مرکزی حکومت کے ذریعہ بابری مسجد کو شہید کرانے والے ڈالمیا گروپ کے ہاتھوں لال قلعہ کو فروخت کرنا ملک کیلئے خطرہ: نظرعالم


پٹنہ: پریس ریلیز۔ ۲۳؍اپریل سے ۳۰؍اپریل تک بہار کے پانچ حلقوں سے بھاکپا مالے نے پد یاترا کی شروعات کی اور یکم مئی ۲۰۱۸ء کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں جن ادھیکاراجلاس کا انعقاد کیا۔بھاکپا مالے نے اس پدیاترا اورجن ادھیکار اجلاس کے ذریعہ نئے آندولن کی شروعات کی ہے۔ بھاکپا مالے نے بہار کی سرزمین سے بھاجپا بھگاؤ۔ بہار بچاؤ، آئین بچاؤ، دیش بچاؤ، تعلیم اور روزگار چاہئے، دنگا مُکت بہار چاہئے، بھومی اور آواس چاہئے، نفرت نہیں روزگار چاہئے ،دلت۔مسلم غریب لوگوں پر حملہ بند کروجیسے درجنوں نعروں کے ساتھ بہار میں ایک نئے آندولن کی شروعات کردی ہے جس میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں اور جمعیۃ الراعین نے بھی حمایت دی ہے اور مالے کے اس پیدل یاترا میں سیکڑوں کیلومیٹر پیدل چل کر پٹنہ کے گاندھی میدان میں جن ادھیکار اجلاس میں شرکت کیا۔ بھاکپا مالے کے جنرل سکریٹری کامریڈ دیپانکر بھٹاچاریہ کو بھاجپا کو بھگانے۔ بہار کو بچانے، آئین کو بچانے کی اس مہم میں ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھاکپا مالے کے جنرل سکریٹری دیپانکربھٹاچاریہ نے بھاجپا پر جم کر حملہ بولتے ہوئے ملک کے لئے خطرہ بتایا اور کہا کہ ایسی پارٹی جو ملک کو ہی برباد کردے اسے جتنی جلد ہو کرسی سے ہٹادینا چاہئے۔ مسٹربھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بھاجپا بھگاؤ۔بہاربچاؤ آندولن کی شروعات کردی ہے جو بھی طاقتیں بھاجپا کے خلاف ہیں وہ ہمارے ساتھ مل کر اس آندولن کو ایک آندھی کی شکل دیں تاکہ ملک کا آئین اور ملک بچ سکے۔ دلتوں اور اقلیتوں پر حملے بند ہوسکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف ۲۵ کروڑ میں لال قلعہ کو بیچ دیا گیا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر یہ لوگ زیادہ
دنوں تک کرسی پر رہ گئے تو ملک کو ہی بیچ ڈالیں گے۔
اس مہم میںآل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی
صدرنظرعالم نے بھی پیدل یاترا میں شریک ہوکر سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ نفرت کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔ جس طرح سے بھاکپا مالے نے زمین سے جڑے لوگوں کو ساتھ لیکر بھاجپا بھگاؤ، بہار بچاؤ کا نعرہ دیا ہے اس سے یقینی طور پر بھاجپا کی پریشانی بڑھ گئی ہے اور وہ ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گی تاکہ دلت۔مسلم اتحاد کو بکھیر کر ۲۰۱۹ء کے انتخاب کا فائدہ اٹھاسکے۔لیکن ۲۳؍سے ۳۰؍اپریل کے پدیاترا سے یہ ثابت ہوگیا کہ عوام میں بہارکی بھاجپا اتحاد اور مرکز کی بھاجپا حکومت سے پوری طرح بدظن ہوچکی ہے اور ملک میں بدلاؤ چاہتی ہے۔ اس لئے اقلیتی طبقہ کو بھی چاہئے کہ وہ جو بھی طاقت بھاجپا کے خلاف میدان میں ہے اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر بھاجپا کو کرسی سے اُکھاڑ پھینکنے کی مہم کا حصہ بنیں تاکہ ملک، آئین، دلت اور اقلیت کی حفاظت ہوسکے۔ مسٹرنظرعالم نے آگے کہا کہ اب ملک کی عوام جاگ چکی ہے ، ملک میں نفرت کی سیاست بالکل نہیں چلے گی، ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں بے روزگار بھٹک رہے ہیں، آئے دن معصوم بچیوں اور عورتوں کی عصمت لوٹی جارہی ہے، جگہ جگہ گؤرکچھا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جارہا ہے، نجیب کو تلاشنے میں ملک کی عدلیہ اور پولیس دونوں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے، مہنگائی چرم پر ہے، مسلم۔دلت اپنے کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ ایسے میں وقت کا تقاضہ ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کو اُکھاڑ پھینکنے والوں کی مہم کے ساتھ کھل کر آئیں ۔ بھاکپا مالے نے جو ’’بھاجپا بھگاؤ۔بہار بچاؤ‘‘،’’تعلیم اور روزگار چاہئے۔ دنگا مُکت بہار چاہئے‘‘،’’آئین بچاؤ۔دیش بچاؤ‘‘ کی مہم کی شروعات کی ہے اس مہم کی ملک میں بیحد ضرورت ہے ہم سبھی کو چاہئے کہ دیپانکر بھٹاچاریہ اور مالے کی اس مہم کو مضبوطی کے ساتھ حمایت دیں اور سڑکوں پر اُترکر بھاجپا کو اکھاڑ پھینکیں۔یاد رکھئے اگر اس وقت سبھی لوگ جو خود کو سیکولر کہتے ہیں یا جو بھی سیاسی پارٹیاں ہیں ایک جٹ نہیں ہوئیں تو یقیناًبھاجپا جس طرح کی نفرت کی سیاست کررہی ہے اور ای وی ایم سے لیکر روپیوں اور دنگا فسادکا ننگا کھیل کھیلتی ہے کامیاب ہوجائے گی اور دنگا فساد جس کے خون میں ہے وہ ایک بار پھر سے ملک اور ریاست میں دنگا کراکر دہلی کی کرسی کو ہتھیانے کی پوری کوشش کرے گی اور اگر ایسا کرنے میں بھاجپا اور آر ایس ایس کامیاب ہوجاتی ہے تو نہ ہی ملک کا آئین بچے گا، نہ ہی کوئی پرانی وراثت بچے گی اور نہ ہی دلت۔ مسلمانوں کو ووٹ دینے کا ادھیکار بچے گا۔ دوسرے درجے کا شہری بن کر جینے کے لئے بھاجپا مجبور کردے گی۔ اس لئے اگر بھارت کو بچانا ہے، آئین کو بچانا ہے، دلت کو بچانا ہے، اقلیتی طبقہ کو بچانا ہے تو مالے کی اس مہم کو مضبوطی کے ساتھ طاقت دیا جائے تاکہ یہ آندولن ایک آندھی کی شکل بن جائے اور بھاجپا کو اُکھاڑ پھینکنے کی مہم کامیاب ہوجائے۔ مسٹر نظرعالم نے اخیر میں یہ بھی کہا کہ وقت کا تقاضہ تو یہ بھی ہے کہ ایک نیا اتحاد بنایا جائے جس میں خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی پارٹیاں اور سماجی و فلاحی تنظیموں کو ساتھ لیکر فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ مسٹرعالم نے اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا ہے جس شخص نے بابری مسجد کو شہدید کرانے میں سب سے زیادہ روپیہ خرچ کیا تھا آج مرکزی حکومت نے اسی شخص کے ہاتھوں لال قلعہ کو فروخت کردیا ہے جو ملک کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ اگر وقت رہتے عوام نہیں جاگی تو یہ حکومت بھارت کو بھی بیچ دے گی اور مودی اینڈ کمپنی کسی دوسرے ملک میں جاکر پناہ گزیں ہوجائے گا۔ پدیاترا اور گاندھی میدان کے اجلاس میں میں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم، نائب صدرمقصود عالم پپو خان، جنرل سکریٹری شاہ عماد الدین سرور، انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر نیاز احمد اور جمعیۃ الراعین کے کوآرڈینٹر ڈاکٹر راحت علی کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ
شامل تھے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *