اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ضم ہونگے اس کے سبھی ذیلی بینک

نئی دہلی
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذیلی بینکوں کے انضمام کو منظوری دے دی گئی۔ ان بینکوں میں اسٹیٹ بینک آف بیکانیر اینڈ جے پور، اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، اسٹیٹ بینک آف میسور، اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ اور اسٹیٹ بینک آف ٹراونکور شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (سبسڈیری بینکس) ایکٹ 1959 اور اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد ایکٹ 1956 کو منسوخ کہے جانے کے لہے پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کو بھی منظوری بھی دے دی۔

اسٹیٹ بینک کے ذیلی بینکوں کے انضمام سے پہلے سال میں ہی ایک ہزار کروڑ روپے سے زائد کی بچت حاصل کی جاسکے گی اور لاگت میں بھی کمی ممکن ہوسکے گی۔ اس کے تحت ان ذیلی بینکوں کے موجودہ صارفین کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے گلوبل نیٹ ورک تک رسائی میں بھی آسانی ہوگی۔ علاوہ ازیں اس انضمام سے گہری دیکھ بھال اور نقدی کے بہاؤ پر مسلسل نظر رکھے جانے کے نتیجے میں بڑی رقوم کے قرض کا بہتر نظم کیا جاسکے گا۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا ایکٹ 1955 کی دفعہ 35 کے تحت اس انضمام سے ان ذیلی بینکوں کی مضبوط ضم شدہ اکائی قائم ہوسکے گی۔ اس سے کام کاج میں بہتری پیدا ہوسکے گی اور نقدی آپریشنز کو جوکھم سے بچایا جاسکے گا۔

واضح ہوکہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ذیلی بینکوں کا یہ انضمام پبلک سیکٹر کے بینکوں کو مربوط کرکے بینکنگ کے شعبے کو مضبوط بنائے جانے کی سمت میں ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ حکومت کے اندردھنش منصوبہ کے تحت کیا جانے والا ایک اہم فیصلہ ہے۔ توقع ہے کہ اس سے بینکنگ کے شعبے میں استحکام پیدا ہوگا اور بینکوں کی اثر انگیزی اور منفعت میں اضافہ ہوسکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *