کیا مسلمان ایسا کرسکتا ہے

umar-minhasعمر منہاس

دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ہو گا جس کی آنکھیں ذکر رسالت ﷺ پر نم نہ ہوں،اور جس کا دل ذکر رسالت ﷺ پر تڑپتا نہ ہو۔ میں حضرت اویس قرنی کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں جو زندگی بھر نبی کریم ﷺ کی زیارت نہ کرسکے لیکن عشق رسولﷺ نے انہیں صحابی کے درجے پر فائز کر دیا۔ وہ عشق رسول ﷺ میں اس مقام تک چلے گئے کہ انہیں کسی نے بتایا کہ جنگ احد میں آپ ﷺ کا دانت مبارک شہید ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنے تمام دانت توڑ لیے اور انہیں ان کا عشق اس مقام تک لے گیا کہ آپﷺ نے اپنا خرقہ مبارک حضرت اویس قرنی کو عنایت کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ فرمایا جو شخص انہیں یہ خرقہ دینے جائے وہ ا ن سے امت کی مغفرت کے لیے دعا بھی کروائے۔میں عشق رسولﷺ میں حضرت بلالؓ کی تقلید کا بھی قائل ہو ں۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلالؓ کے حلق سے اذان تک کی آواز نہ نکلتی تھی۔ آپ جب اذان دینے لگتے تو اشہد ان محمدالرسول اللہ پر پہنچ کر آپ کی آواز آنسوؤں میں ڈوب جاتی۔ جب حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی گرفتاری کا فیصلہ کیا تو حضرت عمر ؓ کو عالم اسلام میں حضرت بلال ؓ وہ واحد شخص دکھائی دیے جو اسلام کے سب سے بڑے سالار کو خلیفہ کا حکم پہنچا سکتے تھے۔ چنانچہ حضرت بلال ؓ خلیفہ کا پیغام لے کر حضرت خالد بن ولیدؓ کے پاس پہنچے اور انہیں گھوڑے سے نیچے اترنے کا حکم دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ چپ چاپ گھوڑے سے اتر آئے۔ حضرت بلالؓ نے انہیں اپنے ہاتھ آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے دونوں ہاتھ حضرت بلالؓ کے سامنے کر دیے۔ آپ ؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی پگڑی کھولی۔ اس پگڑی سے حضرت خالد بن ولیدؓ کے دونوں ہاتھ باندھے اور فرمایا”آپ خلیفہ کے حکم سے گرفتار ہو چکے ہیں“۔ حضرت خالد بن ولیدؓ سمیت دولاکھ مجاہدوں کے اس لشکر میں سے کسی کو بھی اس حبشی زادے کے سامنے انکار کی جرات نہ ہوئی۔ حضرت بلال ؓ،حضرت خالد بن ولیدؓ کو اسی حالت میں مدینہ منورہ لے کر آئے۔ میں عشق رسول ﷺ میں اسامہ بن زید کا بھی مقلد ہوں جنہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے لشکر کا سالار بنایا۔ آپﷺ کے وصال کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیقؓ نے یہ لشکر روانہ کیا تو خلیفہ وقت نے اس غلام زادے کے گھوڑے کی لگام تھام رکھی تھی اور مستقبل کے جید سپہ سالار اور خلفاء اس غلام زادے کے گھوڑے کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ میں عشق رسول ﷺ میں ان عاشقوں کے عشق کا بھی قائل ہوں جو زندگی کی آخر ی ساعتوں تک مدینہ منورہ کی گلیوں میں اپنے پاؤں میں جوتا پہن کر داخل نہیں ہوئے کہ کہیں ان کا جوتا کسی ایسی جگہ نہ آجائے جہاں کبھی نبی ﷺ نے اپنے پاؤں مبارک رکھے ہوں۔ میں عشق رسولﷺ میں ان لوگوں کی محبت کو بھی وضو کا درجہ دیتا ہوں جو نبی کریم ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرح اپنی داڑھی رکھتے ہیں۔ جو سنت سمجھ کر روز آنکھوں میں سرمہ لگاتے ہیں، سفید شلوار اور کرتا پہنتے ہیں، جو لوکی کدو کھا کر زندگی گزار دیتے ہیں کہ آپﷺ نے لوکی کدو کو پسند فرمایا تھا۔مجھے بھی نبی پاکﷺ کی ذات مبارکہ سے عشق ہے۔

لیکن اکثر سوچتا ہوں کہ میں اپنے نبیﷺ کا عاشق تو ضرو ر ہوں لیکن اپنے اقوال سے لے کر افعال تک کسی پہلو سے بھی محبوب خداﷺ کا امتی دکھائی نہیں دیتا۔ مثلاً میرے رسولﷺ کی برداشت پر تو ساتوں آسمان قربان ہو جاتے تھے۔ا ٓپ پر حرم شریف کے صحن میں نماز ادا کرتے ہوئے کفار اونٹنیوں کی اوجھڑیاں ڈال دیتے۔ آپ ﷺ کی سانس اکھڑنے لگتی۔ یہاں تک کہ حضر ت فاطمہ بے قرار ہو کر گھر سے نکلتیں۔ حرم شریف پہنچ کر روتی جاتیں اور آپﷺ کے سر سے غلاظت صاف کرتیں اور کفار کعبے کے سائے تلے کھڑے ہو کر قہقے لگاتے رہتے تھے۔ آپﷺ کو طائف کے لوگوں نے پتھر مارے۔ خون آپﷺ کے سر مبارک سے نکل کر نعلین شریف میں جم گیا۔ آپ نے درخت کے ساتھ ٹیک لگا ئی۔ خادم نے نعلین شریف اتاری تو آپ کی حالت دیکھ کر آنسو ضبط نہ کر سکا۔ اس وقت فرشتوں کی برداشت بھی جواب دے گئی۔ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کی یا رسول اللہﷺ آپ حکم دیں تو میں طائف کی اس وادی کو دونوں پہاڑو ں کے درمیان پیس دوں۔ آپ نے فرمایا”نہیں شاید ان کی آنے والی نسلیں مسلمان ہو جائیں“۔ایک بوڑھی عورت روزانہ گھر کا کوڑا کرکٹ لیے چھت پر کھڑی ہوتی ہے۔ جب محمدﷺ وہاں سے گزرتے ہیں تو وہ سارا کوڑا کرکٹ ان پر الٹ دیتی ہے۔ آپ ﷺ سر اٹھاکر اوپر دیکھتے ہیں اور جبین نیاز پر کوئی شکن لائے بغیر مسکرا کر گزر جاتے ہیں۔ کچھ دن خلاف معمول جب بڑھیا ان پر کوڑا کرکٹ نہیں پھینکتی تو اس کے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔ دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔پتہ چلتا ہے بڑھیا بیمار ہے۔ آپﷺ اس کی بیمار پرسی کرتے ہیں۔ اس کے گھر میں جھاڑو دیتے ہیں۔ اسے دوا لا کر دیتے ہیں اور جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی آپ ﷺ کا یہی معمول رہتا ہے۔ ایک بڑھیا گٹھری سر پر رکھے کہیں جا رہی ہے۔ آپ ﷺ اس سے پوچھتے ہیں کہ اماں کہاں جا رہی ہو۔ وہ کہتی ہے بیٹا۔۔۔!سنا ہے اس شہر میں ایک جادو گر آیا ہوا ہے جس کا نا م محمد ہے، جو اس سے ملتا ہے یا اس سے بات کرتا ہے وہ اسی کا ہو جاتا ہے۔ میں اسی کے ڈر سے یہ شہر چھوڑ کر جارہی ہوں۔ آپﷺ اس سے گٹھری لے کر اسے منزل تک پہچاتے ہیں اور واپسی کی اجازت چاہتے ہیں۔ بڑھیا بہت دعائیں دیتی ہے اور نصیحت کرتی ہے کہ بیٹا۔۔! تم بھی اس ’محمد‘سے بچ کر رہنا۔وہ مسکرا کر کہتے ہیں اماں جی وہ’محمد‘ تو میں ہی ہوں۔ ہم سب نبی کریم ﷺ کے عاشق ہیں لیکن نبی کریم ﷺ کے وہ عاشق کہاں ہیں جو برداشت کو سنت سمجھتے تھے۔ جو بڑے سے بڑے اختلاف کو ہنس کر سہہ جاتے تھے، اور جو انسان کو اخری سانس تک اصلاح کا موقع دیتے تھے۔ہم نبی کریم ﷺ کی حیات کے ان پہلوؤں پر عمل کیوں نہیں کرتے جن میں آپﷺ مسکراتے دکھائی دیتے ہیں،جن میں آپﷺ پودوں سے لے کر جانوروں تک سے شفقت فرماتے ہیں۔ یہ درست ہے ہمیں عاشق رسولﷺ ہونا چاہیے کیونکہ عشق رسول کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا لیکن ہمیں عاشق کے ساتھ ساتھ رسول اللہﷺ کا امتی بھی ہونا چاہیے۔ ہماری زندگی میں رسول اللہ کے کسی قول کی جھلک تو دکھائی دینی چاہیے،لیکن افسوس ہماراعشق صرف بارہ دنوں کے لیے ہوتا ہے اور وہ بھی صرف نام نہاد۔۔۔صرف بینر لگانے سے۔۔۔بڑے بڑے جھنڈے لگانے سے۔۔غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کا نعرہ تو ہم لگاتے ہیں لیکن بازار چھوڑ کر مسجد کا رخ نہیں کر سکتے۔کاش!ہم رسول اللہﷺ کی کوئی سماجی سنت ہی اپنا لیتے، دوسروں کو برداشت کرنا شروع کر دیتے، ہم دوسروں کو دیکھ کر آنکھیں پھیرنے کی بجائے مسکرانا ہی شروع کر دیتے۔۔۔۔ کاش کہ ایسا ہو جاتا !

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *