ذات پات اور فرقہ پرستی کی سیاست، فائدہ کسے؟

مولانا عبدالحمید نعمانی ✍️

دلت کمیونٹی اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو لے کر جس  قسم کی سیاست اور ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی  ہے، اس نے ہندوتو وادیوں اور برہمن وادیوں کے عزائم و مقاصد کو پوری طرح اجاگر کردیاہے، دلتوں اور آدی واسیوں کے لیے انصاف برابری اور ملک کے وسائل و حیات میں منصفانہ حصہ داری کے ساتھ ان کی آزادی کے متعلق ہزاروں برسوں سے ملک میں جو حالات بناکر رکھے گئے ہیں، ان سے جہاں بہت سے سوالات کھڑے ہوئے ہیں، وہیں سماج کے اشرافی طبقات کے عزائم کو بھی پوری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں، چاہے جات پات مبنی طبقاتی نظام اور اس کو بحال و جاری رکھنے کا معاملہ ہو یا فرقہ پرستی پر مبنی سماج کی تقسیم و تشکیل کی بات ہو، دونوں ایک مخصوص طرح کے فکر و طرز عمل کی زمین پر پروان و پرورش پاتے اور برگ و بار لاتے ہیں، چاہے دلت کے سلسلہ میں جارحانہ اقدامات ہوں اور اقلیتوں خصوصاََ مسلم اقلیت کی طرف ہر معاملے کے رخ کو موڑ دینے کی بات ہو، اس میں منووادی اصول و فکر اور فرقہ پرستی کی ذہنیت کا رفرما ہوتی ہے، جات پات اور فرقہ پرستی بسااوقات ہجومی حملے اور فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں، اور جب تک جات پات اور فرقہ پرستی کی جڑ کو کاٹ نہیں دیاجاتا ہے، تب تک بھارت جیسے ملک میں ان کے عنوانات سے سیاست اور خاک وخون کا کھیل بند نہیں ہوگا، مرکزی وریاستی سطح پر ملک میں بر سر اقتدار رہنے والی پارٹیاں انتخابات کے مواقع پر جات پات، فرقہ پرستی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی باتیں تو کرتی رہی ہیں، لیکن ان کو لے کر کبھی بھی مطلوبہ طور پر سنجیدہ نہیں رہی ہیں، ایک ہی پارٹی اور اس کے منصب دار اپنے فائدے، نقصانات کے حساب سے جات پات اور فرقہ پرستانہ ہتھیاروں کو بے دریغ استعمال کرتے رہے ہیں یا جات پات اور فرقہ پرست عناصر کے سامنے سرنگوں ہوگئے ہیں، بس صرف یہ دیکھاگیاکہ ہمارے طرز عمل کا فائدہ ہمیں اور ہماری پارٹی کو ملے، دیگر کو نہیں، ورنہ فرقہ پرستی اور جات پات کو لے کر بر سر اقتدار اور اپوزیشن پارٹیوں میں کوئی زیادہ اختلاف نہیں رہا ہے، اس سلسلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس وغیرہ کا نام بیک وقت لیاجاسکتاہے۔ آج کی تاریخ میں جات پات اور فرقہ پرستی کو لے کر کانگریس، بھارتیہ جنتاپارٹی حتیٰ کہ سنگھ بھی مذمتی بیانات اور سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن جہاں سے اور جن سے فرقہ پرستی اورجات پات کی نفرت کو طاقت اور کھادپانی مل رہاہے، ان کا کھل کر نام لینے کے لیے کوئی بھی تیارنہیں ہے، کانگریس کا سنگھ سے نرم گرم تعلقات اور وقتاََ فوقتاََ مدد لینے کی بات سامنے آتی رہی ہے، اس سلسلے میں اندرا، راجیو گاندھی حتی کہ جواہر لعل نہرو کے نام بھی مختلف حوالے سے سامنے آتے رہے ہیں، دفعہ ۱۴۳، رام جنم مندر کی تعمیر کی تحریک اور رام کے نام کے استعمال کے سلسلے میں بہت کچھ ریکارڈ پر موجود ہے۔ دلتوں کی طرف سے حالیہ بھارت بند اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے سلسلے میں بھاجپا، کانگریس دونوں دلتوں اور ڈاکٹر امبیڈکر کے متعلق اپنی ہمدردی، وابستگی اور تعلقات کو جتلارہی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے نتائج و اثرات کے برعکس کیوں برآمد و مرتب ہورہے ہیں، اور حالات میں بہتری پیداہونے کے بجائے یہ روز بہ روز مزید خراب کیوں ہو رہے ہیں، اس سے بالکل صاف ہوجاتاہے کہ ظاہر کے برخلاف، باطن میں کچھ اور ہی چل رہاہے، چاہے مندر کا معاملہ ہو یا مسجد کا، برسراقتدار پارٹی کی سرکار کا کسی ایک کمیونٹی کے فکر وعمل کے ساتھ ہو جانے کا، کیامطلب ہو سکتاہے؟۔ چاہے وہ اکثریت میں ہی کیوں نہ ہو، سابق وزیر صحت داؤ دیال کھنہ اور ویر بہادر سنگھ وغیرہم کون تھے؟ جن کی قیادت میں رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی بنوائی گئی اور چاروں سمتوں میں ہری جھنڈی دکھاکر چاررتھوں کو روانہ کیاگیا تھا، راجیو گاندھی کا شیلانیاس اور رام راجیہ کے نعرے کے ساتھ انتخابی سرگرمی کا آغاز کا کیا مطلب نکالا جائے؟ آج کی تاریخ میں کانگریس، بھاجپا کا مقابلہ ہو رہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے میں زیادہ رول کس کا ہے؟ دلتوں کے معاملے میں بھی ملک گیر دونوں پارٹیوں کا موقف، اصل مسائل کو لے کر بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ اس سلسلے کی ایک بڑی دقت یہ بھی ہے دلت قائدین میں سے کچھ ایسا کرتے رہتے ہیں جس سے دلت تحریک کمزووہوجاتی ہے، اور کسی نہ کسی بہانے سے، اسلام اور مسلمانوں کے نام کو درمیان میں لاکر اصل مسائل سے توجہ دوسری طرف کردی جاتی ہے، رہ رہ کر کچھ دلتوں اور ان کی قیادت کی طرف سے یہ اچھال دیاجاتاہے کہ اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیاگیا تو ہم اسلام قبول کرلیں گے اس سے ظاہر ہے کہ انصاف اور برابری کی جدوجہد کا رخ دوسری طرف ہوجاتاہے، دلت،آدی واسی تحریکات کے مخالفوں کو جہاں معاملہ کو ہندو مسلم رنگ دینے کا موقع مل جاتاہے وہیں دوسری طرف برابری اور انصاف و عزت کے حصول کی لڑائی میں دھمکی اور بلیک میل کا رنگ پیدا ہوکر بات بنتے بنتے بگڑجاتی ہے۔ ایسی حالت میں دلت قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا کام اور بات نہ کہے جس سے ملک کے اشرافی و اقتداری طبقے اور برہمن وادیوں کو اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا موقع مل جائے، ایک جمہوری اور سیکولر نظام حکومت اور سماج میں انصاف اور مساوات و وقار کے لیے جدوجہد میں کسی مذہب کو درمیان میں لانے سے بات دوسری طرف چلی جاتی ہے، کسی دھرم کو ترک اور یااختیار کرنے کامعاملہ بالکل الگ نوعیت کا ہے۔اس کاکسی کمیونٹی کو سامنے رکھتے ہوئے حوالہ دینے سے، اپنے سماج اور دھرم کی تقسیم اور خطرے میں ہونے کے منفی نعرہ سے انصاف اور برابری کی فراہمی سے توجہ ہٹانے کا راستہ و موقع مل جاتاہے۔ اب یہی دیکھئے کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی مورتی توڑنے اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے حوالے سے پورے ملک میں ایک خاص طرح کا ماحول بن رہاہے، اس سے مخصوص طبقے کا ذہن سامنے آرہاہے کہ وہ انصاف اور برابری دینے کا معاملے میں کتنے بخیل اور اپنے ذہن ودل میں کس قسم کی نفرت رکھتے ہیں۔ اس سے توجہ ہٹانے کے لیے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے نام کے ساتھ رام جی اور ان کے مجسمے کا بھگواکرن کیاجارہاہے۔ اگر رام جی اور بھگوارنگ کو لے کر بحث ہوگی تو اسے آسانی سے دوسرا رنگ دیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر امبیڈکر کا بھگوا رنگ کب تھا؟ سارے مجسمے آج تک نیلے رنگ کے ہی دیکھے جاتے رہے ہیں، وزیر اعظم نریندرمودی حتی کہ سنگھ سرسنچالکوں کو بھگوا رنگ میں لوگوں نے کم ہی دیکھاہوگا، ۴۱/اپریل ۴۱۰۲ء کو پورے ملک نے وزیراعظم بننے کی راہ پر چل رہے نریندرمودی کو دیکھاہوگا کہ وہ نیلی جیکٹ پہنے معمار آئین باباصاحب کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے۔ یہ امبیڈکر جینتی کا دن ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں، دلت تحریکات اور انصاف اور برابری کی فراہمی اور حصول کے سلسلے کی ہیں، جن پر سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے اور ملک میں جو حالات بنائے جارہے ہیں، ان کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ بہت سی باتیں ابھی شروعاتی مرحلے میں ہیں، گذرتے دنوں کے ساتھ، دلت تحریکات اور مختلف طبقات اور کمیونٹیز سے اتحاد کے سلسلے کے بہت سے مسائل سامنے آئیں گے۔ جن پر سنجیدہ توجہ دے کر حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *