کشکول عثمانی اورسرحد کے پار کی رسم اجرا

عبدالرحمن سیفؔ عثمانی نئی نسل کے نمائندہ قلم کار ہیں: مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی
دیوبند: ہیرا گارڈن میں علامہ شبیر احمد عثمانی ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام نوجوان قلم کار عبدالرحمن سیف ؔ عثمانی کی مطبوعہ دو نئی کتابوں ’’کشکول عثمانی‘‘ اور ’’سرحد کے پار‘‘ کی تقریب رونمائی مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مولانا قاری ابوالحسن اعظمی، مولانا ندیم الواجدی، مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، ڈاکٹر شباب عالم، مولانا حسیب صدیقی، صبور احمد صدیقی، محشر آفریدی، عبداللہ راہی ؔ اور سید وجاہت شاہ کے ہاتھوں انجام پذیر ہوئی۔
news foto deoband 03
اس موقع پر صدارتی خطاب میں مولا نا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا:دیوبند کی سرزمین صلاحیتوں سے بھری پڑی ہے، اور اس کی مٹی سے ہر دور میں ممتاز افراد صفحۂ ہستی پر نمودار ہوتے رہے ہیں، ایک ایسے ہی خاندان کے فرد جس کے یگانہ روزگار افراد کی تاریخ اور کارناموں سے عالم واقف ہے، عبدالرحمن سیف ؔ عثمانی ہیں۔ ان کی یہ دونوں کتابیں مطالعہ میں آئیں، زبان و بیان پر ان کی گرفت اور اسلوب و ادا کی خوبصورتی نے متاثر کیا۔ میری دعا ہے کہ مستقبل میں ان کا سفر مثبت پہلوؤں کو اجا گر کرتا رہے اور دور حاضر میں جس طرز تحریر اور اندازفکر کی ضرورت ہے، وہ ان کے ہم عنا ں رہے ۔ آج کے عبدالرحمن سے زیادہ مجھے مستقبل کے عبدالرحمن کا انتظار ہے اور یقین ہے کہ میری یہ تمنا ضرور پوری ہوگی ۔ مولانا قاری ابوالحسن اعظمی رکن رابطہ عالم اسلامی نے کہا: ہماری فہرست میں ایک خوشگوار اضافے کی شکل میں ان دو کتابوں کے مصنف برادر عزیزم عبدالرحمن سیف ؔ یہاں جلوہ گر ہیں ۔ان کے سفرنامے میں جو کچھ بھی ہے برجستہ اور اوریجنل ہے ۔انہوں نے کسی بھی موجودہ مطبوعہ سفرنامے کو قطعاً دیکھے بغیر اس موضوع پر لکھنے والے کسی بھی مصنف کے طرز و انداز سے اثر لیے بغیر لکھا ہے ، جو کچھ بھی ہے اپنا ہے ، صرف اپنا ، یہ آغاز ہے ، مستقبل کے لیے دعا ہے اللہ کر ے زور قلم اور زیادہ۔ مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ جس خانوادے سے عبدالرحمن سیف کا تعلق ہے وہ سب آسمان علم و فضل کے وہ آفتاب و ماہتاب ہیں جو کبھی غروب نہیں ہوتے۔ ان کی روشنی سے پورا عالم منور رہتا ہے، ایک سے ایک بڑھ کر برگزیدہ ہستی اور ممتاز شخصیت نسلوں کے تفاوت کے باوجود اس خانوادے کی خصوصیات اسی طرح جاری ہیں ۔ عبدالرحمن سیف ؔ کی یہ دونوں کتابیں ایک نوجوان قلم کار کی فکر اور بصیر ت کا آئینہ ہیں ۔ اس آئینہ میں ہر وہ تصویر موجود ہے جس کا تعلق ہماری زندگی سے ہے۔ افسانے بھی ہیں ، غزلیں بھی ہیں نظمیں بھی ، اصلاحی اور دینی مضامین بھی ہیں اور دل کے درد بیان کرتی ہوئی رواں نگارشات بھی۔ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا : عبدالرحمن سیفؔ کی تحریریں نہ صرف پختگی کا احساس دلاتی ہیں بلکہ اپنی جاذبیت اور انفرادیت کا بھی اظہار کرتی ہیں ۔ انہوں نے جو لکھا دلی جذبے اور اخلاص فکر کے ساتھ لکھا اسی لیے ان کی یہ دونوں کتابیں خود کو پڑھنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر شباب عالم نے کہا کہ ان کا سفر نامہ’’ سرحد کے پار‘‘ایک ایک منظر کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے جو دیکھا ،جن لوگوں سے وہ ملے ، جن جگہوں پر انہیں جانے کا موقع ملا سب کو انہوں نے دلکشی کے ساتھ کاغذ پر اتار دیا ہے۔ ہر تصویر اتنی واضح اور صاف ہے کہ قاری ہر جگہ اپنے آپ کو پاتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ وہ بھی صاحب قلم کے شریک سفر ہے۔ مولانا حسیب صدیقی نے کہا : انتہائی خوشی کی بات ہے کہ سرزمین دیوبند کے ایک ہونہار فرزند اور مستقبل کے ایک بڑے قلم کار کی دو نئی کتابوں کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا ۔کتاب پڑھی ، اچھی لگی ، دل کو بھائی ، بہت سے جملے اور عبارتیں بار بار پڑھنے پر دل مجبور ہوا ، میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں وہ اسی طرح قلمی سفر جار ی رکھیں اور قدرت ان کی نگہبانی کرے۔الحرمین فارما انڈیا غازی آباد کے چےئرمین صبور احمد صدیقی نے اپنے دلی تاثرات کا یوں اظہار کیا: پچھلوں کی زندگی کو اگلوں تک پہنچانے کی ذمہ دار ی ان لوگوں کی زیادہ ہے جو تحریر و قلم سے وابستہ اور تقریر و خطابت کے عنوان سے جانے جاتے ہیں۔ عبدالرحمن سیفؔ عثمانی اپنے بڑوں کی روایتوں کو زندہ کر رہے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ یہ کرنا چاہیے۔ شروعات توہو انجام تک پہنچانے والی ذات اللہ کی ہے اور جب لگن سرمایہ ہو تو عبدالرحمن سیف ؔ جیسے قلم کار کا سفر قابل رشک بنے گا ۔ روڑکی سے تشریف لائے معروف شاعر محشر آفریدی نے کہا : میں عبدالرحمن سیف ؔ عثمانی کو گزشتہ کئی سالوں سے جانتا ہوں ،یہ اردو زبان و ادب اور لسانیات سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے ان کی تحریروں میں زبان و ادب کی لطافت اور انشاء پردازی کی چاشنی کا احساس نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ عبدالرحمن سیف عثمانی فقط اچھے نثر نگار ہی نہیں بلکہ ایک زود گو اور برجستہ شاعرہونے کے ساتھ ساتھ اچھے آرٹسٹ بھی ہیں۔
اس موقع پر علامہ شبیر احمد عثمانی ایجوکیشنل ٹرسٹ دیوبند کی جانب سے علمی ادبی اور سماجی خدمات کے پیش نظر مہمانان کرام کو مومنٹو اور گفٹ پیش کیے گئے ۔اسی تقریب میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی سرپرستی میں چل رہے ادارے معہد الامام ولی اللہ الدہلوی، ممدا پور ، نیرل ، مہاراشٹر کے طلبہ کی علمی تحقیق پر مبنی دو کتابوں ’کامیاب انسان کون اور کیسے؟‘ اور’ دورحاضر میں فکرنانوتوی کی اہمیت ‘کا بھی اجرا عمل میں آیا ۔ پروگرام کی نظامت سید وجاہت شاہ نے کی اور اختتام پر عبداللہ راہی ؔ نے سبھی آنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ دارالعلوم اور دیگر مدارس کے ہزاروں طلبہ کے علاوہ شہر کے سیکڑوں معزز لوگوں نے اس پروگرام میں شرکت کی جن میں زہیر احمد زہیر ، شاہ فیصل عثمانی، سعود احمد صدیقی ، مفتی انیس الرحمن عثمانی ، قاری محمد عاصم ، انعام قریشی ، مولانا نظیف احمد ازہری ، حاجی اسعد صدیقی ، قدرالزماں ، صدرالزماں ، ماسٹر جاوید ، محمد رفیع صدیقی ، عار ف عثمانی ،عتیق احمد ، لیاقت خاں ، قاری علاؤ الدین ، مفتی خورشید حسن ، اسامہ عزیز عثمانی ، قاری سہیل عزیز ، معاز عثمانی، صفوان عثمانی، مفتی نوید صدیقی ، فرحان الحق ، محمد صہیب صدیقی ، کمال احمد صدیقی ، انس صدیقی اور عمیس صدیقی اور غفران انصاری کے نام قابل ذکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *