معذور بچوں کا سرحدی ضلع، پونچھ

سید بشارت حسین شاہ بخاری
سید بشارت حسین شاہ بخاری

کسی بھی ملک وقوم،ریاست وضلع، شہر وگاﺅں، خاندان اور والدین کے بچے اس کی دولت اور سنہرا مستبقل ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بوجھ انھیں کے نازک کندھوں پر ہوتا ہے، اس لئے ان کندھوں کو نہ صرف مضبوط ہونا چاہئے بلکہ اس کندھے کی تربیت بھی اسی انداز سے ہونی چاہئے تاکہ سرحد کو محفوظ بنایا جاسکے، کیونکہ سرحد یں مضبوط ہوں گی تو ملک و ریاستیں خود بخود پائیدار ہوجائیں گی۔ اسی لئے ریاستیں اپنے شہریوں کی صحت کا خاص خیال رکھتی ہیں اور اپنے سالانہ بجٹ میں موٹی رقم محکمہ صحت کے لئے مختص کی جاتی ہیں، مگر یہ رقم کس کو صحت مند بناتی ہیں یہ اپنے آپ میں سوال ہے کیونکہ زمینی سطح کا جب جائزہ لیاجاتا ہے تو آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی صحت وتندرستی کے محکمہ پر ایک سوالیہ نشان اپنا منہ کھولے بڑی بڑی سرخ آنکھوں سے گھورتا ہوا ہی نظر آتا ہے، جس کی مثال ریاست جموں کشمیر کا سرحدی ضلع پونچھ ہے جس کی آبادی سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق۷۔۴ لاکھ ہے جس میں شہری آبادی 0.38 لاکھ ہے جبکہ 4.3 لاکھ دیہی آبادی ہے۔ سال ۲۰۱۵ میں دہلی میں واقع غیر سرکاری تنظیم چرخہ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کے مطابق ضلع پونچھ میں معذور خواتین کی تعداد ۳۵ فیصد ہے جبکہ مردوں کی تعداد دوگنا کے قریب ۶۵ فیصد ہے۔ اگر عمر کے حساب سے اندازہ لگایا جائے تو دس سال سے کم عمر کے معذور بچوں کی تعداد 7فیصد ہے جبکہ دس سے بیس سال کے معذوروں کی سب سے بڑی تعداد یعنی ۳۰ فیصد ہے ۲۱ سے ۳۰ سال کے معذور افراد ۲۰ فیصد ہیں۔ اسی طرح ۳۱ سے ۴۰ سال کے معذور ۱۵ فیصد ہیں، ۱۴ سے ۵۰ سال کے معذور افراد ۱۰ فیصد، ۵۱ سے ۶۰ سال کے ۶ فیصد ۶۱ سے ۷۰ سال کے ۴ فیصد ۷۱ سے ۸۰ سال کے محض دو فیصد ۸۱ سے ۹۰ سال کی عمر کے ایک فیصد افراد معذور ہیں۔ مذکورہ سروے سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ نوجوان معذور افراد کی تعداد سرحدی ضلع پونچھ میں ۳۰ فیصد ہے اور جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے معذوروں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے، جب کہ ملک کے بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد معذور ہے۔ جو اپنے آپ میں توجہ طلب اور فکر انگیز ہے، جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس محکمہ صحت کو بھی اس طرف فوری توجہ دینی چاہئے، کیونکہ اس مذکورہ محکمہ کی ذمہ داری دیگر تمام محکمہ جات سے زیادہ ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے گاﺅں ہاڑی جو سرنکوٹ شہرسے تقریباً ۱۵ کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے۔ یہاں کے باشندے عبدالحمید بانڈے کے مطابق ’’تقریباً ۱۸ سال قبل ایک ہیلتھ سینٹر ہمارے گھر میں قائم کیا گیا تھا پھر چار سال بعد ہمارے بھائی کے گھر میں یہ سینٹر منتقل کر دیا گیا اور اب گزشتہ تین برسوں سے اس سہولت سے بھی محروم ہو گئے، آج تک گاﺅں میں ہیلتھ سینٹر کی کوئی بھی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ معمولی بیماری کے لئے بھی یہاں کے باشندگان کو مرہوٹ یا سرنکوٹ کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جس کیلئے پیدل چلنا پڑتا ہے۔‘‘

جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع کے معذور بچے
جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع کے معذور بچے

اسی گاﺅں کے ایک ہی محلہ میں بہت سارے پیدائشی معذور ہیں۔ اسی ضمن میں عبدالعزیز سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ”میری بیٹی صوبیہ عزیز جس کی عمر تین سال ہے، وہ نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی ہے۔ میں نے اس کے علاج پر کافی پیسے خرچ کئے لیکن کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ اس کا علاج ممکن ہے اور علاج کے بعد بولنے کے ساتھ سننے کی قوت بھی رکھے گی“ (صوبیہ تصویر نمبر ایک پر دیکھی جا سکتی ہے )۔ غلام مجتبیٰ عمر۷ سال سے بات کی گئی تو اس نے بتایا کہ ”میں پیدائشی معذور ہوں اور چوتھی جماعت میں زیر تعلیم ہوں“ (تصویر نمبر ۳ پر دیکھا جا سکتا ہے)۔ غلام مجتبیٰ کی بہن کے مطابق ”ہم آج تک اس کا مصنوعی ہاتھ نہیں لگوا سکے“۔ اسی محلہ کی ایک اور معذور شمشاد اختر عمر۸ سال نے بتایا کہ ”بچپن ہی سے میرے ہاتھ کی انگلیاں جڑی ہوئی ہیں۔ انگلیاں الگ کروانے کیلئے آپریشن بھی کراویا تھا مگر کامیاب نہ ہوسکا، اس ہاتھ سے کام نہیں کرسکتی۔“ (تصویر نمبر ۲)۔ سات سالہ ناظمین اخترکی دادی کے مطابق ”ناظمین کی عمر سات سال ہے یہ بولنے، سننے اور چلنے کی قوت نہیں رکھتی اور پوری طرح دوسروں پر انحصار رکھتی ہے۔ اس کواٹھا کر اندر باہر لے جانا پڑتا ہے۔“ (تصویر نمبر ۴)۔ دس سالہ نگینہ کوثر ( تصویر نمبر ۶) کی ددادی نے بتایا کہ ”نگینہ چھٹی جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کے دونوں ہاتھ کافی کمزور ہیں اپنے ہاتھ میں قلم بھی نہیں پکڑ سکتی نگینہ کا علاج و معالجہ معاشی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو سکا اور نگینہ کے والد بھی شوگرکے مرض میں مبتلا ہیں۔“ بلال احمد عمر۹ سال (تصویر نمبر۵) کے متعلق بات کی گئی تو اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ ”جب ڈاکٹروں کو چیک کروایا گیا تو انہوں نے کہا اس کو گھر واپس لے جاﺅ۔ اس کا علاج کروا کے کیا کرو گے۔ بلال کی دادی مطابق بلال منگول (ایک بیماری کا نام ) میں مبتلا ہے جس میں جسم کے اعضا چھوٹے ہو جاتے ہیں اور سننے کے ساتھ سمجھنے کی قوت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کو جب ہم ڈھوک جاتے ہیں تو مزدور سے اٹھوا کر لے جاتے ہیں۔ یہ خود نہیں چل سکتا۔“ اسی محلہ کی ایک اور دوشیزہ سمیا خاتون ۱۵ سے جب بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ”میں نے نویں جماعت ہائی اسکول ہاڑی میں داخلہ لیا تھا۔ لیکن میرا پاﺅں مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں چل کر وہاں جا سکوں۔ پاﺅں پہلے ٹیڑھا تھا اب اسکا آپریشن ہوا ہے۔“ سمیا کی والدہ سے جب بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ”تقریباً تین لاکھ روپئے سمیا کے علاج پر لگ چکے ہیں۔ یہ اب بھی اسکول تک چل کر نہیں جا سکتی۔“ جب اسی محلہ کی ایک معذور عورت زینب نور کے متعلق بات کی گئی تو ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ ”ان کی ایک ٹانگ میں پہلے درد ہوا جب معالجہ کروانے پر ٹھیک نہ ہوئے تو ان کی ٹانگ کٹوا دی گئی اور یہ اب ایک ہی ٹانگ پر گزارا کر رہی ہیں، انہیں مصنوعی ٹانگ اب تک نہیں لگوا سکے جس کی اشد ضرورت ہے، ان کو پنشین بھی نہیں ملتی، کیونکہ اس کے لئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ اور دیگر لوازمات درکار ہوتے ہیں جن کو بنوانے کیلئے اتنا سفر طے کرکے سرنکوٹ جانا ان کیلئے دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔“

قارئین درج بالا حقائق سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سرکار ی اسکیمیں ان لوگوں کی پہنچ سے کتنی دور ہیں اور ان کیلئے کتنی کار آمد ثابت ہو رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی ضلع میں اتنے لوگ معذور کیوں ہیں؟ ضلع پونچھ کے عوام سرحدی ہونے کی وجہ سے وقتاً فوقتاً سزائیں بھگتتے آئے ہیں اور اب بھی بھگت رہے ہیں۔ اس لئے جمہوری حکومت سے مخلصانہ اپیل ہے کہ خدارا آنے والی نسلوں کو بچایا جائے۔ ہاڑی گاﺅں میں اعلیٰ سطح کی ٹیم بھیجی جائے جو یہاں کا معائنہ کر سکے، اسپتال قائم کرنے کے علاوہ ضلع پونچھ میں ایک ہینڈی کیپ کئیر سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے جس میں معذور افراد اپنے امراض کا علاج وقت پر مفت کروا سکیں تاکہ ضلع کو مزید معذور بننے سے بچایا جائے۔ (چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *