کلاسیکی اصناف بے وقت کی راگنی نہیں:پروفیسر شمیم حنفی

قصیدہ میں اظہار کی تمام جہتیں سمٹ آئی ہیں : شمس الرحمن فاروقی،سمینار نو آباد یاتی اثرات سے آزادی کی علامت:سیدشاہدمہدی
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام صنف قصیدہ پرسہ روزہ قومی سمینارکا اختتام
صدیق الرحمان قدوائی ،ابن کنول،انورپاشا،انیس اشفاق ،ظفراحمدصدیقی ،معین الدین جینابڑے ،شمس الحق عثمانی سمیت مقتدرادبی شخصیات کی شرکت
تیسرے دن کے اجلاس کی ایک جھلک
تیسرے دن کے اجلاس کی ایک جھلک

نئی دہلی،(پریس ریلیز)
شعبۂ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ ڈی آر ایس فیزIII کے زیراہتمام قصیدہ کے موضوع پرسہ روزہ سمینار ۲۹؍ فروری کو اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی اجلاس میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی نے کہاکہ شعریات اصناف سے زیادہ عہد کی ہوتی ہیں اور اس مخصوص شعریات کے اثرات اس عہد کی تمام اصناف پر مرتب ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر زمانے میں جس طرح مزاج بدلتے رہتے ہیں اسی طرح لفظوں کے معنیٰ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ہماری کلاسیکی اصناف میں زندگی،کائنات،انسان اور وقت اپنی پوری قوت و توانائی کے ساتھ موجود ہے اور اس کی بازیافت کا عمل ہر عہد میں اپنے محاورے کے ساتھ جاری رہے گا۔ہمیں خوشی ہے کہ شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس سمینار نے قصیدہ جیسی صنف کو بے وقت کی راگنی بننے نہیں دیاجبکہ حالات کے جبر کے تحت سواسو برس قبل مولانا حالی نے کلاسیکی اصناف کی فرسودگی کااعلان کردیا تھا۔

اختتامی جلسے میں سہ روزہ سمینار کی رپورٹ ڈی آر ایس فیز IIIکے کوآرڈینیٹر پروفیسر وہاج الدین علوی نے پیش کی۔ صدر شعبہ پروفیسرشہپر رسول نے اس سمینار کو نہایت کامیاب علمی سرگرمی سے تعبیر کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں، مہمانان اور شرکا ء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈی اآر ایس فیز IIIکے تحت ہمارا منصوبہ ہے کہ قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، شہر آشوب، واسوخت ،غزل اور دیگر کلاسیکی اصناف پر الگ الگ سمیناروں کا انعقاد بھی کیا جائے گا اور کتابی صورت میں ان مقالات کو شائع کرنے کااہتمام بھی کیا جائے گا۔

پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے کہاکہ قصیدہ واحد صنف ہے جس میں اظہار و بیان کے تمام اسالیب اور جہتیں سمٹ آئی ہیں۔ اگرچہ آج اس طرح قصیدہ نہیں لکھا جارہا ہے اس کے باوجود اس صنف کو مردہ اور ازکار رفتہ تصور کرنا درست نہیں کیونکہ آج بھی شعری لوازم، شعری تہذیب اور اظہاری امکانات کو اگر کسی فن پارے میں دریافت کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے قصیدے کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہوگا۔ اصناف کے حوالے سے بنیادی سوالات پراردو والوں نے کم ہی غورکیاہے۔ مثلاً کوئی صنف بنتی کیوں ہے، اُس کے وجود میں آنے کے اسباب اور محرکات کیا ہوتے ہیں۔صنف کی بنیادی خصوصیات کس طرح ظہورمیں آتی ہیں؟ اصناف کا زوال کیوں کر ہوتا ہے؟ کسی بھی صنف کی وجود پذیری، استحکام اورفناکے پس منظر میں ایک پوری تہذیب اور ادبی معاشرے کی مربوط روایت کا گہرا دخل ہوتا ہے۔ اگر ہم نے کلاسیکی اصناف کوترک کر دیا تو یہ ہمارا ایک تہذیبی اور تخلیقی خسارہ ہے۔ آج کلاسیکی اور دکنی شعر و ادب کی قدر و قیمت کواز سر نو متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ سوائے قصیدہ کے کوئی ایسی صنف نہیں ہے جس میں اظہار کے تمام امکانات بدرجۂ اتم موجود ہوں۔ ہماری شعری تاریخ میں جن شعرا کے یہاں نا پختگی پائی جاتی ہے اس کا اصل سبب قصیدہ کی روایت سے بے اعتنائی ہے ۔ کلامِ اقبال میں جلال و جمال کی حسین آمیزش ، شوکتِ الفاظ، پُر شکوہ لہجہ اور زورِ بیان پایا جاتا ہے، اُن کے یہاں یہ خصوصیات قصیدہ کی دین ہے۔

سمینار کے دوسرے دن کا ایک منظر
سمینار کے دوسرے دن کا ایک منظر

سید شاہد مہدی ، سابق وائس چانسلر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اس سمینار کے مقالوں کے موضوعات اور مقالہ نگاروں کی فہرست پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قصیدہ جیسی اعلیٰ درجہ کی شاعری پر اس سمینار سے بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اُنہوں نے اس سمینار کو نو آباد یاتی اثرات سے آزادی کی علامت بھی قرار دیا ۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے کلیدی خطبے میں صنف قصیدہ کی شعریات ،تہذیب اور تاریخ پر نہایت پُر مغز اور جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صنف قصیدہ کا سفر گرچہ عربی سے شروع ہوا لیکن اس کی شعریات فارسی میں وجود میں آئی ، اور فارسی شعرا عرب شعرا کے تتبع کی منزل سے بہت آگے نکل گئے اور اُردومیں آکراس صنف نے اپنے وقار، معیار، اسلوب، لفظیات اور مختلف النوع تخلیقی تجربات کو مزید استحکام بخشا۔ صدرِ شعبہ پروفیسر شہپر رسول نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ کلاسیکی اصناف پر اس علمی مذاکرے کا انعقاد اُردو ادب کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ اس سمینار میں ہم نے اس میدان کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی بھرپورسعی کی ہے ۔ سید شاہد مہدی اور شمس الرحمن فاروقی جیسی مقتدر شخصیات کی علمی اور ادبی فتوحات سے ایک زمانہ واقف ہے ۔ فاروقی نے اُردو شعر و ادب کی تمام اصناف کو ایک نئی راہ پر گامزن کیا ہے۔ ادبی صحافت کی جو سطح اور سمت متعین کی ہے وہ بھی اظہر من الشمس ہے۔ پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی حیثیت استاد الاساتذہ کی ہے۔ اُن کی رہنمائیوں اور تجربات سے ہم مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔ پروفیسر ظفر احمد صدیقی جیسے ممتاز علما اب ہماری نسل میں مفقود ہوتے جا رہے ہیں جو بیک وقت کئی زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں اور جن کے مطالعے کا دائرہ حد درجہ وسیع ہے ۔

سمینار کی افتتاحی تقریب میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے شرکت کرتے ہوئے قصیدہ جیسی اہم مگر فراموش کردہ صنفِ سخن پر سمینار کے انعقاد سے اپنی نیک تمنائیں اور امیدیں وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی علمی سر گرمیوں سے نئی نسل میں کلاسیکی شعر و ادب سے لگاؤ پیدا ہوگا ۔
دوسرے سیشن کی صدارت کے فرائض پروفیسر ابن کنول اور پروفیسر انور پاشا نے انجام دیے۔ پروفیسر ابن کنول نے موجودہ عہد میں کلاسیکی اصناف کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہماری ادبی تاریخ کا ہی حصہ نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ہم اس دور کی مخصوص تہذیب سے بھی متعارف ہوتے ہیں۔ پروفیسر انور پاشا نے قصیدہ کو ام الاصناف قراردیتے ہوئے کہا کہ ہر عہد اپنے ساتھ اظہار کے مخصوص سانچے خود ہی متعین کرتا ہے اور مبالغہ کوئی عیب نہیں بلکہ مبالغہ کی بنیاد تخیل پر ہے اور تخیل کے بغیر کوئی بھی توانا ادب وجود میں نہیں آتا۔اس موقع پر پروفیسر انیس اشفاق، ڈاکٹر طارق سعید اور محمد مقیم نے سمینار کے حوالے سے اپنے خوش گوارتاثرات کااظہارکیااورڈاکٹر سراج اجملی نے ایک ایسا فی البدیہ قطعۂ تاریخ پیش کیا جس سے سمینار کی تاریخ برآمد ہوتی ہے۔
سمینار کے افتتاحی دن کی ایک جھلک
سمینار کے افتتاحی دن کی ایک جھلک

آج پہلے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر انیس اشفاق نے فرمایا کہ یہ دور قصیدے کی تدریس کے زوال کا دور ہے کیونکہ آج ایسے اساتذہ نایاب ہوتے جا رہے ہیں جو قصیدے کو پوری ذمہ داری کے ساتھ پڑھاسکیں۔ پروفیسرچندرشیکھر نے کہا کہ کلاسیکی اصناف کے زوال کے نظریے سے متفق نہیں ہوں بلکہ میں اس کو محض اصناف کی منتقلی سے تعبیر کرتا ہوں کیونکہ بنیادی طورپرہر عہد اظہار کے لیے نئی راہیں تلاش کرتا ہے۔ پہلے سیشن میں پروفیسر آصف نعیم کا مقالہ فارسی قصیدے کا پس منظر اوراردوقصیدہ نگار ان کی غیر موجودگی میں ڈاکٹر خالد مبشر نے پیش کیا۔ اس سیشن میں ڈاکٹر طارق سعید نے ذوق کی اسلوبیات قصائد کی روشنی میں، ڈاکٹر سرورالہدی نے قصیدے کے حوالے سے امداد امام اثر کے تنقیدی نظریات اور شاہ فہد نے قصیدے میں مختلف علوم و فنون کی کارفرمائی کے موضوعات پر اپنے مقالے پیش کیے۔اختتامی جلسے کی نظامت کے فرائض پروفیسر شہزادانجم نے انجام دیے۔
پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے اردومیں صنف قصیدہ کے زوال کا از سر نو مطالعہ، پروفیسر احمد محفوظ نے قصیدے کی شعریات اور خیال بندی کا اسلوب، ارمان نجمی نے اٹھارہویں صدی میں اردو قصیدہ کی صورت حال اور سلمی محمدرفیق نے عرب کی شعری روایت میں قصیدے کا تصور کے موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈی آر ایس فیز III کے کوآر ڈینیٹر پروفیسر وہاج الدین علوی نے انجام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا شعبہ تحقیق، تنقیداورتہذیبی مطالعات پر زور دیتا ہے ۔ موجودہ دور میں کاسیکی اصناف کے پارکھ نایاب ہو تے جا رہے ہیں ۔ ایسے میں ا س سمینار کی معنویت اور افادیت فزوں تر ہوجاتی ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے سمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیش نظر ایک ایسا ٹھوس علمی منصوبہ ہے جس کے تحت کلاسیکی اصناف پر ایک نئی جہت سے غور و فکر کیا جا سکے ۔خصوصاً گذشتہ سو بر سوں میں کلاسیکی اصناف کے تعلق سے جس طرح کے گمراہ کن خیالات فروغ پذیر ہوئے ہیں اور کلاسیکی شعر و ادب کی اہمیت و افادیت کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے ، اس کے پیش نظر ڈی آر ایس فیزIII نے بنیادی موضوع ’’ارتقا اور تغیر:اقتدار، تہذیب اور اُردو کی کلاسیکی ادبی اصناف‘‘ متعین کیا ہے ۔ پروگرام کا آغاز حافظ شاہنواز فیاض کی تلاوت اوراختتام ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی کے اظہار تشکر پر ہوا ۔

پروفیسر محمد ذاکر نے کہا کہ اردو ادب کی دوسری اصناف کے مقابلے میں قصیدہ پر تحقیقی اور تنقیدی مواد بہت کم ہے۔ اور اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ پروفیسر شمس الحق عثمانی نے قصیدہ میں مختلف علوم و فنون کی کارفرمائی کو اس صنف کی اہم خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف میدانوں میں کی علمی اصطلاحات اس طور پر شاعری کا حصہ بن جاتی ہیں کہ اس میں شعریت اور شعری لوازم اپنے تمام کمالات کے ساتھ ان کا حصہ بن جائے۔اس اجلاس میں ڈاکٹر علی جاوید نے سودا کی قصیدہ گوئی، ڈاکٹر سراج اجملی نے فن قصیدہ میں علوم بلاغت کی کار فرمائی اور ڈاکٹر علی عمران عثمانی نے کلاسیکی شعری تہذیب میں صنف قصیدہ کا مرتبہ کے موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے۔پہلے اور دوسرے سیشن کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمران احمدعندلیب اور ڈاکٹر مشیر احمد نے انجام دیے۔

سمینارکے دوسرے اجلاس میں صنف قصیدہ کی شعریات پر پروفیسر انیس اشفاق ، مذہبی ہستیوں کی مدح اور قصیدہ: نعت ومنقبت کے حوالے سے پروفیسر عراق رضا زیدی، قصیدہ کی صنفی شناخت اور امتیازی خصوصیات پر پروفیسر کوثر مظہری اورشاعرانہ کمال کے اظہار میں قصیدے کا کردار کے موضوعات پر محمد مقیم نے مقالے پیش کیے۔ دونوں اجلاس میں موجودحاضرین نے بھرپور بحث ومباحثے میں حصہ لیا اس سلسلے میں پروفیسر ظفر احمد صدیقی،پروفیسر انیس اشفاق، پروفیسر کوثرمظہری، ڈاکٹر عمران احمدعندلیب،ڈاکٹر سرورالہدی،ڈاکٹر خالد مبشر، فخر عالم، نظام الدین، شاکر علی اوربلال احمدوغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندیم احمد اور ڈاکٹر خالد جاوید نے انجام دیے۔اس موقع پر صدر شعبہ پروفیسر شہپررسول،پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر شہزاد انجم،ڈاکٹر علی جاوید، پروفیسرشاہد پرویز،ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی، ڈاکٹر مشیر احمد،ڈاکٹر عادل حیات ڈاکٹر شاداب عالم ، ڈاکٹر انوار الحق،ڈاکٹرسلطانہ واحدی ، ڈاکٹر فرح جاوید ،ڈاکٹر محمد آدم،ڈاکٹر محمد اکبر ، ڈاکٹر سمیع احمد،جاوید حسن ، ثاقب عمران ، محمد خالد ، ڈاکٹر شاہدہ فاطمہ ،محضر رضا اور ساجد ذکی فہمی، سلمان فیصل،شاہ نواز فیاض، نوشاد منظر ، رخسارپروین (الہ آباد)عائشہ پروین، نوشین حسن، ریحان سعید، طاہر محمود ڈار، آس محمد، امتیاز احمدعلیمی کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر ز اور طلبہ اور طالبات موجود تھے ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *