اے ایم یو کے وائس چانسلر کے خلاف جانچ ایک سازش

ڈاکٹر جسیم محمد
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) ایک مرتبہ پھر سے کچھ مفاد پرست اور شر پسندعناصر کی سازش کی وجہ سے قومی سطح پر سرخیوں میں آگئی ہے۔یہ باوقار ادارہ اور سرسید مشن کے لیے قربانی کا جذبہ رکھنے والے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے ذریعہ کیے جارہے یونیورسٹی کے ترقیاتی عمل کو روکنے کی مذموم کوشش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہاں ایسے مفاد پرست اور شر پسند عناصرکی کمی نہیں جن کے ناپاک ذاتی مفادات کی تکمیل کی راہ میں وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ محض ادارہ کے مفاد میں رکاوٹ بن گئے ہیں اور ان کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دے رہے ہیں۔ ایسے عناصر نے جب یہ محسوس کرلیا کہ اب ہماری دال گلنے والی نہیں تو ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ وہ ماضی میں بھی جنرل شاہ کے پیش روؤں کے خلاف خیمہ بندی کرتے رہے تھے، جنرل شاہ کے خلاف بھی نہ صرف خیمہ بندی شروع کی ہے بلکہ مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو گمراہ کرکے وزارت کی جانب سے صدر جمہوریۂ ہند اوراے ایم یو کے وزیٹرمحترم پرنب مکھرجی سے وائس چانسلرکے خلاف جانچ کی منظوری حاصل کرلی ہے تاکہ ضمیر الدین شاہ پر دباؤ بناکر اپنے مفادات کی تکمیل کی جائے۔
واضح ہوکہ کسی سرکاری محکمہ میں کسی کی شکایت کرنے اور اس شکایت پر مذکورہ محکمہ کی جانب سے جانچ کرانے کے احکامات جاری کرنے یا جانچ کمیٹی تشکیل دینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس کے خلاف جانچ کی جا رہی ہے وہ شخص لازمی طور پر بدعنوان ہے، بلکہ اس کے بدعنوان ہونے، اس کے خلاف کی جانے والی شکایت کے صحیح یا غلط ہونے کی بنیاد جانچ کمیٹی کی رپورٹ ہوتی ہے جو طے کرتی ہے کہ جس شخص یا افسر کی شکایت درج کرائی گئی ہے آیا وہ قصورو ار ہے بھی یا نہیں، لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے۔ مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کو صدر جمہوریۂ ہند کی جانب سے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کے خلاف جانچ کرانے کی اجازت کیا ملی، میڈیا نے معاملہ کو اس طرح سرخیوں کی زینت بنالیا گویا کہ وائس چانسلرکسی نہایت ہی سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ ۱۷؍اکتوبر۲۰۱۶ء کو یوم سرسید تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرضمیر الدین شاہ نے ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ کسی جانچ سے نہیں ڈرتے کیونکہ وہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔ وہ اے ایم یو کو ملک کی نمبر ایک یونیورسٹی بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور کسی بھی انسان کے ذاتی مفادات کی تکمیل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ جانچ سے وہ انسان خوف زدہ ہوتا ہے جس نے کچھ غلط کیا ہو۔ لہٰذا وہ کسی بھی جانچ کمیٹی کا سامنا کرنے سے خوف زدہ ہونے والے نہیں۔
اس سے قبل کہ ہم اے ایم یو میں مختلف خیموں میں تقسیم افراد کے ذریعہ وائس چانسلر کو نشانہ بنائے جانے پر گفتگو کریں، بہتر ہوگا کہ پہلے یہ جائزہ لے لیں کہ جنرل شاہ نے اے ایم یو کے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اے ایم یو کی ترقی کے لیے کون سے مثبت اقدام کیے ہیں۔
جس وقت لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اے ایم یوکے وائس چانسلر کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالاتھا، اس وقت یونیورسٹی کے حالات قطعی غیر یقینی تھے اور کیمپس میں افراتفری کا ماحول قائم تھا۔ انہوں نے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعدنہ صرف کیمپس میں ڈسپلن اور امن و قانون کی صورت حال کو بحال کیا بلکہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی رفتار عطا کی جس کے نتیجہ میں لندن کے ٹائمس ہائر ایجوکیشن کے سروے نے اے ایم یو کو ملک کے دوسرے نمبر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ کا درجہ دیا۔اسی طرح یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ نے بھی اے ایم یو کو ملک کا اعلیٰ ترین تعلیمی ادارہ تسلیم کیا ۔ اس کے علاوہ ملک کی باوقار میگزین انڈیا ٹوڈے نے اپنے۱۳؍جولائی۲۰۱۵ء کے سروے میں اے ایم یو کو چوتھا رینک دیا۔اے ایم یو کے شعبۂ ریاضی کو دنیا میں۷۹؍واں اور ملک میں تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ وائس چانسلرضمیر الدین شاہ کی بے پناہ کوششوں سے ہی ’’ نیک ‘‘ نے اے ایم یو کو ’’اے‘‘ گریڈ سے نوازا۔ یہ ایسے حقائق ہیں جن پر ان شر پسند عناصر کو غور کرنا چاہیے جو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ضمیر الدین شاہ کو الزامات کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھے کہ جانچ کی تکمیل کے بعد جانچ رپورٹ ان لوگوں کو کہیں منھ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑے گی اور وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ اپنے مشن کی تکمیل میں مصروٖ ف رہیں گے۔
جب سے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے اے ایم یو کی سربراہی کا چارج لیا ہے یہاں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو استحکام حاصل ہوا ہے۔ ان سے قبل اکثر یونیورسٹی میں معمولی معمولی باتوں پرسائن ڈائی ہونے کی ایک روایت سی بن گئی تھی لیکن جنرل شاہ کے دور میں وہ روایت قصۂ پارینہ بن گئی ہے۔ اے ایم یو کو بارہویں منصوبہ کے تحت آٹھ نئے شعبے قائم کرنے کی اجازت حاصل ہوئی جو قائم کیے جاچکے ہیں۔اس کے ساتھ ہی آٹھ شعبوں کے ساتھ انٹرنیشنل فیکلٹی کا قیام عمل میں آیا۔ یونیورسٹی میں تعلیمی میقات۱۶۔۲۰۱۵سے پانچ غیر ملکی زبانوں کی تدریس کا بھی نظم ہے۔ جہاں تک تحقیقی سرگرمیوں کا سوال ہے، اے ایم یو نے تحقیق کے میدان میں برق رفتاری سے ترقی کی ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارہ میں تحقیقی کام اور انہیں پیٹینٹ کرایا جانااس تعلیمی ادارہ کا اہم ترین حاصل ہوتا ہے۔ گذشتہ سال وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی قیادت میں بڑی تعداد میں تحقیقی کاموں کو پیٹینٹ کرایا گیا جبکہ۲۳؍پیٹینٹ پر کام چل رہا ہے اور جلد ہی اے ایم یو اپنی نینو تکنیک اور اے سی کے بغیر پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے نتیجہ میں دوسرے سبز انقلاب کی بنیاد بن جائے گی۔ اسی طرح گنگا صفائی مہم میں بھی اے ایم یو اہم رول ادا کر رہی ہے اور یہاں کے سائنسداں کاروں، بسوں اور ٹرکوں کو شمسی توانائی سے چلانے کی تکنیک پر کام کر رہے ہیں۔ اے ایم یو میں آنے والے یہاں کے سبزہ زاروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ کیمپس میں کاروں اور دیگر گاڑیوں کی پارکنگ کا شاندار انتظام ہے۔سبھی تاریخی عمارات کی تزئین کاری کی جاچکی ہے۔وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ملک کی اولین سبز یونیورسٹی کا درجہ دلائے جانے کا شرف بھی حاصل ہے۔ اے ایم یو رائڈنگ کلب کے نزدیک شمسی توانائی کا فارم قائم کر رہی ہے ،جس پر برق رفتاری سے کام جاری ہے۔ اس کے قیام سے اے ایم یو میں بجلی کے خرچ میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوگی۔ کیاوائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی یہ سب حصولیابیاں کم ہیں؟
ایک جانب وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ نے اے ایم یو کے ترقیاتی عمل کو رفتار دینے میں کوئی کمی نہیں کی تو دوسری جانب انہوں نے طویل عرصہ سے یونیورسٹی میں تعمیراتی ٹھیکوں اور سپلائی کی لابی کو بھی ناکام کیا ہے جس سے یونیورسٹی انتظامیہ کی کاوشوں میں شفافیت قائم ہوئی ہے ۔انہوں نے ان اساتذہ کو بھی ناکام کیا جو طلباکی تدریس میں دلچسپی نہیں لیتے تھے اور یونیورسٹی کی داخلی سیاست میں ہی مصروف رہتے تھے۔ اے ایم یو کی تاریخ شاہد ہے کہ محض چند لوگ ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ہر وائس چانسلر کے خلاف محاذ قائم کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے سامنے دباؤ کا شکار رہیں اور اپنے مفادات کی تکمیل کرسکیں۔ وائس چانسلر جنرل شاہ جب ملک کی سرحدوں پر دشمن افواج کے سامنے نہیں جھکے تو ان مفاد پرستوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔یہاں یہ امر پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر محض ایک تعلیمی ادارہ کا سربراہ نہیں بلکہ وہ سرسید کے مشن کا بھی نگہبان ہوتا ہے اور اے ایم یو کے وائس چانسلر کو بدنام کرنے کی سازش محض ایک انسان کو نہیں بلکہ پوری علی گڑھ تحریک کو رسوا کرنے کے مترادف ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ کی اکثریت یہ تسلیم کرتی ہے کہ وائس چانسلر جنرل شاہ ایک بڑی سازش کا شکار ہیں اور ملت اسلامیہ بھی ان کو بے گناہ مانتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والی سازش سے واقف ہے۔وائس چانسلر جنرل شاہ کی کارگزاریاں، اے ایم یو کے حق میں ان کی کاوشیں، سرسید مشن کو فروغ دینے کی سمت میں ان کے مثبت اقدامات، ملت کے تعلیمی فروغ کے لیے ان کے عزمِ مصمم، مدارس کے طلبا کو قومی دھارے سے جوڑنے کے لیے برج کورس کا قیام، اے ایم یو میں اردو کی تعلیم کو لازمی قرار دے کر اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک مستحکم اقدام وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کی ایسی خدمات ہیں جن کو دنیا بھر میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ سرسید کے سچے عقیدت مند اے ایم یو کی ترقی کو اپنی زندگی کا مقصد بنالینے والے وائس چانسلر کے خلاف سازش کوملت اسلامیہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کرے گی کیونکہ وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی جانچ وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو لازمی طور پر بے گناہ ثابت کرکے ان مخالفین کے چہروں سے نقاب اٹھادے گی جو جنرل شاہ کی مخالفت کی آڑ میں ملت کی نئی نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے اور سرسید مشن کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ بھی ان کا ساتھ دیتا ہے جو سچائی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ ایسے میں علیگ برادری اور ملت کا فرض ہے کہ وہ ملت کے عظیم ورثہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تحفظ کے نام پر وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر چلیں تاکہ آنے والی نسلوں کے سامنے ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *