کیمپس فرنٹ کا ڈریس کوڈ کے خلاف احتجاج

Campus Front Protest Photo
نئی دہلی:
کیمپس فرنٹ آف انڈیا کی جانب سے یہاں شاستری بھون پر آل انڈیا پری میڈیکل ٹسٹ(اے آئی پی ایم ٹی) کے ظالمانہ ڈریس کوڈ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں کیمپس فرنٹ کے ممبران، طلبا اوران کے سرپرستوں نے شرکت کی۔  طلبا نے اپنی ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے مرکزی حکومت اور سینٹرل تعلیمی بورڈ کے خلاف نعرے لگائے۔ دہلی پولیس نے مظاہرین کو شاستری بھون کے سامنے سے حراست میں لے لیا اور پارلیمنٹ ہاؤس پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
اس احتجاج سے خطاب کے دوران کیمپس فرنٹ کی قومی سکریٹری محترمہ عطیہ فردوس نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ جو مرکز میں آر ایس ایس کی چمچہ حکومت بیٹھی ہے، اس کی اقلیت دشمن پالیسیاں حکومتی اداروں میں جھلک رہی ہیں۔ یہ ڈریس کوڈ ان بابو لوگوں نے اقتدار میں بیٹھے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے نافذ کیا ہے، ورنہ حقیقت میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ یہ صرف مسلم ودیگر اقلیتی طبقات کو قومی دھارے سے باہر کرنے کی کوشش ہے۔ ہندوستان میں قومی سطح کے کئی امتحان ہوتے ہیں، کیا ہر ایک میں ایسے بیہودہ قوانین لاگو کیے جاتے ہیں؟ یونین پبلک سروس کے امتحان پوری دنیا میں اپنی سختی اور مسابقت کے لیے مشہور ہیں، لیکن وہاں بھی ایسے چنگیزی احکام نہیں دیے جاتے۔ یہ سراسر تعلیم کو زعفرانی رنگ میں رنگنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔
انہوں نے بورڈ کی جانب سے دیے گئے بے سر و پا کے جواز کی پول کھولتے ہوئے سوال کیا کہ ’’پچھلی بار جن کی وجہ سے یہ امتحان دوبا رہ لیا گیا،ان میں کتنے لوگ اسکارف یا برقعہ پہنتے تھے؟ کیا اگر اس بار بھی نقل ہوتی ہے تو اگلی بار طلبا کوکچھا بنیان پہن کرامتحان دینے کے لیے کہا جائے گا؟ کیا موبائل و انٹرنیٹ کے زمانے میں بچے آستینوں اور اسکارفوں میں چٹ لائیں گے؟ سب سے بڑی بات، کیا بورڈ یہ جتانا چاہتاہے کہ باحجاب لڑکیا ں ہی نقل میں ملوث ہیں اور بے حجاب طلبا نقل نہیں کرتے؟ یہ کیسی اندھیر نگری ہے؟ہمارا یہ ماننا ہے کہ جس کسی نے بھی یہ ایڈوائزری بھیجی ہے، سب سے پہلا میڈیکل ٹسٹ اسی کا کرایا جائے تاکہ پتا تو چلے کہ دماغی حالت میں کہاں تک خرابی ہے۔
اس احتجاج کی سربراہی کرتے ہوئے کیمپس فرنٹ کے قومی جنرل سکریٹری محمد صہیب نے کہا ’’ پچھلی باریہ معاملہ کورٹ میں گیا تھا، اس سے ان بابو لوگوں کو سبق لینا چاہیے تھا۔  لیکن دوبارہ اسی غلطی کو دہرانا یہ بتاتا ہے کہ یہ جان بوجھ کر اقلیتوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی نیت سے اٹھایا گیا قدم ہے۔ کورٹ میں جب معاملہ گیا تو جسٹس دتو نے کہا تھا کہ تین گھنٹی اسکارف یا حجاب نہ پہننے سے اسلام ختم نہیں ہوجا ئے گا۔ آج کچھ عقل کے اندھے اسی بات کو دہرا رہے ہیں۔ ہم ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام ہماری زندگی کے ہر لمحہ کا نام ہے، اور ہمارا مذہب جسٹس دتو وغیرہ کے بچکانہ اور ہلکے آبزرویشنس پر منحصر نہیں ہے۔
اس موقع پر ویمن انڈیا موومنٹ کی راجستھان شاخ کی صدر محترمہ مہرالنسا خاں نے کہاکہ ٹکنالوجی کے اس دورمیں یہ لوگ ایسے قوانین بنا رہے ہیں جو آج سے ۳۰؍ سال پہلے بھی نہیں چل سکتے تھے۔ نقل نویسی کا بہانہ بناکر یہ لوگ ہماری بہنوں کے انسانی و جمہوری حقو ق پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ڈریس کوڈ کی وجہ سے ایک مخصوص طبقہ کو تکلیف ہورہی ہے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ نام بھی اسی کا خراب کیا جارہا ہے۔ جس تعلیمی بورڈ کا کام سیکولرزم اور انصاف پسندی سکھانا تھا، اسی نے آج دونو ں کا گلہ دبا دیا ہے۔ ہم اس حکم کو خارج کرتے ہیں اور طلبا سے اپیل کرتے ہیں کہ امتحان گاہ کے اندر اور باہر اس کی مخالفت کریں۔
احتجاج کررہے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی قومی کمیٹی کی رکن محترمہ شاہین کوثر نے کہا کہ’’ کچھ دنوں پہلے بنگلور میں ایک لڑکی کو منی اسکرٹ پہننے پر اس کے پروفیسر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کے اگلے دن اس لڑکی کی حمایت میں سبھی لڑکیاں منی اسکرٹ میں کلاس میں آئیں۔ آج ہماری ہندوستان کی ہر لڑکی سے اپیل ہے کہ اس بنیادی و جمہوری حق کی لڑائی میں اقلیتوں کا ساتھ دیں اور بنگلور میں جس طرح سے جواب دیا تھا، اس امتحان میں با حجاب شریک ہوکر اس سازش کا جواب دیں تبھی ایسے بیہودہ ایڈوائزری کو بنانے والوں کو عقل آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *