پرسنل لا میں ہرگز تبدیلی برداشت نہیں کریں گی:مسلم خواتین

DSC_5838نئی دہلی،۲؍اپریل(پریس ریلیز)
آج دن کے گیارہ بجے حیدرآباد شہر میں موجود خواتین ارکان بورڈ اور دیگر سماجی وفلاحی خدمت انجام دینے والی ذمہ دار خواتین کی طرف سے ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جوابات خواتین نے دیے اور تحریری پریس بیان جاری کیا گیا۔
ہندوستان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مختلف مذاہب، طبقات اور زبان بولنے والوں کا ملک ہے۔ملک میں مختلف مذہبی،لسانی اکائیوں اور قبائل کو مذہبی اور ان کے پرسنل لا پر عمل کرنے کی دستوری آزادی دی گئی ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین کی بنیاد قرآن و حدیث کے احکامات پر مشتمل ہے۔ اسلامی شرعی قوانین بہت وسیع اور گہرے عملی پہلو رکھتے ہیں۔

اسلام میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی بات ہے تو وہ ہے طلاق۔ ہر مذہب اور کمیونٹی میں طلاق کے اپنے قوانین ہیں جس کے مطابق شوہر اور بیوی آپس میں تفریق حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر طبقے میں عورتیں کچھ نہ کچھ مسائل کا شکار ہیں۔ اس طرح ہندو، سکھ، جین، عیسائی مذاہب کے ماننے والوں میں بھی ازدواجی معاملات میں کہیں نہ کہیں تنازعات پائے جاتے ہیں۔ میڈیا کا یہ پروپیگنڈہ سراسر غلط بیانی پر مبنی ہے کہ مسلم سماج میں طلاق کی شرح زیادہ ہے یا مسلم عورتیں طلاق کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ تین طلاق کے مسئلے کواصل واقعہ سے ہٹاکربڑھا چڑھا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے مسلسل میڈیا میں پیش کیا جارہاہے۔

مسلمانوں میں ۹۷؍ فیصد سے زیادہ شادی شدہ خاندان ہنسی خوشی کامیاب زندگی گذار رہے ہیں اور مسلمان عورتیں مسلم پرسنل لا و شرعی عائلی قوانین سے بلاکسی جبر و کراہ کے مطمئن اور خوش ہیں۔ زوجین ایک دوسرے کے حقوق و ذمہ داریوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔آپسی شدید اختلافات اور تنازعات کی صورت میں ہر ایک کو طلاق اور خلع کا اختیار آزادانہ طور پر علیحدہ ہونے کے لیے دیا گیا ہے۔ شرعی قوانین میں ظلم و زیادتی سے کسی عورت کو نکاح میں باندھ کر رکھا نہیں جاسکتا اور اسی طرح کسی ناپسندیدہ بیوی کو زندگی بھر لٹکا کر رکھانہیں جاسکتاہے۔ آزادانہ خوشحال زندگی کے لیے شریعت نے ہر دو کو نجی آزادی دے رکھی ہے۔ جو بڑے بڑے مذاہب میں بھی نہیں پائی جاتی ۔ اسرائیل میں ایک عورت کو شوہر سے خلع لینے کے لیے کئی کئی سال تک عدالت بازی کرنی پڑتی ہے۔ ہندو میرج ایکٹ میں بھی ایک طویل عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عیسائی قوانین طلاق میں شرعی قوانین طلاق کو دیکھ کر پوپ نے طلاق و خلع کے عمل میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بڑی خوش آئند تبدیلیاں کی ہیں۔
سعودی عرب جوصد فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ملک ہے وہاں سنہ ۲۰۱۵ء میں ایک سال میں ۳۴؍ ہزار طلاق ہوئیں اور صرف ۴۳۴؍ عورتوں نے خلع حاصل کیا۔ دنیا کے سب سے زیادہ ایڈوانس اور طاقتور ملک امریکہ میں ایک سال میں ۵۱؍ لاکھ طلاقیں ہوئیں۔ امریکہ میں ہر چھ سکنڈ میں ایک طلاق ہوتی ہے۔ اس طرح امریکہ میں طلاق کا تناسب ۵۳؍ فیصدہے۔بلجیم میں ۷۱؍ فیصد ہے، پرتگال میں۶۸؍ فیصد ہے، ہنگری میں ۶۷؍ فیصد ہے، اسپین میں۶۱؍ فیصدہے، فرانس میں ۵۵؍ فیصدہے۔ ہندوستان میں صرف مسلمانوں کی ساکھ کو خراب کرنے اور بدنام کرنے کے لیے اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے درمیان طلاق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جس کی ہم کھلے اور واضح انداز میں پرزور مذمت کرتے ہیں۔

تعداد ازدواج کے سلسلے میں اسلام کا قانون ازدواج مرد کو ایک سے زیادہ چار شادیاں تک کرنے کی اجازت دیتاہے ۔ ہندوستان میں ہندوؤں کے درمیان چھ فیصد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ بیویاں کی ہیں جبکہ مسلمانوں میں یہ فیصد صرف تینہے۔ناگا لینڈ، میزورم اور دوسرے قبائل میں اب بھی ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا رواج ہے۔ طبقات اور اقلیتوں کے روایتی طور طریقوں کو ملک کے دستور میں مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ لداخ میں ایک شخص کو۱۲؍ بیویاں کرنے کی اجازت ہے۔ تکثیری سماج میں یکساں سول کوڈ کا نفاذناممکن ہے۔ عائلی قوانین وراثت، وقف کو برخواست کرنے کے لیے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کے لیے بی جے پی حکومت اور اعلیٰ عدالتیں کوشاں ہیں۔ انسانی مساوات اور حقوق نسواں کے نام پر مسلمانوں کے مسلم پرسنل لا کو ختم کرنے یا اس میں مداخلت کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بہا ر کے سائرہ بانو کیس میں مرکز ی حکومت سے مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کے احکامات پر رپورٹ طلب کی ہے۔ عدلیہ کو قانون سازی کاکوئی اختیار نہیں ہے۔ شریعت اسلامی کے قوانین آفاقی اور ربانی ہیں۔ یہ قوانین پارلیمنٹ نے نہیں بنائے بلکہ اللہ رب العزت نے بنائے ہیں۔ پارلیمنٹ نے ان قوانین کو بلاکسی تبدیلی کے ہندوستان کے دستور میں ایک حصے کے طور پر منظور اور شامل کیا ہے۔

دستور میں مسلم عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم ویمن ایکٹ ۱۹۸۶ء نافذ العمل ہے جس میں مسلم عورتوں کے تمام حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ مسلم میریج ایکٹ ۱۹۳۹ء میں کسی قسم کی تبدیلی کو ہرگز کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کی ۱۰؍ کروڑ مسلم خواتین شرعی قوانین کو دل و جان سے چاہتی ہیں۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی تبدیلی کو اب اور آئندہ کبھی بھی برداشت کرنے والی نہیں ہیں۔
ہندوستان میں ۴۵۰۰؍ طبقات اور ذاتیں بستے ہیں۔ ہر ایک کے اپنے طبقاتی و روایتی نجی قوانین ہیں۔ سنتھال اور بھیل قبائل میں عورتوں کے یکساں حقوق کے لیے کوشش کرنے والے گروپ کیوں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔آرایس ایس کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ ملک کے قومی اتحاد اور یکجہتی کے لیے یونیفارم سول کوڈ لازمی ہے تو پھر ملک میں مختلف ریاستوں اور علاقوں میں مختلف قوانین نافذ العمل کیوں ہیں؟ ۱۹۵۴ء میں ہندو کوڈ بل نافذ کیا گیا۔ اس کے باوجود ہندوؤں میں شادی بیاہ ، طلاق اور تفریق ازواج کے مختلف مسالک اور آپسی شدید تضادات پائے جاتے ہیں۔ مٹاکثرا، دیابھاگا ، مورمکتھیام اور الیسنتھانا جیسے قوانین ملک کے مختلف حصوں میں مروج ہیں۔ان میں آپس میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ امریکہ کی ہر ریاست میں ان کے اپنے مقامی عائلی، طلاق اور تنسیخ نکاح کے قوانین نافذ ہیں۔ اسی طرح برطانیہ اور آئرلینڈ میں بالکل مختلف عائلی نجی قوانین نافذ ہیں۔ اس سے قومی اتحاد و یکجہتی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔سوائے مسلم پرسنل لا کو چھوڑ کر ۹۹؍ فیصد قوانین تمام مذاہب اور طبقات کے ماننے والوں کے لیے یکساں ہیں۔ سب ہندوستانی بصد احترام ان قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ قومی یکجہتی کے لیے ہمارا دستور کافی ہے۔ دستورکی مختلف دفعات سے چھیڑچھاڑ عصبیت اور مسلم اقلیت دشمنی اور نفرت پر مبنی ہے۔

ہم آر ایس ایس اور بی جے پی کی ان تمام کوششوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں جو مسلم پرسنل لا میں تحریف و ترمیم کرنا چاہتے ہیںیا عدالت عالیہ کو استعمال کرکے مسلم پرسنل لا میں مداخلت کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ ہم ملک کی ۱۰؍ کروڑ مسلم خواتین آرایس ایس کی آوٹ فٹ تنظیم مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ اور شائستہ عنبر جیسے ایجنٹوں کی مذمت کرتے ہیں جو زعفرانی طاقت کے زر خرید غلام ہیں۔ کبھی ہم انہیں ان کے فاسدمقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ضرورت پڑنے پر ہم سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے مرافعہ داخل کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *