اندھی محبت

افسانہ
 ?حامد رضا

چنڈی گڑہ کا مرکزی پارک آج لوگوں سے کھچاکھچ بھراہوا تھا، ایک تو اتوار کا دن اور اس پر بہار کاموسم! لوگ ٹولیاں بنا بناکر اپنی فیملی، دوست واحباب کے ساتھ پورے پارک میں پھیلے ہوئے تھے، ایسا لگ رہاتھا کہ پوری آبادی تفریح کے لیے نکل پڑی ہو۔ موسم کا لطف لینے کے لیے سیاحوں کی جماعت بھی آج آگئی تھی۔ یہ چنڈی گڑہ کا سب سے بڑا اور خوبصورت پارک تھا، تقریبا چارمربع کلومیٹر پر پھیلاہوا۔ اسے دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے، یہ پارک جہاں ایک خوبصورت تفریح گاہ تھا، وہیں عاشق جوڑوں کے لیے بھی یہ محفوظ جگہ تھی۔ در حقیقت اس عظیم پارک کاشمالی حصہ انہیں کے لیے وقف تھا، جہاں پوری آزادی سے عشاق اپنے معشوقوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے، اور کسی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں ہوتی تھی۔
اسی کے ایک گوشہ میں راہل اپنی محبوبہ میناکشی کے ساتھ محو گفتگو تھا، آج اس کی ملاقات کا ایک اہم دن تھا۔ کئی اتوار گزرچکے تھے، مگر ان کی محبت میں کوئی نیا موڑ نہیں آیاتھا، راہل نہیں چاہ رہاتھا کہ آج کا دن بھی بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوجائے،دونوں صرف اتوار کوہی اسی پارک میں ملتے تھے۔ در اصل ذات اور برادری کا مسئلہ دونوں کی محبت کے درمیان ایک آہنی دیوار بن کر کھڑاتھا، ان کی شادی کے لیے گھر والے کسی بھی طور راضی نہیں ہوتے، خاص طور سے راہل کے گھر والے، کیونکہ وہ ایک برہمن تھا،اسکولنگ اس کی ہندوستان کے بہترین اسکول’’ دلی پبلک اسکول ‘‘سے ہوئی تھی ، ابھی گریجویشن میں اس کادوسرا سال تھا ، اور اس کے والد پورے علاقے میں بی جے پی کے ایک قدآور لیڈر تھے جبکہ میناکشی ایک معمولی جاٹ کسان کی بیٹی تھی، جس نے دوسال پہلے قرض کی وجہ سے خود کشی کرلی تھی، کینسر کی مہلک بیماری نے ماں کی ممتا کو بچپن میں ہی اس سے چھین لیا تھا، راہل کے بالمقابل اس کی تعلیم بھی کچھ نہیں تھی؛ سرکاری اسکول سے اس نے صرف آٹھویں پاس کر کے تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیاتھا، فی الحال وہ اپنے اکلوتے چچا کے زیر نگرانی پرورش پارہی تھی، اس کی خوبصورتی ،سنہرے بال اور غزالی آنکھوں نے راہل کو اپنا گرویدہ بنالیاتھا، راہل نے جہاں باربار اپنی محبت وپیار کا احساس دلاکر اس کا دل جیتاتھا، وہیں میناکشی کی غربت اور راہل کی امارت نے بھی دونوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا تھا۔
آج راہل نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ میناکشی کو یہاں سے دور دلّی لے کرچلا جائے گا، اور آزادی سے اپنی زندگی گزارے گا، مگر میناکشی ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسے ڈرتھا سماج کا اور اس کے سنسکار کا، جس کی زنجیر بہت مضبوط تھی، جسے آسانی سے نہیں توڑا جاسکتاتھا۔ یوں بھی ہریانہ اور پنجاب کی ریاستیں پورے ہندوستان میں آنر کیلنگ کے لیے سب سے زیادہ مشہور تھیں۔یہاں ذات ومذہب کی دیوار کو توڑکر پیار کا مطلب اپنے سماج سے بغاوت اور دشمنی مول لیناتھا۔پیار کے اسی بھیانک انجام کو دیکھ کر میناکشی کی روح کانپ جاتی تھی، چنانچہ وہ شادی کے لیے راضی نہیں ہوئی۔بالآخر اپنے ترکش کاآخری تیر چلاتے ہوئے راہل نے کہا:’’ تمہیں نہیں پتہ کہ میری رگوں میں کس کا خون ہے؟ میں راجپوت ہوں، راجپوت !! تمہاری محبت کی خاطر اپنی جان بھی قربان کرسکتاہوں ، لیکن اپنے وعدے سے نہیں پھروں گا۔اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ۱۹۵۴ ؁ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے ایک اسپیشل شادی ایکٹ (ایکٹ نمبر ۴۳) بنایا تھا، جس کے تحت اس ملک کا کوئی بھی باشندہ مذہب اور ذات سے اوپر اٹھ کر کسی سے بھی شادی کر سکتا ہے۔ کھاپ پنچایت اور گھر والے ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتے‘‘۔ اپنی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اس نے مزید کہا : ’’آخر تم بتاؤکہ یورپ اور امریکہ نے کیوں ترقی کی؟ کیوں کہ وہاں ان جیسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں لوگ اپنا وقت برباد نہیں کرتے ہیں،اور جن سے پیار ہوتاہے شادی کرلیتے ہیں‘‘۔ راہل کی جوشیلی تقریرسن کر میناکشی جذباتی ہوگئی، اور اس کے سینہ پر سر رکھ کر بچوں کی طرح رونے لگی۔ پھر دونوں نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پلان بنایا، اور سورج ڈوبنے سے پہلے گھر واپس لوٹ آئے۔
دیررات جب گھر والے گہری نیند کی آغوش میں چلے گئے،اور ہر طرف سناٹاچھاگیا،تو میناکشی خاموشی سے اٹھی ، اپنے کچھ کپڑے لیے، اور وعدے کے مطابق گاندھی چوک پہنچ گئی، جہاں پہلے ہی سے راہل اس کا انتظار کررہاتھا۔ دونوں بس کے ذریعہ صبح صبح دلی پہنچ گئے اور سیلم پورمیں ایک مکان کرایہ پر لے لیا۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ایک لوکل کورٹ میں گئے اور شادی کے پاکیزہ بندھن میں بندھ گئے۔
کچھ نوں بعدہی راہل کوایک کمپنی میں جاب بھی مل گئی، وہ روزانہ صبح دس بجے ڈیوٹی کے لیے نکل جاتا اور شام چھ بجے تک واپس آجاتا، زندگی معمول پر آگئی، اوردونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔ ایک وفادار بیوی کا فرض اداکرتے ہوئے میناکشی گھر کے سارے کام پورے اخلاص اورچستی سے کرتی،اور اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔راہل کو جب بھی موقع ملتا اسے باہر گھمانے لے جاتا، خاص طور سے ہر اتوار کو دونوں باہر نکل جاتے ؛کبھی لال قلعہ، تو کبھی انڈیا گیٹ،تو کبھی کسی مال میں چلے جاتے ۔اپنی اس خوش قسمتی پر میناکشی صبح وشام بھگوان کا شکریہ ادا کررہی تھی۔
ایک دن راہل دیر رات ڈیوٹی سے گھر واپس لوٹا، میناکشی گھبراگئی، فون ملایا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔جب واپس آیاتو پوچھے جانے پر پتہ چلا کہ کسی دوست کے یہاں برتھ ڈے پارٹی تھی، میناکشی مطمئن ہوگئی، مگر دوسرے دن پھر دیر سے آیا، اور پھر دھیرے دھیرے یہ راہل کا معمول ہی بن گیا، ہر روز وہ دیر ہی سے گھر واپس لوٹتا ، اور ہر دن کوئی نہ کوئی نیا بہانہ بنالیتا۔ یہی نہیں بلکہ اب چھٹی کے دنوں میں راہل اسے لے کرباہر بھی کہیں نہیں جاتا، اور صبح سویرے کسی کام کے بہانے نکل جاتا، اوردیر رات واپس آتا۔ راہل کے بدلے ہوئے رویہ سے میناکشی پریشان ہوگئی،مگر وہ اپنی پریشانی کہتی تو کس سے کہتی؟ نہ کوئی رشتہ داراور نہ کوئی دوست!! پڑوس کی بھابھی سے گھر کی نجی بات کہنا مناسب نہیں تھا۔آخر اس نے ہمت کرکے ایک دن پوچھ ہی لیا۔ راہل نے زبردست پھٹکار لگادی۔ اس طرح کے جواب کی امید اسے قطعا نہیں تھی، خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ بغیر کسی ظاہری سبب کے راہل اتنی جلدی اس سے منھ موڑ لے گا !! کچھ دن اور اسی طرح گزرگئے، مگر میناکشی کے تئیں راہل کے رویہ میں کچھ بھی نرمی نہیں آئی،حالانکہ وہ امید سے تھی، ڈیلیوری کا وقت قریب آرہاتھا، اب اسے اپنے سے زیادہ اپنے ہونے والے بچہ کی فکر تھی۔ایک دن ایسا بھی آیا کہ راہل پوری رات گھر واپس نہیں لوٹا، انتظار کے انگارے پر بے چاری نے پوری رات کاٹ لی!!وہ بار بار دروازہ پر جاتی ، تھوڑی دیر راہ دیکھتی، پھر واپس آجاتی، راہل کا فون بھی بند جارہاتھا۔ صبح اس نے آفس میں فون کیا تو وہاں سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ مارے خوف کے اس کا برا حال ہوگیا، اس کو ڈر تھا کہ راہل کسی حادثہ کا شکارہوگیا ہے؟ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کریں تو کیا کریں!! نہ تو اب گھر واپس جاسکتی تھی اور نہ کوئی اور جگہ!! اورنہ ہی اس کے پاس کمانے کا ذریعہ تھا کہ اپنا اور ہونے والے بچہ کا پیٹ پال لیتی!! پڑوسیوں کے پاس گئی مگر مدد کے لیے کوئی آگے نہیں آیا۔ ہفتہ، دس دن گذرگئے مگرراہل کا کوئی سراغ نہیں ملا،اس کی حالت بھی اب ایسی نہیں تھی کہ بار بار باہر جاکر پتہ لگاتی۔ادھر روم کرایہ کا مسئلہ بھی سر اٹھارہاتھا۔ مکان مالک سے کہہ سن کسی طرح ایک مہینہ کی مہلت لے لی۔ اس کا خیال تھاکہ کسی گھر میں کام کرکے پیٹ پال لے گی، مگر اس کے پاس کسی طرح کا کوئی شناختی پروف بھی نہیں تھا، لہذااب وہ کسی بڑے گھر میں نوکری بھی نہیں کرسکتی تھی۔
دوسری جانب راہل واپس اپنے گھر آگیا، وہ تو اپنی تعلیمی مصروفیات اور کمانے کا بہانہ بناکر ہی گھر سے نکلاتھا۔پہلے کی طرح ہنسی خوشی اپنی فیملی کے ساتھ رہنے لگا، مانو زندگی میں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کچھ مہینوں بعد ایک دن اپنے پاپا کے ساتھ اسے دلی جانے کا اتفاق ہوا، انڈیاگیٹ کی ریڈلائٹ پر اس کی کار رکی، تو گلدستہ، موبائل بیٹری اورمونگ پھلی وغیرہ بیچنے والے کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی باری باری سے اس کی کار پر دستک دی، اور مانگنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ پھٹے پرانے کپڑے میں ملبوس ایک ماں بھی اپنے بچہ کو گود میں لیے ہوئے آگے بڑھی ، بچہ کی خوبصورتی اور معصومیت کو دیکھ کر راہل نے شیشہ نیچے کیا، اور ابھی کچھ دینا ہی چاہ رہاتھا کہ اس کی نظر اس کی ماں پرپڑی،اوروہ اچانک رک گیا۔ ایک معلوم سی صورت ذہن میں آگئی، اسے ایک جھٹکا سا لگا، جیسے کسی نے پیچھے سے دھکا دے دیا ہو، اور زور سے اس کادل دھڑکنے لگا، فوراہی اس نے شیشہ بند کرلیا۔
(افسانہ نگار جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے ریسرچ اسکالر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *