دوطرفہ مذاکرات سے ہی مسائل حل ہونگے: عبدالباسط

وزیر اعظم مودی کے دورۂ پاکستان سے جامع مذاکرات کے شروع ہونے کی امید بڑھی تھی
پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملوں کے بعد دونوں ملکوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا
ہندوستان اور پاکستان کے بہت سے مسائل یکساں ہیں اور ان کے حل کے لیے مشترکہ کوشش ضروری ہے

(دائیں سے بائیں: خواجہ محمد شاہد، مجتبیٰ فاروق، عبدالباسط، نوید حامداور طارق کریم، تصویر:یاسر محمد)
(دائیں سے بائیں: خواجہ محمد شاہد، مجتبیٰ فاروق، عبدالباسط، نوید حامد اور طارق کریم، تصویر: یاسر محمد)

نئی دہلی، ۲۲؍ اپریل(نامہ نگار)
ہندوستان میں پاکستان کے سفیر عبدالباسط نے باہمی ترقی کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان جموں و کشمیر سمیت دیگر سبھی امور و مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامع مذاکرات ہی اس کا واحد راستہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’اچانک‘ پاکستان کا دورہ کرنے سے یہ امید بندھی تھی کہ جامع مذاکرات کا سلسلہ جلد شروع ہوگا ، لیکن اسی دوران پٹھان کوٹ کا واقعہ رونما ہوگیا۔ البتہ اس دہشت گردانہ واقعہ کا بعد دونوں ملکوں نے بالغ نظری کا ثبوت دیا کیونکہ اس سے پہلے جب اس طرح کے واقعات رونما ہوتے تھے تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوجاتا تھا۔

عبدالباسط آج یہاں ابوالفضل انکلیو میں واقع آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر دفتر میں ایک استقبالیہ کے دوران خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جموں وکشمیر سمیت بہت سے دیرینہ مسائل ہیں جو حل طلب ہیں، اور ان سب کا حل باہمی مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم ہندوستان کے ساتھ  بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ تقریب میں موجود ایک دانشور کے اس مشورہ پر کہ ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ایک مضبوط حکومت  ہے، اس لیے پاکستان کو اس موقعۂ غنیمت کا فائدہ اٹھانا چاہیے، عبدالباسط نے کہا :’’پاکستان میں بھی وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں اکثریت کے ساتھ ایک مضبوط حکومت ہے، اور ہندوستان کو موقعۂ غنیمت کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

عبدالباسط نے جنوب ایشیائی خطہ میں باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فقدان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے ممالک آپسی سطح پر ایسا نظام بنانے میں ناکام رہے ہیں جس تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مسائل ہندوستان اور پاکستان کے باہمی رشتے بہتر ہونے کی صورت میں حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریبی، ناخواندگی اور طبی سہولتوں کی کمی کے ساتھ ہی دہشت گردی جیسے مسائل دونوں ملکوں کے لیے یکساں ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جو سرحدوں کی حدود میں قید نہیں ہیں، اس لیے ان کے حل کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *