برطانیہ میں مسلم خواتین پر انگریزی تھوپنے کی کوشش

Asha Tripathi آشا ترپاٹھی

برطانیہ میں مسلم خواتین کو انگریزی زبان سیکھنا لازمی ہے. اس کے لیے وہاں کی حکومت تین کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرے گی. یہ سننے میں تو بہت اچھا لگ رہا ہے کیونکہ علم کبھی بھی برا نہیں ہوتا. اگر مسلم خواتین انگریزی سیکھ جاتی ہیں اور روانی کے ساتھ انگریزی بولنے لگتی ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے. یقینی طور پر کچھ ناخواندہ مسلم خواتین کے لیے اسے با اختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم مانا جائے گا. لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ جن وجوہات سے انگریزی سیکھنے کی ذمہ داری عائد کی جا رہی ہے، وہ برطانوی حکومت کی منشا پر شک پیدا کر رہی ہیں. اگر اس شک کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اسے مسلم خواتین پر زبردستی زبان مسلط کرنے کی کوشش بھی کہا جا سکتا ہے. یہاں یہی سوال قابل غور ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت مسلم خواتین کو با اختیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے یا ان پر زبردستی انگریزی زبان کو تھوپنے کی؟ اگر مسلم خواتین کو با اختیار بنانے کے مقصد سے انہیں انگریزی سكھانے کی کوشش ہے تب تو یقینا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہوگی لیکن وہیں اگر اسے کچھ فیصد ناخواندہ مسلم خواتین کو انگریزی سیکھنے کے لیے زبردستی مجبور کیا جاتا ہے تو اس مہم کی منفی عکاسی ہوگی. کیونکہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ دنوں کہا ہے کہ ان کے ملک میں قیام پذیرغیرملکی مسلم خواتین اگر اچھی انگریزی سیکھنے میں ناکام رہتی ہیں تو انہیں ملک چھوڑ کر جانا پڑ سکتا ہے.

کیمرون کے مطابق، کمزور انگریزی زبان کی وجہ سے لوگوں کے اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے پیغامات سے آسانی سے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے. ان کے مطابق، یہ اصول ان مائوں پر بھی لاگو ہو سکتا ہے جو یہاں آکر بسی پیں اور برطانیہ میں ان کی اولاد ہوئی ہے.برطانوی وزیر اعظم کے مطابق انگریزی سیکھنے کی کوشش کرنے والی مسلم خواتین کو ڈھائی سال بعد ایک ٹسٹ سے گذرنا ہوگا جس سے یہ پرکھ ہوگی کہ ان کی انگریزی کتنی بہتر ہوئی ہے. سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا ایک لاکھ نوے ہزار مسلم خواتین انگلینڈ میں قیام پذیر ہیں. ان میں سے کم و بیش۲۲ فیصد یعنی تقریبا چالیس ہزار ایسی ہیں، جنہیں بہت کم انگریزی آتی ہے یا بالکل آتی ہی نہیں ہے. ایک سرکاری اندازہ کے مطابق پانچ کروڑ ۳۰ لاکھ لوگوں کی آبادی والے برطانیہ میں تقریبا ۲۷ لاکھ آبادی مسلمانوں کی ہے. ایک انٹرویو میں ڈیوڈ کیمرون نے مسلم خواتین کو انگریزی سکھانے کے لیے تین کروڑ امریکی ڈالر خرچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے. برطانیہ کی شہریت کے قوانین کے مطابق، بیرون ملک سے جاکر وہاں بسنے والے لوگوں کی اولاد کو بھی برطانیہ کی شہریت مل جاتی ہے. اس کو وہاں رہنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اپنے والد کے ساتھ. ماں پر یہ اصول نافذ نہیں ہوتا. کہا گیا ہے کہ جو مسلم خواتین مستقل طور پر برطانیہ میں بسنا چاہتی ہیں، انہیں برطانوی پاسپورٹ کے کوالیفائی کرنے کے مقصد سے روانی کے ساتھ انگریزی زبان آنی چاہیے.

برطانیہ میں مختلف فرقوں کی ‘غیر فعال رواداری’ ایک مضبوط معاشرے کی تعمیر میں مدد کرے گی. حکومت مانتی ہے کہ جنسی تنہائی اور امتیازی سلوک اور معاشرے سے کچھ خواتین کے کٹے رہنے سے تعصب اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو جائے گا. حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ اس کا مقصد مسلم خواتین کو با اختیار بنانا اور ان کے انگریزی زبان کے علم کو بڑھانا ہے. اس طرح برطانیہ کے معاشرے کو متحد رکھتے ہوئے ایک مضبوط معاشرے کی تعمیر کر سکتے ہیں. مسلم خواتین کے لیے مجوزہ انگریزی کی کلاسیں ان کے گھروں، اسکولوں اور عوامی مقامات پر لگائی جائیں گی. برطانیہ کے نئے ویزا قوانین کے مطابق پارٹنر ویزا پر برطانیہ آنے والی خواتین کو روانی کے ساتھ انگریزی آنی چاہیے.

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہندوستانیوں کی تعداد زیادہ ہے. یہی وجہ ہے کہ لندن میں ہر آٹھ دس قدم پر اپنے جیسے چہرے دکھائی دے جاتے ہیں. کہیں اسٹیشن پر ٹکٹ کاٹتے تو کہیں بس ٹرین چلاتے، کہیں پولیس کی وردی میں تو کہیں کالجوں کے کیمپس میں، کہیں دکانوں پر یعنی قریب قریب ہر طرف اپنے جیسے چہرے. کچھ علاقے تو ایسے بھی ہیں، جہاں لگتا ہے کہ ہم بھارت ہی میں ہیں اور وہاں کے مقامی انگریز یعنی گورے اجنبی لگتے ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ لندن میں آبادی میں گورے انگریزوں کا حصہ گھٹ کر آدھے سے بھی کم ہو گیا ہے. یوں کہیں کہ پہلی بار دوسرے ملکوں آئے لوگ یہاں اکثریت میں ہو گئے ہیں۔ ان میں پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا جیسے ملکوں کے لوگ بالترتیب سب سے زیادہ ہیں. برطانیہ میں مردم شماری کرنے والے محکمہ آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹكس کے سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق برطانیہ کی آبادی قریب ۶ کروڑ ۳۲ لاکھ ہے. اس کے مطابق لندن میں گورے انگریزوں کی آبادی گھٹ کر۴۵ فیصد رہ گئی ہے، جو دس سال پہلے ۵۸ فیصد ہوا کرتی تھی. یعنی اب لندن میں۵۵ فیصد لوگ بیرون ملک کے یا غیرملکی نژاد ہیں جو ایشیائی، یورپ کے دوسرے ملک، كیريبيائی اور دیگر ملکوں کے ہیں. سب سے بڑی تعداد ایشیائی کی ہے جن میں بھارتی سب سے زیادہ ہیں. ویسے لندن کے باہر، پورے برطانیہ میں اب بھی گورے انگریز ہی اکثریت میں ہیں. حالانکہ آبادی میں ان کا تناسب دس سال میں گھٹا ہے. ۲۰۰۱ میں یہ ۸۷ فیصد تھا، ابھی قریب ۷۸ فیصد رہ گیا ہے. برطانیہ کی آبادی کے تناسب میں گذشتہ ۱۰ سالوں میں آئی تبدیلی کی بنیادی وجہ تارکین وطن کی برطانیہ آمد کو بتایا جاتا ہے. برطانیہ کے اہم صوبوں انگلینڈ اور ویلز میں ہر آٹھواں شخص غیرملکی ہے.

برطانیہ میں تارکین وطن میں سب سے زیادہ بھارت سے منسلک لوگ ہیں. یعنی ایسے لوگ جو یا تو برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے والے ہندوستانی ہیں، یا یہاں رہ رہے بھارتی. گذشتہ تقریبا دس پندرہ سالوں میں برطانیہ کی آبادی میں بھارتی اور بھارتی نژاد لوگوں کا حصہ ڈھائی سے بڑھ کر تقریبا تین فیصد ہو گیا ہے. اس حساب سے برطانیہ میں بھارتی اور بھارتی نژاد لوگوں کی تعداد تقریبا ۱۸ لاکھ ہوتی ہے. ان میں سے آٹھ لاکھ، یعنی تقریبا نصف ایسے بھارتی ہیں جن کی پیدائش برطانیہ سے باہر ہوئی اور جو اب برطانیہ میں رہ رہے ہیں. برطانیہ میں ہندوستانیوں کی تعداد بڑھنے کی تین وجوہات ہیں. پہلی یہ کہ شروع شروع میں ہندوستان سے لوگوں کو کام کے لیے یہاں بلایا گیا جسے بعد میں بند کر دیا گیا. دوسری یہ کہ افریقی ممالک کی آزادی کے بعد وہاں سے بھارتی برطانیہ آکر آباد ہوئے اور تیسری یہ کہ گلوبلائزیشن کے دور میں کثیر قومی کمپنیوں نے کام کے لیے بھارت سے پیشہ ور لوگوں کو برطانیہ لانا شروع کیا. یہ دلچسپ ہے کہ برطانیہ میں رہ رہے ہندوستانیوں کی تعداد چینی اور امریکی کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے. بھارت کے بعد پولینڈ کے ۸ء۸۸ لاکھ، پاكستان کے ۵ء۱۵ لاکھ، آئرلینڈ کے ۳ء ۷۸ لاکھ ، جرمنی کے ۲ء ۹۷ لاکھ اور بنگلادیش کے ۲ء ۲۸ لاکھ افراد رہتے ہیں. جنوبی افریقہ کے ۲ء۲ لاکھ، امریکہ کے ۱ء۹۷ لاکھ، چین ۱ء۹۱ لاکھ اور نائیجیریا کے ۱ء۸۵ لاکھ لوگ برطانیہ میں رہتے ہیں. تازہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی معاشرے میں ہندوستانیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے. برطانیہ کے لیے بھارت کی اہمیت کا پتہ اسی بات سے چلتا ہے کہ سال ۲۰۱۰ میں وزیر اعظم بننے کے بعد ڈیوڈ کیمرون تین بار ہندوستان آئے.

بہر حال، ان اعداد و شمار کی عکاسی کا مطلب یہ تھا کہ پتہ چلے کہ کس ملک کے لوگ برطانیہ میں زیادہ رہتے ہیں. اعداد و شمار سے واضح ہو گیا کہ ہندوستانی نژاد لوگ ہی وہاں زیادہ تعداد میں ہیں. فطری بات ہے کہ بھارتی مسلمان بھی وہاں زیادہ ہونگے اور بھارتی مسلم خواتین بھی. ان حالات میں انگریزی زبان کے سلسلے میں برطانیہ میں جو فرمان جاری کیا گیا ہے، اس پر حکومت ہند کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے. یہ ٹھیک ہے کہ علم ہونا چاہیے، لیکن خواندہ نہ ہونے پر “ملک نکالا” جیسی سزا ملنے لگے، یہ بھی تو ٹھیک نہیں ہے. یوں کہیں زبان مسلط کرنے کی کوشش میں سخت قانون بنانے کی جگہ تھوڑی نرمی بھی دی جانی چاہیے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *