قومی اردو کونسل میں ڈاکٹر فوزیہ چودھری کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

Fauzia Chaoudhary

کرناٹک اردو اکادمی ایک متحرک اور فعال قیادت سے محروم ہوگئی: پروفیسر ارتضیٰ کریم

نئی دہلی، ۲۵ فروری: اردو کی معروف ادیبہ اور کرناٹک اردو اکادمی کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ چودھری کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ان کی رحلت سے کرناٹک اردو اکادمی ایک متحرک اور فعال قیادت سے محروم ہوگئی۔ ڈاکٹر فوزیہ چودھری پُرعزم خاتون تھیں اور فروغ اردو کے مشن کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں۔ انھوں نے مختصر عرصے میں کرناٹک اردو اکادمی کو ایک نئی پہچان عطا کی تھی۔ مختلف ثقافتی اور ادبی تقریبات کے انعقاد کی وجہ سے اکادمی کی شہرت اور شناخت کا دائرہ بھی وسیع ہورہا تھا۔ ان کے سامنے کئی اہم منصوبے تھے جن کی تکمیل کے لیے وہ کوشاں تھیں مگر عمر نے وفا نہیں کی۔

پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ چودھری اردو کی معروف ادیبہ تھیں۔ انھوں نے بہت سے مضامین اور خاکے بھی تحریر کیے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں بھی منظرعام پر آئی ہیں۔ ایک ریاستی کالج میں تدریسی فرائض بھی انجام دے رہی تھیں مگرانھوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر کرناٹک اردو اکادمی سے وابستگی اختیار کرلی تاکہ اردو مشن کو لے کر آگے بڑھ سکیں اور ریاست میں فروغ اردو کے لیے کچھ بہتر کرسکیں۔ ان کی شخصیت دوسری ریاستی اکادمیوں کے لیے ایک مثال بن گئی تھی۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر نے اردو کونسل سے ان کی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی اردو کونسل کے پینل کی ممبر تھیں اور اس کی میٹنگوں میں شرکت کرکے نئے تجاویز اور مشورے بھی پیش کرتی تھیں۔

ڈاکٹر فوزیہ چودھری کی رحلت کو اردو زبان اور ادب کا خسارہ قرار دیتے ہوئے پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ وہ اردو کے لیے بہت کچھ کرنے کا عزم لیے ہوئے اس دنیا سے گزر گئیں۔ اردو دنیا ان کے انتقال پرسوگوار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *