ڈیم کی تعمیر سے خطرے میں عام لوگوں کی زندگی

بھیشم کمار چوہانBhisham kumar chauhan
ترقی کے نام پر فطرت سے چھیڑ خانی اپنے ساتھ بہت سی چنوتیاں لے کر آتی ہے، لیکن انسان ان چنوتیوں کا سامنا کرنے کے لیے بسااوقات تیار نہیں رہتا۔ کچھ ایسی ہی صورت حال چھتیس گڑھ کے ضلع جانجگیرچامپا کے ڈبھرا بلاک کی گرام پنچایت ساراڈیہہ کی ہے، جہاں لائف لائن کہی جانے والی مہاندی پر بنائے جانے والے باندھ کے سبب عام زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہر چہار جانب سرسبز وشاداب کھیت، ندی میں بہتا ہوا صاف وشفاف پانی، اس گاؤں کی خوبصورتی میں چار چاند لگارہے ہیں۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ساراڈیہہ گاؤں میں کل 207 گھر ہیں،گاؤں کی کل آبادی 948 ہے، ان میں 462 مرداور 486 خواتین ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ مہاندی پر تعمیر کیے جا رہے ڈیم کی وجہ سے اس چھوٹے سے گاؤں کی چھوٹی سی آبادی چاروں طرف سے تشویشناک مسائل میں گھر چکی ہے۔
اس تعلق سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے گاؤں کے سرپنچ ومل نارائن دانی کہتے ہیں: ’حکومت چھتیس گڑھ کے محکمۂ آب پاشی کی طرف سے 398 کروڑ روپے کی لاگت سے اس بیراج( ڈیم) کی تعمیر کرائی جا رہی ہے۔ لیکن اس ڈیم منصوبے کی وجہ سے ہم لوگ بہت پریشانی میں پڑ گئے ہیں، ہماری بہت سی زمین بھی اس میں چلی گئی ہے۔ اس کا کوئی معاوضہ بھی اب تک نہیں ملاہے۔‘کسان سنترام بتاتے ہیں:’ میری کچھ زمین تھی جس پر کھیتی کرکے اپنا اور خاندان کا پیٹ پالتا تھا، لیکن آس پاس بننے والے کل کار خانہ کی تعمیر کے لیے وہ لے لی گئی ۔ معاوضہ کے طور پر ہمیں نہ تو کاشت کے لیے دوسری زمین ملی نہ ہی فیکٹری میں کام ملا۔ اس کی وجہ سے اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے۔‘اس سلسلے میں کسانوں کے علاوہ ملاحوں سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا:’ اب تک تو ہم ندی سے مچھلی پکڑ کر فروخت کر کے کچھ کما لیتے تھے لیکن باندھ بن جانے کے بعد مہاندی میں پانی کی سطح بڑھ جائے گی،جس سے اس کام میں جان جانے کا خطرہ زیادہ ہوگا اور آس پاس بنائی جا رہی فیکٹریوں کی وجہ سے ندی کا پانی بھی زہر آلود ہوجائے گا، جس کی وجہ سے مچھلیاں تو مریں گی ہی اورساتھ میں مچھلیوں کے نہیں ملنے سے ہماری زندگی بھی خطرے میں پڑجائے گی۔‘

باندھ کا ایک منظر
باندھ کا ایک منظر

اسی طرح گاؤں کے کسانوں اور ماہی گیروں نے بتایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہاں پر باندھ بنے، قدرتی طور سے ان کا گاؤں جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیا جائے،وہ اپنی زراعت اور ماہی گیری میں ہی خوش ہیں لیکن حکام کی طرف سے بیراج بنانے پر بار بار زور دیا جا رہا ہے۔ دیہی باشندگان مزید بتاتے ہیں کہ جب ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا تو ہم نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے دو سال پہلے پانی ستیہ گرہ کیا۔ اسی دوران ضلع مجسٹریٹ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ’ بیراج کی وجہ سے آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ پریشان ہو کر یہاں سے بھاگنے کی ضرورت نہیں، میں مہاندی کے کنارے لگائے جا رہے کارخانوں کے مالکان و ملازمین سے بات کروں گا اور آپ کو لوگوں کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت کچھ مدد کے طور پر رقم فراہم کرائی جائے گی تاکہ آپ لوگوں کی زندگی بہتر ڈھنگ سے چلتی رہے ۔‘
خیال رہے کہ تقریباً سات سال قبل ڈیم کو بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے جو آئندہ چھ ماہ میں بن کر تیار ہونے والا ہے۔ ایسے میں دیہی باشندگان اور کسانوں کے نقصان کا مطلب ہے کہ ندی کنارے45 ایکڑ زرخیز زمین جس سے یہاں رہنے والے کم وبیش25 خاندانوں کی پرورش ہورہی ہے ،وہ ڈیم تعمیر ہونے کے بعد نشیبی علاقوں میں تبدیل ہوجائے گی۔نتیجہ کے طور پر یہاں کے باشندگان مجبوراً نقل مکانی کریں گے یا اپنی زندگی کو آنکھوں کے سامنے سے تڑپتے ہوئے دیکھیں گے۔دونوں ہی صورتوں میں ذمہ دار ریاستی حکومت ہی ہوگی۔
(چرخہ فیچرس)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *