اشوک چودھری کا بی جے پی پر بڑا حملہ

بہار پردیس کانگریس کمیٹی کے صدر نے سوال کیا کہ نوٹ بندی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی جو بڑے بڑے اجلاس کررہے ہیں، اس کے لیے نقد پیسے کہاں سے آرہے ہیں اور وہ کون دے رہا ہے،اقلیتوں کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعے شروع کیے گئے ’سائبر گرام‘ منصوبہ کے بارے میں ڈاکٹر چودھری نے کہا:’اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔‘

پٹنہ(نامہ نگار):
بہار پردیس کانگریس کمیٹی کے صدر اور ریاست کے وزیر تعلیم ڈاکٹر اشوک چودھری نے مرکز میں برسراقتدار بی جے پی پر بڑا حملہ کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ نوٹ بندی کے اعلان کے بعد پارٹی نے جو غازی آباد اور دوسری جگہوں پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پروگرام منعقد کیا ہے، اس کے اخراجات کی ادائیگی کس طرح کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ بند ہونے کے بعدلوگوں کے پاس نقدی کی کمی ہوگئی ۔ ایسے حالات میں بی جے پی نے غازی آباد اور کئی دوسری جگہوں پرعوامی جلسوں کا انعقاد کیا۔ اس میں بڑے پیمانے پر روپے خرچ کیے گئے، آخر ان اخراجات کی ادائیگی کس طرح کی گئی ، کتنے روپے کی ادائیگی چیک سے کی گئی اور کس نے انہیں ادا کیا؟ ڈاکٹر اشوک چودھری نے اس کے ساتھ ہی بی جے پی سے یہ بھی سوال کیا کہ ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں اس نے جو اتنی خطیر رقم خرچ کی، وہ کہاں سے آئی تھی؟

ڈاکٹر اشوک چودھری سنیچر کواندرا گاندھی کی ۹۹؍ویں سالگرہ کے موقع پر یہاں کانگریس کے دفتر ’صداقت آشرم‘ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران میڈیا سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی امیروں کی پارٹی ہے۔ اس کو غریبوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلے سے امیر نہیں بلکہ غریب اور عام کسان مزدور پریشان ہورہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے موجودہ حالات کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جو لوگ حکومت کررہے ہیں وہ اپنا مخصوص نظریہ تھوپنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ ایک خاص فرقہ کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ نظریہ پنڈت جواہرلعل نہرو، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور کانگریس پارٹی کا نہیں رہا ہے۔ کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈران سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔ غریبوں، کسانوں ، مزدوروں اور عام لوگوں کی مشکلوں کو دورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بہار کے وزیر تعلیم نے اس موقع پر اپوزیشن کے الزام کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں جو بدعنوانی تھی، اس کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ اور انٹر کے ٹاپر گھوٹالوں کے معاملے میں سختی کے ساتھ کارروائی کی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان گھوٹالوں کے سبھی ملزمین سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر چودھری اقلیتوں کے لیے شروع کیے گئے ’سائبر گرام‘ منصوبہ پر عمل آوری کی موجودہ صورت حال کے بار ے میں پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دے سکے۔ انہوں نے پہلے تو اس کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن جب سوال کو دہرایا گیا تو انہوں نے کہا:’اس کی ہمیں کوئی جانکاری نہیں ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *