کانگریس کو بی جے پی سے نہیں ان سے ہے خطرہ

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں

فیصل فاروق
ہر شخص کی اپنی رائے ہے جس کے اظہار کی اسے آزادی حاصل ہے مگر کسی سیاستداں کے اپنی ہی پارٹی کے موقف سے اختلاف رائے رکھنے کو درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ وزیراعظم مودی کو ہر معاملہ میں منفی انداز میں پیش کرنے کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد خود کانگریس میں بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی کو ہمیشہ ویلن کی طرح پیش نہیں کرنا چاہئے۔ پارٹی کے دو دیگر سینئر لیڈروں ابھیشیک منو سنگھوی اور ششی تھرور نے ان کی حمایت کی۔

ابھیشیک منو سنگھوی کے مطابق وزیراعظم کو ہمیشہ ویلن کی طرح پیش کرنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ موضوعات کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہئے کہ کہاں وہ غلط ہیں اور کہاں صحیح۔ گزشتہ دنوں دہلی میں ایک کتاب کی رونمائی کے موقع پر سابق مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے مودی حکومت کے اچھے کاموں اور اچھی پالیسیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا: ’وقت آ گیا ہے کہ اب ہم مودی کے ذریعہ کیے گئے کاموں کا اعتراف کریں۔ ان کے اچھے کاموں کا اعتراف نہ کرنے سے اپوزیشن کا فائدہ نہیں ہوگا۔‘

اسی سلسلے میں پہلے منو سنگھوی نے پھر ششی تھرور نے جے رام رمیش کی کھل کر تائید کی۔ تھرور نے کہا: ’آپ جانتے ہیں کہ میں گزشتہ چھ سال سے کہہ رہا ہوں کہ جب وہ کوئی اچھا کام کریں یا اچھی بات کہیں تو اس کی تعریف ہونی چاہئے۔ اس سے ہماری تنقید میں بھی ایک اعتبار پیدا ہوگا۔‘ اگر مان بھی لیا جائے کہ ان باتوں میں حقائق ہیں تو بھی جے رام رمیش کو عوامی بیان دینے کے بجائے پارٹی فورم میں اپنا نظریہ رکھنا چاہئے تھا۔ پارٹی لائن کے خلاف جانے کی کیا ضرورت تھی؟

راہل گاندھی نے اپنے پسندیدہ نعرے ’چوکیدار چور ہے‘ کےسلسلے میں عدالت عظمیٰ کے نام کے استعمال کے لیے تو معذرت کی تھی لیکن صاف کہہ دیا تھا کہ وہ بی جے پی سے قطعی معافی مانگنے والے نہیں ہیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد بھی راہل گاندھی نے مینڈیٹ کے احترام کی بات کی لیکن اعادہ کیا کہ وہ پوری طرح سے اپنی بات پر قائم ہیں کہ ’چوکیدار چور ہے۔‘ کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے بھی انہوں نے دہرایا کہ وہ ’چوکیدار چور ہے‘ کے اپنے پرانے رخ پر قائم ہیں۔

ایک طرف راہل گاندھی ہیں جو وزیراعظم کو چور تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف ان ہی کے ’معتبر رفقا‘ ہیں جو ایک آواز میں کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم ویلن نہیں ہیں۔ ویلن نہیں ہیں مطلب ہیرو ہیں۔ جب آپ اپوزیشن میں رہتے ہوئے وزیراعظم کو ہیرو سمجھنے لگیں گے تو آپ اپوزیشن کا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ مداح تو مدح سرائی ہی کرے گا، سوال نہیں کرے گا۔ کانگریس کے سینئر ترجمان آنند شرما نے بجا کہا:’اگر اپوزیشن اقتدار میں آنے والوں کی تعریفیں گانا شروع کردے تو جمہوریت تباہ ہوجائے گی۔‘

ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی کے سابق صدر میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ اپنے لیڈروں سے سوال کر سکے کہ آپ نے پارٹی لائن کے خلاف جانے کی جرأت کیوں کی؟ اگر موجودہ صورتحال کو بہتر نہیں بنایا گیا تو مشکلات کا سامنا کر رہی کانگریس پارٹی کو مستقبل میں بھاری نقصان ہوگا۔ آئندہ چند ماہ میں ہریانہ اور مہاراشٹر میں انتخابات ہونے ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد تصویر صاف ہو جائے گی کہ کانگریس اقتدار میں واپسی کرے گی یا پھر اپنا وجود ہی کھو بیٹھے گی؟

یہ کانگریس پارٹی کی بدقسمتی ہے کہ تمام کانگریسیوں کی بھیڑ میں راہل گاندھی خود کو تنہا کھڑے پاتے ہیں۔ جس طرح سے کانگریس پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ دن دور نہیں جب کانگریس قومی پارٹی سے علاقائی پارٹی تک ہی محدود رہ جائے گی۔ دراصل کانگریس کا سانحہ یہ ہے کہ آج پارٹی کے لیڈران اور کارکنان کو ان قدروں کی ذرہ برابر فکر ہی نہیں جن پر کانگریس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ پارٹی کے لیڈران اور کارکنان کو کانگریس کی تاریخ سے، اس کی سوچ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
۱۳۴؍سالہ قدیم کانگریس پارٹی میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب اتنے لمبے وقت تک پارٹی صدر کا عہدہ خالی رہا ہو۔ جہاں پارٹی کے ایک یا دو نہیں بلکہ کئی جنرل سکریٹریوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد بڑی تعداد میں عہدیداروں نے بھی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی کئی ریاستوں میں جیتی ہوئی بازی ہار گئی۔ بڑی عجیب بات ہے، آج اس پارٹی میں نہ کوئی لیڈر بچا ہے، نہ لیڈرشپ ہے اور نہ ہی پارٹی کی کوئی پالیسی ہے۔

بہرحال مودی کے بارے میں کانگریس لیڈران کے تبصرے حال ہی میں پارٹی کی رائے میں اختلافات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ آرٹیکل۳۷۰؍کو منسوخ کرنے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ سینئر لیڈر جیوترآدتیہ سندھیا، کسی زمانے میں جنرل سکریٹری رہے دپیندر سنگھ ہوڈا اور سونیا گاندھی کے قریبی جناردن دویدی نے ایوان میں اور ایوان کے باہر پارٹی کے بیان کردہ موقف کے خلاف بیان دیا تھا۔ آج کانگریس کی حالت ڈوبتے ہوئے جہاز جیسی ہے تو اس کے ذمہ دار یہ لیڈران بھی ہیں۔

(فیصل فاروق ممبئی میں رہائش پذیر کالم نگار اور صحافی ہیں)

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply