مجوزہ شہریت ترمیمی بل 2019 آئین و دستور ہند کے خلاف: حضر امیر شریعت

مجوزہ شہریت ترمیمی بل 2019 آئین و دستور ہند کے خلاف: حضر امیر شریعت

شہریت ترمیمی بل 2019 او ر این آر سی کے تعلق سے امارت شرعیہ میں ملی تنظیموں کا مشاورتی اجلاس

پٹنہ-(عادل فریدی)شہریت ترمیمی بل 2019 اوراین آرسی کے مسئلہ پر امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے میٹنگ ھال میں شہر پٹنہ کی ملی تنظیموں اوراداروں کے ذمہ داران کی ایک خصوصی نشست زیر صدارت مفکراسلام امیرشریعت حضرت مولانامحمد ولی رحمانی مدظلہ منعقد ہوئی، اپنے صدارتی خطاب میں حضرت امیر شریعت مدظلہ نے فرمایاکہ شہریت ترمیمی بل 2019جو پارلیامنٹ میں ٹیبل ہو چکا ہے وہ آئین اور دستور ہند کے خلاف ہے ، ایک کثیر المذاہب اور کثیر الثقافت ملک میں مذہب کی بنیا د پر تفریق کرناسیکولر زم ،جمہوریت کی روح اورخود اس ملک کے مزاج کے منافی ہے ۔ آپ نے این آر سی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کا صاف ایجنڈا ہے کہ این آرسی صرف مسلمانوں کے لئے ہوگی اوراس کا مقصد لاکھوں مسلمانوں کو پریشان کرنا اوران کو ہندوستان سے بے دخل کرناہے، ان حالات میں مسلمانوں کو نہیں گھبرانا چاہیے،بلکہ ہمت وحوصلہ سے زندگی گذارنے اورآگے بڑھنے نیزضروری کاغذات کو تیارکرنے اورجمع کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے ملک کی تمام سیکولر پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اس ظالمانہ و متعصبانہ غیر آئینی شہریت ترمیمی بل کی پر زور مخالفت کریں اور اس کو راجیہ سبھا سے پاس نہ ہونے دیں ۔آپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر خدانخواستہ یہ بل ایوان سے پاس ہوجاتاہے، تواس کو دستوری اعتبارسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیاجائے گا، اور اس وقت اسے واپس لینے کا ہر دستوری طریقہ اختیار کیا جائے گا۔اس موقع پر حضرت امیرشریعت مدظلہ نے مختلف اصحاب کی آرائ کی روشنی میں طے فرمایاکہ اس کے لئے چند جہتوں سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ رجوع الی اللہ ،توبہ واستغفار اوردعائوں کا اہتمام کثرت سے کیاجائے۔اور اللہ سے حالات کو بدلنے کی دعا کی جائے ،بلا شبہ اللہ تعالیٰ وقت اور حالات کو بدلنے والا ہے ، وہی مسلمانوں کو مصائب سے نکالے گا۔ دوسری بات یہ کہ ان دونوں بل کو راجیہ سبھا سے کالعدم قراردینے کے لئے ملکی سطح پر سیکولر پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات اورگفت وشنیدکی جائے اور ا ن پر دباو ڈالاجائے کہ وہ اس بل کی مخالفت راجیہ سبھا میں کریں ۔ تمام ملی تنظیموں کے اشتراک سے امن پسند برادران وطن کو ساتھ لے کر اس بل کے مضمرات سے عوام و خواص کو واقف کرایا جائے ،اگر خدانخواستہ شہریت ترمیمی بل پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہوجاتاہے تواس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاجائے اوردستورہند کی مختلف دفعات کے حوالہ سے اسکو خلاف دستورہونے کی عرضی داخل کی جائے۔ اس کے علاوہ حضرت امیر شریعت نے تمام ملی تنظیموں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ابھی جاری ووٹر ویریفکیشن پروگرام، آئندہ سال اپریل سے شروع ہونے والے این پی آر(NPR) اور متوقع این آر سی کے تعلق سے خبردار کرتے رہیں اور انہیں اپنے اپنے کاغذات و دستاویزات جمع کرنے اور اگر کوئی اصلاح کی ضرورت ہو تو اصلا ح کی طرف متوجہ کرتے رہیں ، اس سلسلہ میں پوری توجہ اوردلجمعی سے ایک ایک مسلمان کے نام کو ووٹر لسٹ اور مردم شماری کے رجسٹر میں شامل کرانے کی جدوجہدکی جائے اور یہ سارا کام بے خوف ہو کر کیا جائے۔

اس سے قبل اپنے افتتاحی خطبے میں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا محمدشبلی القاسمی نے مسئلہ کی حساسیت ونزاکت اورفکرمندی کے ساتھ اس کے حل کے لئے اجتماعی کوششوں کو بروئے کار لانے کی طرف توجہ دلائی ، آپ نے اپنے خطبے میں اس تعلق سے حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی فکر مندی اور امارت شرعیہ کی جانب سے کی جانے والی منظم کوششوں کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مفکر اسلام امیر شریعت بہا ر،اڈیشہ و جھارکھنڈ جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ و سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے اس مسئلہ کی نزاکت کا بروقت ادراک کیا، اور ملکی پیمانے پر لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے او ر اس کے لیے تیاری کرنے کی ہدایت جاری کی ، او ر جس وقت ملت کاایک بڑا طبقہ شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا تھا اور اس تعلق سے شک و شبہ میں پڑا تھا آپ نے پورے وثوق اور ایمانی بصیرت کے ساتھ یہ بات اٹھائی کہ این آر سی مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے لایا جا رہا ہے ، اس لیے آپ اس کی بروقت تیاری کر لیں ۔امارت شرعیہ نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی ہدایت پر نہ صرف بہار ،ا ڈیشہ و جھارکھنڈ بلکہ ملک کے چپہ چپہ میں اس آواز کو پہونچایا ، لوگوں کو دستاویزات درست کرانے کی صرف ترغیب ہی نہیں دی ، بلکہ ان کی عملی رہنمائی بھی کی ، ہزاروں کی تعداد میں پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کیے، اخباروں میں اشتہارات ، بیانات اور مضامین کے ذریعہ لوگوں کو آگاہ کیا ، ایک ٹیم مسلسل فون کے ذریعہ تینوں صوبوں میں موجود امارت شرعیہ کے ہزاروں نقباء’ نائبین نقباء، ارباب حل و عقد،ارکان شوریٰ و عاملہ، ائمہ مساجد ، علماء کرام ،دانشوران ، سماجی خدمت گاران اور فعال نوجوانوں کو متوجہ کرتی رہی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں تحریک چلا کر لوگوں کے کاغذات درست کروائیں اور ووٹرس ویری فکیشن کا کام بھی ترجیحی بنیاد پر کریں ۔ اس سلسلہ میں وہاٹس ایپ، ای میل ، فیس بک ، ٹوئیٹر اور سوشل میڈیا کے دوسرے ذرائع کا بھی سہارا لیا گیا اور اس پیغام کو عام کیا گیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ملک کا شاید ہی کوئی آدمی ہو گا جس تک امارت شرعیہ کا پیغام اور حضرت امیر شریعت کی ہدایت نہ پہونچی ہو۔ آپ نے کہا کہ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہےکہ اپنے طور پر کاغذات کے اعتبار سے مضبوط رہیں ، دستاویزات تیار کر لیں اور خوف و دہشت میں بالکل مبتلا نہ ہوں ۔ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے دوسروں سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ، اور دوسروں سے زیادہ بنایا اورسنوارا ہے ۔ اس ملک پر مسلمانوں کا حق ہے ،ملک کے آئین نے انہیں اس میں برابر کا حق دیا ہے ، یہ حق ان سے کوئی چھین نہیں سکتا اور کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو اس ملک سے بے دخل نہیں کر سکتی ۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں گی ، یہ ملک باقی رہے گا، آئین باقی رہے گا ، مسلمان باقی رہیں گے، ان شائ اللہ ۔ انہو ںنے اس میٹنگ کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی صدارت میں جمع ہیں ۔پوری قوم ہماری طرف امید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، انہیں مشکلات سے بچانے کے لیے بر وقت متحدہ حکمت عملی طے کرنا ہمارا اخلاقی، سماجی ،ملی وقومی فریضہ ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھتے ہیں کہ آج کی یہ نشست موجودہ حالات میں ملت اسلامیہ اورملک کے لیے سنگ میل ثابت ہو گی۔حضرت مولانا سید شاہ ہلال احمد قادری خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف نے کہا کہ جو مسئلہ سامنے ہے اس کے سد باب کی مضبوط اور موثر کوشش کی جائے ، انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کا مشورہ بھی دیا ‘آپ نے استغفار اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کے ورد کے ساتھ تسبیح یونس کا اہتمام کرنے اور اللہ سے مصائب کے حل کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اس بل کے خلاف متحدہ کوشش ضروری ہے ۔مولانا مشہود احمد قادری ندوی پرنسپل مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ نے کہا کہ گو کہ ابھی این آر سی کے خد وخال واضح نہیں ہیں ، لیکن ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ، لیکن اس کے پہلے کے مرحلہ میں کیا حکمت عملی ہو اس پر بھی غور کرا چاہئے، اس بل کو راجیہ سبھا میں پاس نہ ہونے دیا جائے اس کی تدبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مشہور صحافی خورشید انوار عارفی نے کہا کہ یہ حکومت کا بہت پرانا ایجنڈا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا جائے ابھی اس کے پاس پارلیامنٹ کی قوت ہے اس کو بروے کار لا کر وہ اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگی ہے۔ ہمیں اکثریتی فرقے کے امن پسند لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے کہ مذہب کی بنیاد پر یہ تفریق آئین کے خلاف ہے، جناب الحاج حسن احمد قادری ناظم اعلیٰ جمعیۃ علمائ بہار نے بھی رائے دی کہ بل کی مخالفت کی جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومت تانا شاہ کی طرح کام کر رہی ہے ، اسلیے سیکولر زم پر اعتقاد رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے اس ایجنڈے کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت کریں ۔جناب رضوان احمد اصلاحی نے امیر حلقہ جماعت اسلامی بہار نے کہا کہ یہ بل نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ امن پسند غیر مسلموں کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے ، اور لوگ اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ، ہمیں بھی سب کو ساتھ لے کر احتجاج کرنا چاہئے کیوں کہ اگر یہ بل پاس ہو جاتا ہے تو کئی نئے فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا۔ مشہور صحافی وناظم نشر و اشاعت جمعیۃ علمائ بہار جناب انوار الہدیٰ صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے منفی پروپیگنڈہ ، مسلمان بائی برتھ یہاں کے باشندہ ہیں ، یہ نا انصافی ہے کہ ایسے لوگوں کو پریشان کیا جائے اور انہیں الجھا کر رکھا جائے۔20 کروڑ عوام کو پریشان کرنے کی حکومت کی یہ سوچی سمجھی سازش ہے ، اس کی پرزور مخالفت ہونی چاہئے۔ مولاناپروفیسر شکیل احمد قاسمی اورینٹل کالج پٹنہ نے کہا کہ نفس فکر سے سب لوگوں کا اتفاق ہے ، اس کی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے اور اس کے لیے ایک پریشر گروپ بنانا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ نے ہر نازک مسئلہ پر موثر اقدام کیا ہے اور آگے بڑھ کر ملت کی رہنمائی کی ہے ، سب لوگوں کا امار ت شرعیہ پر اعتماد اور بھروسہ ہے ، امارت شرعیہ اس کے لیے جو بھی موثر قدم اٹھائے گی ہم سب اس کے ساتھ ہیں ۔ اہل تشیع کے معروف عالم دین سیدامانت حسین مجلس علماء وخطباء امامیہ بہار نے کہا کہ خطرہ ظاہر ہے ، ہمیں دفاع کی تدابیر پر غو ر کرنا چاہئے اور اس بل کو پاس ہونے سے روکنا چاہئے۔جناب مولانا غازی صاحب امیر امارت اہل حدیث صادق پور پٹنہ نے کہا کہ ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے ، ہم اپنے اخلاق و کردار کو سدھاریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں ، آج مسلمانوں کے پریشان ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سے رابطہ کمزور ہو گیا ہے ، اللہ سے اپنے ربط کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔مولانا اعجاز کریم صاحب صدر تنظیم ائمہ مساجد بہارنے کہا کہ دفاعی اور اقدامی دونوں کوششوں کی ضرورت ہے ، بل کی مخالفت بھی کی جائے اور مسلمان اپنے آپ کو کاغذات و دستاویزات کے اعتبار سے تیار بھی رکھیں انہوں نے کہا کہ حضرت امیر شریعت مد ظلہ کا جو حکم ہو گاہم سب لوگ اس کو مانیں گے ۔ اس اجلاس کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کی آپ نے اپنی تمہیدی گفتگو میں اجلاس کا مقصدبیان کیا، مولانا محمد عادل فریدی صاحب نے شہریت ایکٹ1955 اور شہریت ترمیمی بل 2019 کا تقابل کر کے جہاں جہاں ترمیم ہوئی ہے اس حصہ کا اردوخلاصہ پیش کیا اور ترمیم سے قبل کے ضابطہ او ر ترمیم کے بعد پڑنے والے اثرات کو تفصیل کے ساتھ سامعین کے سامنے رکھا ،اجلاس کا آغاز مولانا مفتی محمد مجیب الرحمن قاسمی کی تلاوت کلام اور نعت پاک سے کاروائی کاآغازہوا اورحضرت امیر شریعت مدظلہ کی دعائ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اس اجلاس میں ان حضرات کے علاوہ جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ،مولانااحمد حسین صاحب معاون ناظم، مفتی سہیل احمدقاسمی ،صدر مفتی امارت شرعیہ،مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ،مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی ، جناب سمیع الحق صاحب نائب انچاج بیت المال،مفتی سعیدالرحمن قاسمی صاحب مفتی امار ت شرعیہ،مولاناانظارعالم قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ،مولانا ابوالکلام شمسی قاسمی، مولانا رضوان احمد ندوی وغیرہ بھی شریک ہوئے اور قیمتی تجاویز پیش کیں سبھی حضرات نے اجتماعی طورپر شہریت ترمیمی بل کی مخالفت او ر اس کے سبدباب کے لئے ہرجہت سے جدوجہدکرنےکے عزم کااظہار کیااور کئی اہم تجاویز کو منطوری دی ۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply