نتیش بھاجپا کے دباؤ میں بہار کو کر رہے ہیں برباد: بیداری کارواں 

امن شانتی والے ریاست بہار میں غنڈوں کا ہے بول بالا، امن کے ماحول کو بگاڑنے والی تنظیموں کو مل رہی حکومت کی حمایت: نظرعالم
نظر عالم، صدر
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں
پٹنہ: بھاجپا اور جدیو میں فرق ختم ہوچکا ہے، جس طرح سے بھاجپا میں زانی، غنڈے اور فرضی راشٹرواد کا مالا جپنے والے لوگ راشٹروادی ہوجاتے ہیں اب جدیو بھی اُسی راہ پر چلنا شروع کردیا ہے۔ کل تک جدیو میں رہنے والے اننت سنگھ صاف ستھری شبیہ، دبنگ ایم ایل اے اور نتیش کمار کے قریبی نیتا مانے جاتے تھے اور جب سے اننت سنگھ نے جدیو اور نتیش کا ساتھ چھوڑا ہے تب سے اس سے بڑا غنڈہ بہار میں کوئی نہیں لگتا۔ حد ہے یار ہردن غنڈے کھل عام قانون، انتظامیہ اور حکومت کو چنوتی دیکر قتل، اغوا، ڈکیتی، عصمت دری اور مآب لنچنگ جیسی واردات کو انجام دے رہا ہے اس پر تو حکومت قابو پانے میں  ناکام ثابت ہورہی ہے اور چلے ہیں قانون کے ساتھ انصاف اور فرضی وِکاس کی باتیں کرنے۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ مسٹر عالم نے آگے کہا کہ بھاجپا میں جو نیتا چاہے وہ کتنا بڑا غنڈہ بدچلن ہی کیوں نہ ہو وہ اصل راشٹروادی ہے اور جو نیتایا سماجی کارکن بھاجپا کے کالے کرتوت، بھاجپا کے خلاف زبان کھولی یا پارٹی چھوڑی فوراً ہی وہ نیتادیش دروہی(آتنک وادی) ہوجاتا ہے، راشٹرورودھی ہوجاتا ہے، اُسے پاکستانی تک بنادیا جاتا ہے۔ اب نتیش کمار بھی بھاجپا کے ہی راستے پر چلنا شروع کرچکے ہیں جس کی شروعات اننت سنگھ سے کی گئی ہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ غنڈے پر کارروائی نہیں ہو، بالکل شکنجہ کسنا چاہئے لیکن صرف ایسے لوگوں پر نہیں جو سوشاسن بابو سے الگ ہوجائے۔ قانون سبھی کے لئے برابر ہے۔ پہلے والا اب بہار نہیں رہا، یہاں بھی بڑے پیمانے پر جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کا قتل عام بات ہوگیا ہے، افسرشاہی پوری طرح سے حاوی ہے، پولیسنگ کارکردگی پوری طرح سے چرمرا چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے بہار میں دوبارہ جنگل راج لوٹ آیا ہے۔ آج بھی بہار کے کئی ضلع (مظفرپور، حاجی پور وغیرہ) میں کچھ شرپسند عناصر اور ہندوتنظیموں کے ذریعہ نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ فساد کے لئے ہندوؤں کو اکسایا جارہا ہے۔ کہاں ہے نتیش کمار کا سوشاسن، کہاں گیا نتیش کمار کا بہار میں فسادیوں کو بخشا نہیں جائے گا والا نعرہ۔ مسٹرنظرعالم نے یہ بھی کہا کہ پچھلے مہینے نتیش کمار نے بھاجپا پر دباؤ بنانے اور مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے، ووٹ بینک کے طور پر آنے والے اسمبلی انتخاب میں استعمال کرنے کے لئے خفیہ طریقے سے آر ایس ایس کی سبھی تنظیموں کی جانچ کے لئے ایک لیٹر جاری کیا تھا جس پر جانچ کیا بھی نہیں گیا اور عوام کے بیچ اس لیٹر کو پھیلا دیا گیا۔ نتیش جی بتائیں اس طرح کے ڈھونگ رچنے کا ان کا مقصد کیا تھا جب کہ وہ خود کو سوشاسن بابو اور نیائے کے ساتھ وِکاس کرنے والا نیتابتاتے ہیں۔ نتیش کمار کے ہرکھیل کو مسلم طبقہ اور بھاجپائی بھی اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ نتیش جی کے کسی بھی جھانسے میں مسلمان نہیں آنے والے ہیں جب تک وہ بھاجپا کی گود میں بیٹھ خود کو وزیراعلیٰ بنے رہیں گے اور مسلم طبقہ کے اوپر ہورہے یکطرفہ حملہ میں بھاجپا کو حمایت دیتے رہیں گے۔ آر ایس ایس کے سبھی تنظیموں کے جانچ کا لیٹر جاری کر نتیش کمار نے بھلے ہی بھاجپا پر دباؤ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہو لیکن مسلم طبقہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اگر بھاجپا اور وزیراعلیٰ کی کرسی کھسکنے کا ڈر نتیش کمار کو نہیں ہے تو سبھی شرپسند ہندوتنظیموں کی جانچ کرائے، اس پر پابندی عائد کرے، بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلائے، اگر بھاجپا خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دیتی ہے تو بہار کے حق میں بھاجپا سے اتحاد ختم کرے، جرائم سے پاک ریاست بنائے اور ترقی یافتہ ریاستوں میں بہار کو آگے بڑھائے۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply