بہار جلدی ہوگا کالازار سے پاک: ڈاکٹر آرکے داس گپتا

پٹنہ:پولیو سے پاک ہونے کے بعد بہار جلد ہی کالا زار جیسی خطرناک بیماری سے بھی پاک ہوجائے گا۔ صحت عامہ کے سلسلے میں یہ ریاست کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کاسہرا ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے ساتھ ہی اس مہم میں شامل دوسری سبھی تنظیموں اور اس کے کارکنوں کو جاتا ہے۔یہ باتیں ’نیشنل ویکٹر بارن ڈیزیزکنٹرول پروگرام‘ کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر آرکے داس گپتا نے یہاں موریہ ہوٹل میں منگل کے روز ’بہارسے کالازار کا خاتمہ ‘کے موضوع پر منعقدہ میڈیا ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالازار سے خاتمے کے عالمی پروگرام میں بہار ایک اہم ریاست ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہرسال کالازار سے جتنے افراد متاثر ہوتے ہیں ان میں ہندوستان کا حصہ ۵۰؍فیصد ہے اور اس میں سے ۷۷؍ فیصد مریض بہار کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے کل ۳۸؍ اضلاع میں سے ۳۳؍ کالازار متاثرہ ہیں۔ البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران بہار میں کالازار سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں لگاتارکمی آرہی ہے۔
dasgupta
اس موقع پر ملیریا اور وائرس سے ہونے والی دیگر بیماریوں کے کنٹرول پروگرام کے ریاستی افسر ڈاکٹر ایم پی شرما نے کہا کہ بہتر منصوبہ بندی اور مسلسل نگرانی کے سبب بہار میں مثبت نتا ئج سامنے آنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امسال اب تک بہار میں کالازار سے ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے جبکہ ۲۰۱۰ء میں ۹۵؍ اور ۲۰۱۵ء میں پانچ افراد اس کا شکار ہوئے تھے۔ اس لحاظ سے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
واضح ہوکہ کالازار کی بیماری بالومکھی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ یہ مکھی نمی والے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ گھروں میں اس مکھی کی پیداوار ان حصوں میں ہوتی ہے، جہاں اندھیرے ہوتے ہیں اور نمی پائی جاتی ہے۔ یہ مکھی اڑتی نہیں ہے بلکہ پھدکتی ہے۔ یہ تقریباً چھ فٹ اونچا پھدکتی ہے اور پھدکتے پھدکتے اپنی پیدائش کی جگہ سے کم وبیش پانچ سو میٹر کے دائرے تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے پہلے ڈی ڈی ٹی پاؤڈر کا استعمال کیا جاتا تھا لیکن اس سے دیواروں پر داغ دھبہ لگ جاتا تھا۔ اب اس کی جگہ سنتھیٹک پریتھرائڈ (ایس پی) کا استعمال کیاجاتا ہے جس سے دیواروں پر کوئی داغ دھبہ نہیں لگتا۔ اس کے علاوہ اس دوا کے چھڑکاؤ سے کوئی دوسرا نقصان نہیں ہوتاہے۔ اس دوا کا چھڑکاؤ سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے۔ ایک فروری مارچ میں اور دوسرا جون جولائی میں کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس چھڑکاؤ کے لیے گھروالوں سے کوئی پیسہ نہیں لیا جاتا ہے۔
کالازارکی بیماری:
یہ بیماری بالومکھی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ عام طور پر اس بیماری سے وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو مویشیوں کے قریب رہتے ہیں، زمین پر سوتے ہیں یا ایسے گھروں میں رہتے ہیں جس میں نمی زیادہ رہتی ہے۔ سروے کے مطابق سماج کے کمزور اور پسماندہ طبقوں کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
کالازار کی علامت:
اگر کسی کو ۱۵؍دنوں تک بخار رہتا ہے، تھکان ہوتی ہے ، اس کا وزن کم ہونے لگتا ہے اور بدن کالا پڑنے لگتا ہے تو ایسی صورت میں اسے فوری طور پر سرکاری اسپتال جاکر ڈاکٹرسے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ سب کالازار ہونے کی علامتیں ہیں۔ اس بیماری کے علاج کے لیے صرف سرکاری اسپتالوں ہی میں دواملتی ہے۔ اس لیے کسی دوسری جگہ اس کی جانچ کرانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کالازار کی جانچ اور اس کے علاج کے لیے مریض سے کوئی پیسہ نہیں لیا جاتا ہے۔ کالازار ہونے کی صورت میں مریض کو دوا کی صرف ایک خوراک دی جاتی ہے۔ اس میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتااور نہ ہی مریض کو کوئی تکلیف ہوتی ہے۔ کالازار سے متاثرہ فرد کو بہار میں ریاستی حکومت کی جانب سے ۶۶۰۰؍ روپے اور مرکزی حکومت کی طرف سے پانچ سوروپے دیے جاتے ہیں۔ مریض کو دی جانے والی کل ۷۱۰۰؍روپے کی رقم کا مقصد اس کو مالی مدد پہنچانا ہے کیونکہ متاثرہ فرد ایک ماہ تک کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *