آدیباسی ،دلت وپسماندہ ہندو بھی یکساں سول کوڈ کی زد میں

دارالقلم ،نئی دہلی میں علمائے اہل سنت کی ایک اہم نشست میں موجود ہ حالات کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیا گیا

نئی دہلی(نامہ نگار):
اس وقت مرکز میں بی جے پی کی فرقہ پرست حکومت نے تین طلاق، تعدد ازدواج اور کئی مسلم مسائل کو بے شک مسلمانوں کو پریشان کرنے کی نیت سے چھیڑا ہے لیکن اِس سازش کی زد میں بھارت کے آدیباسی، دلت ہندو، اتراکھنڈ کے دیہی باشندے اور پسماندہ ذات کے ہندوؤں کا پرسنل لاء بھی آرہا ہے جس کا احساس اب انہیں ہونے لگا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی اب زمینی سطح پر اس طرح کے حساس اور بنیادی مسائل کو قانونی دلیلوں اور نظیروں کے آئینے میں منظر عام پر لانا ہوگا تاکہ اس کیس کو قانونی طور سے مضبوط کیا جا سکے۔ ہمارے لیے یہ اقدام و عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسلام ہی انسانوں کی بھلائی کا نمائندہ مذہب اور بنیادی حقوق کا محافظ ہے۔ہمیں اس پیغام کو صحیح صورت میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
دارالقلم، نئی دہلی کے سمینار ہال میں علمائے اہل سنت کی ایک اہم نشست میں موجود ہ حالات کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مولانا یٰسین اختر مصباحی نے ان خیالات کا اِظہار کیا۔رضا اکیڈمی ممبئی کے جنرل سکریٹری الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ چار شادیوں اور تین طلاق وغیرہ کے مسائل زبانی اور اخباری بیان بازی سے زیادہ عدالتی اور قانونی چارہ جوئی سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں اب عدالتی سطح پر سرگرم ہوجانا چاہیے اور خوش خبری یہ ہے کہ مسلمانوں نے یہ اقدام بھی کر لیا ہے اور ہماری اکیڈمی کے ساتھ مسلمانوں کی کئی تنظیموں ،اکیڈمیوں اور تحریکوں نے عملی طور سے تیاریاں کر لی ہیں اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔جماعت رضائے مصطفی بریلی شریف کے جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے کہاکہ ہندوستان کی تمام مسلم تنظیموں اور تحریکوں نے سیاسی ،سماجی اور میڈیائی سطح پر حکومت ہند کی اس سازش کے خلاف جمہوری حق کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور مسلم سماج میں ان مسائل کے تعلق سے جس بیداری کی ضرورت ہے اس کے لیے مہم چلانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔اس طرح سے ہی حکومت کو جواب دینے اور اپنا منصوبہ بدلنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔لمرا فاؤنڈیشن دہلی کے مولانا اقلیم رضا مصباحی نے کہا کہ اب حکومت میں شامل بہت سے وزیر وں او ر ساہوکاروں کی ذاتی، خانگی اورسیاسی زندگی کے حوالے سے تعدد ازدواج کے واقعات اور طلاق دیے بغیر اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے والے ہندو سیاست دانوں کی تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے لانا ضروری ہے تاکہ پولرائزیشن کی جو گھٹیا سیاست بی جے پی کرنے جارہی ہے، اس کا پردہ فاش ہوسکے۔ غوثیہ فلاح ملت فاؤنڈیشن ،دہلی کے مولانا زین اللہ نظامی نے کہا کہ مسلم سماج کے سب سے زیادہ قریب مسجدوں کے امام صاحبان ہوتے ہیں ،اس لیے انہیں خطبات جمعہ کے علاوہ بھی اس بیداری مہم کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔مولانا محمداشرف الکوثر مصباحی ریسرچ اسکالرجامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ سوشل میڈیا میں اِس طرح کے موضوعات پر ناواقفیت اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے بے مقصد بحثیں ہو رہی ہیں، ان میں دینی اداروں کے نوجوان فارغین بھی ہیں، اس لیے معمر اور تجربہ کار علمائے کرام کا مشترکہ بیان اور مفتیان عظام کی مشترکہ فیصلہ کن تحریر آنا ضروری ہے تاکہ ان کی ذہن سازی ہو سکے اور ان کو صحیح رخ پر ڈالا جا سکے۔مدیر ماہنامہ کنز الایمان مولانامحمد ظفر الدین برکاتی نے کہا کہ عام اخباری صحافت سے مذہبی اور مجلاتی صحافت مختلف ہے جو کہ ماہانہ وسہ ماہی دورانیہ پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن تاریخ کو محفوظ اور مرتب و مربوط کرنے کے اعتبار سے اہم ذریعہ ہوتے ہیں ،اس لیے مذہبی رسائل کے مدیر و قلم کار صاحبان کو منصوبہ بند طریقے سے اس کو تحقیقی و تجزیاتی ادارت و صحافت کا حصہ بنانا چاہیے۔
میٹنگ میں حافظ محمد قمر الدین رضو ی مالک رضوی کتاب گھر، مولانا امجد رضا علیمی پرنسپل جامعہ قادریہ دارالقلم ،عبد الباری برکاتی ودیگر حضرات نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *