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ریاست میں دکانوں کی تعداد ۶۰۰؍ سے چھ ہزار ہوگئی ۔ اس سے ریاستی حکومت کو ہونے والی آمدنی ڈھائی ہزار کروڑ سے چار ہزار کروڑ روپے ہوگئی ۔گلی گلی میں شراب کی دکانیں کھلنے سے سماج میں ایک انتشار کا ماحول پیدا ہونے لگا تھا۔ اس کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہورہی تھیں۔ اس لیے شراب پینے کے بڑھتے چلن کے خلاف خواتین نے ہی سب سے زیادہ پرزور آواز بلند کی۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شراب کے استعمال اور کاروبار کی مخالفت کرنے والوں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں واپس آئے تو ریاست میں مکمل شراب بندی نافذ کردیں گے۔ مانا جاتا ہے کہ نتیش کمار کا یہ تیر نشانے پر لگاتھا اور بہار کی زیادہ تر خاتون ووٹروں نے ان پر بھروسہ کرتے ہوئے مہاگٹھ بندھن کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *