دہلی میں عصری اُردو صحافت/ تصویرکا دوسرارُخ

Dehli mein asri Urdu Sahafat Tasvir ka dusra rukhمحترم قارئین!

ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ معروف صحافی شاہدالاسلام نے اپنی کتاب ’’دہلی میں عصری اردو صحافت؍تصویر کا دوسرا رخ‘‘ کو ’نیوزان خبرڈاٹ کام ‘ پر سلسلہ وار شائع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہم ان کی اس کرم فرمائی کے شکرگذار ہیں۔
ہم یہاں شاہدالاسلام صاحب کے ای میل کا متن بھی شائع کررہے ہیں ۔

محترم اسفر فریدی صاحب ۔۔۔ سلام و رحمت
میری کتاب بہ عنوان “دہلی میں عصری اردوصحافت۔۔۔ تصویر کا دوسرا رُخ” پیش خدمت ہے۔ یہ کتاب آپ اپنی ویب سائٹ پر سلسلہ وار شکل میں شائع کرسکتے ہیں۔ اس ای میل کی حیثیت آپ کے لیے اجازت نامہ کی ہے۔ ۔۔۔۔ گزارش کرنا چاہوں گا کہ ویب سائٹ پر اسے جاری کرنے کی صورت میں لازماً ہر ایک لنک پابندی کے ساتھ ارسال کرنا نہ بھولیں۔
(شاہدالاسلام)

اسی کے ساتھ پیش خدمت ہے اس کی پہلی قسط :

شکریہ

اسفرفریدی

 

مقدمہ
شاہین نظر

ہندی روزنامہ’ دینک جاگرن‘ اِس وقت ہندوستان کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا اخبار ہے۔ انڈین ریڈرشپ سروے کے مطابق گیارہ صوبوں کے۳۸؍ شہروں سے شائع ہونے والے کانپور کے اس اخبار کو مجموعی طور پر روزانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ پڑھتے ہیں۔۲۰۱۰ء میں اس اخبار نے ممبئی سے شائع ہونے والے اخبار۷۵؍ سالہ’ انقلاب‘ کو خرید لیا۔ تجارت کی دنیا میں یہ معمول کی بات ہے۔ اخبارات کا بیچا یا خریدا جانا، کسی دوسرے ادارے میں ضم ہونا یا بند ہو جانا ایسی خبریں ہیں جو امریکہ وغیرہ سے تقریباً ہر روز آتی ہیں مگر ہمارے لیے یہ ایک بڑا واقعہ تھا جس میں افسوس کا پہلو شامل تھا اور خوشی کا بھی۔ افسوس اس لیے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے ایک ادارہ چلا گیا۔ خوشی کا پہلو یوں کہ جاگرن نے اسے خریدتے ہی شمالی ہندوستان کے درجن بھر شہروں سے نکالنا شروع کر دیا جب کہ’ انقلاب‘ کے مالکان، باوجود اس کے کہ تجارتی طور پر کامیاب تھے، کبھی ممبئی سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔ آج ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اردو کے پاس ایک نہیں بلکہ دو’نیشنل ڈیلیز‘ ہیں۔’ راشٹریہ سہارا ‘اردو کا دوسرا بڑا اخبار ہے جو اس وقت شمال و جنوب کے نو شہروں سے نکل رہا ہے۔ اردو کا ایک دوسرا بڑا اخبار کلکتے کا ’آزاد ہند‘ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ اس وقت یہ ایک نئے میڈیا ہاؤس شردھا گروپ کی ملکیت ہے۔

اس سے دو نتیجے اخذ ہوتے ہیں: ایک یہ کہ اردو کے قارئین موجود ہیں۔ دوسرے یہ کہ اردو اخبارات نکالنا آج بھی منافع کا سوداہے ورنہ بڑے میڈیا ہاؤسیز پیسہ نہیں لگاتے اور نئے نئے ایڈیشنز شروع نہیں کرتے رہتے۔ یہ الگ بات ہے کہ چھوٹے اخبارات اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں مگر ایسا صرف اردو کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے چھوٹے اور منجھولے اخبارات بھی ’کارپوریٹا ئزیشن ‘کے اس عمل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی اخبار کی کامیابی یا ناکامی زبان سے زیادہ تجارت، بلکہ ٹھیٹھ لفظوں میں تجارتی گر، پر منحصر ہے۔ جہاں ہمارے لوگ ناکام ہو رہے ہیں، وہیں غیر، منافع کما رہے ہیں اور ہم سے ہی کما رہے ہیں۔’ انقلاب‘ اور’ راشٹریہ سہارا ‘کے صرف دہلی ایڈیشنز کو دیکھیں تو پرائیویٹ سیکٹر کمپنیوں کے اشتہارات کے علاوہ جو اشتہارات چھپتے ہیں وہ قوم کے نام پر جمع کی ہوئی رقم سے خریدے جاتے ہیں: کسی مدرسے کا مہتمم ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ کے دوبارہ منتخب ہونے پر پورے صفحے کا جیکٹ ایڈ چھپواتا ہے، کوئی مسلم گروہ کسی وزیر یا ریاستی حکومت کو دھمکی دینے کے لیے پورے صفحے کا اشتہار چھپواتا ہے، کوئی مذہبی جماعت اپنے قائد کی مدح میں اشتہار چھپواتی ہے تو کوئی اور جماعت یا ادارہ اشتہار کے ذریعہ ایران، سعودی عرب اورشام کی حمایت یا مخالفت کا اعلان کرتا ہے۔ سیاسی اور نیم سیاسی جماعتوں کے چھٹ بھیے لیڈروں کے ذریعہ ایک دوسرے کو مبارکباد والے اشتہارات الگ سے ہیں۔ یہ فہرست طویل ہے اور ایک علاحدہ مضمون کی متقاضی۔

مواد اور پیش کش کے اعتبار سے’ انقلاب‘ اور ’راشٹریہ سہارا ‘دونوں ہی بھرپور ہیں۔ اس میں مسلمانوں کی دلچسپی کے سبھی لوازمات موجود ہیں۔ سیاسی طور پر یہ اخبارات مسلمانوں کے سب سے بڑے حمایتی ہیں۔ سنگھ پریوار، یہاں تک کے وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف سخت سے سخت جملہ لکھنے سے بھی نہیں چوکتے۔ اس کے بر عکس ان کے ہندی ایڈیشن یعنی ’راشٹریہ سہارا ‘(ہندی ) یا’ دینک جاگرن‘ دیکھیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ مسلمانوں کا یا تو ہندوستان میں وجودہی نہیں یا ہے تو وہ چور، اچکے اور اسمگلر قسم کے لوگ ہیں یا پھر فلم ایکٹرس یا نچنئے ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی مثبت خبر مشکل سے ہی دیکھنے کو ملے گی۔ یہ عجیب صورت حال ہے۔مالک ایک، پالیسی دو!۔ جب وہ اردو میں سوچے تو مسلمانوں کا حمایتی اور جب ہندی میں سوچے تو مسلمانوں کا مخالف۔ یہ پالیسی ان میڈیا ہاؤسیز کی نہیں ہے جو ایک ساتھ انگریزی اور ہندی کے اخبارات نکالتے ہیں۔’ ٹائمز آف انڈیا‘ اور’ نو بھارت ٹائمس‘، ’ہندوستان ٹائمس‘ ، ’دینک ہندوستان‘، اور’ انڈین ایکسپریس‘ یا’ جن ستا‘ میں پالیسی کا اتنا بڑا تضاد دیکھنے کو نہیں ملتا۔

اس وقت ہندی کا بول بالا ہے۔ انڈین ریڈرشپ سروے، جس کی سہ ماہی رپورٹ براہ راست پرائیویٹ سیکٹر کمپنیوں اور ایڈ ایجنسیز کو جاتی ہیں، کی فہرست کے مطابق’ٹاپ ٹن‘ اخبارات میں پانچ ہندی کے ہیں۔ انگریزی کا صرف ایک اخبار ٹائمس آف انڈیا۷۵؍ لاکھ کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے۔ ملیالم کے دو اور تمل اور مراٹھی کے ایک ایک اخبارات شامل ہیں۔ ہندی اور انگریزی کو چھوڑ کر ’ٹاپ لینگویج ڈیلیز‘ میں ملیالم، تمل، مراٹھی، بنگالی، گجراتی اور تیلگو کے نام موجود ہیں، اردو کا دور دور تک پتہ نہیں ہے! سرکاری ادارہ رجسٹرار آف نیوزپیپرس فار انڈیا کے مارچ ۲۰۱۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اس وقت اردو کے۴۷۷۰؍ اخبارات و جرائد ہیں جو کہ ہندی، انگریزی، مراٹھی اور گجراتی کے بعد پانچویں نمبر پر ہیں، مگر مارکیٹ میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔ ان کی غالب اکثریت سرکاری اشتہارات پر زندہ ہے، بلکہ یوں کہا جائے کہ سرکاری اشتہارات کے لیے زندہ ہے۔
اس پس منظر میں شاہد الاسلام کی زیر نظر کتاب ایسی حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہے جس سے ہم واقف تو ہیں مگر اس پر بات نہیں کرتے۔ عام طور پر اردو صحافت پر کتابیں، جو بیشتر ہمارے ریسرچ سکالرز کی کاوشیں ہوتی ہیں، ماضی کے سنہرے دور کے ذکر سے شروع ہوتی ہیں اور وہیں ختم ہو جاتی ہیں۔ سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے شائع ہونے والے رسالوں کے خاص نمبروں کا بھی یہی حال ہے۔ کوئی بھی موجودہ صورت حال کا جائزہ لے کر اس پر سیر حاصل گفتگو کرنے کا جوکھم لینا نہیں چاہتا ہے۔ شاہد الاسلام نے تھوڑی ہمّت کی ہے۔ گو ان کے ریسرچ کا دائرہ ذرا محدود ہے پھر بھی ایک عمومی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ۱۹۹۰ء کی دہائی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، خاص کر انٹرنیٹ کی مقبولیت اور ہندوستان کے اکنامک لبرلائزیشن، کا اردو اخبارات پر جو اثر پڑا ہے، اس کا تجزیہ کیا جائے۔ نئے دور کے تقاضوں کا مطالعہ کیا جائے۔ نئے امکانات پر غور کیا جائے۔ جو مشکلات اور مسائل ہیں ان پر حقیقت پسندانہ انداز میں گفتگو کی جائے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ جب صحافت کی بات کرتے ہیں تو ۱۸۵۷ء،جنگ آزادی، سر سید اور مولانا آزاد سے آگے سوچ نہیں پاتے۔ ایک دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ روایتی طور پر اردو میں صحافت، ادب کا حصّہ رہا ہے جب کہ آج یہ دونوں الگ الگ شعبے بن چکے ہیں مگر ہماری یونیورسٹیز کے شعبۂ اردو کے ذمہ داران اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے لیے شاید تیار نہیں۔

شاہد الاسلام نے لکھا ہے کہ اس وقت دہلی سے اردو کے۸۵؍روزنامے شائع ہوتے ہیں۔ اور ہر روزنامے کا دعویٰ ہے کہ وہ ہزاروں میں چھپتا ہے۔ تقریباً آدھے اخبارات چالیس ہزار سے اوپر چھپتے ہیں۔ انہیں دعووں کی بنیاد پر انہیں ڈی اے وی پی کے ذریعہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، مگر یہ اشتہارات کس طرح حاصل کیے جاتے ہیں ، یہ سب کو پتا ہے۔ یہ صورت حال صرف دہلی کی نہیں سبھی شہروں میں یہ سب کچھ ہو رہاہے اور صرف اردو میں ہو رہا ہے یہ بھی نہیں کہہ سکتے۔ چور بازاری کسی ایک زبان یا ایک قوم تک محدود نہیں ہو سکتی۔۱۹۸۱ء میں بہار کے وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا نے اندرا گاندھی کے اشارے پر ایک پریس بل پیش کیا تھا جس کے ذریعہ اخبارات کے مالکان، مدیران یہاں تک کہ قارئین تک پر شکنجہ کسنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس بل کی مخالفت پورے ہندوستان میں ہوئی تھی اور صحافیوں نے ملک گیر تحریک چلائی تھی۔ انگریزی روزنامہ’ انڈین نیشن ‘ جو کہ اب بند ہو چکا ہے، اس احتجاج کی قیادت کر رہا تھا۔ ایک دن تمام اخبارات نے ہڑتال کی اور پٹنہ میں ملک بھر کے صحافی جمع ہوئے۔ اردو والے بھی پیش پیش تھے۔ میں اس وقت طالب علم تھا اور شوقیہ ہفتہ وار اردو بلٹز کے لیے رپورٹنگ کیا کرتا تھا۔ میں بھی اپنے آبائی شہر گیا سے شرکت کرنے آیا تھا۔ ایک سینئر اردو صحافی نے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اردو والے دل سے اس تحریک کے ساتھ ہیں مگر خوف کی وجہ سے آگے نہیں آرہے ہیں۔ یہ سن کر مجھے بڑا غصّہ آیا۔ میں فوراً اسٹیج پر پہنچ گیا اور منتظمین سے اجازت لے کر ایک تقریر کر ڈالی کہ اردو والے پوری طرح اس تحریک کا حصّہ ہیں۔ ثبوت کے طور پر وہاں موجود اردو صحافیوں کے نام بھی لے ڈالے۔ تالیاں بھی بج گئیں مگر اگلے دن مجھے ایک زبردست جھٹکا لگا۔ خبر نشر ہوئی کہ سارے اخبارات بند رہے مگر اردو کے اٹھارہ روزنامے شائع ہوئے۔ ان اخبارات کے نام بھی جاری کیے گئے تھے جن میں سے بیشتر نام نامانوس تھے۔ چند سال بعد جب میں نے ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن میں کام کرنا شروع کیا تو انہیں اٹھارہ میں سے ایک اخبار کے مدیر سے اکثر دفتر میں ملاقات ہو جایا کرتی تھی مگر وہ صاحب کبھی نیوز روم میں نہیں آتے تھے بلکہ سرکولیشن مینیجر کے پاس بیٹھے ہوتے تھے، سرکاری کوٹہ سے رعایتی قیمت پر ملنے والے نیوز پرنٹ کو بلیک میں بیچنے کے لیے۔ انہیں دنوں کبھی کبھی شام میں میں ایک لیتھو پریس میں جایا کرتا تھا ،جہاں کم از کم دو اردو روزناموں کے کتابت شدہ صفحات رکھے ہوتے تھے جو ہفتے میں ایک دن چھپا کرتے تھے۔ یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن پر ’اردو کی خدمات‘ کا لیبل لگا کر پردہ ڈالا جاتا ہے۔
مگر یہ تمام باتیں لکھنے کا مقصد قطعی یہ نہیں کہ ہم اردو اخبارات کا نوحہ لکھ دیں۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ، خاص کر ان کا لوور مڈل کلاس، مدرسہ اور اردو میڈیم اسکولوں کے فارغین، عورتیں اور سن رسیدہ لوگ، ان کی سرپرستی کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ان کی ایک بنیادی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ جو لوگ اردو اخبار نکالنے کے نام پر دھوکہ کر رہے ہیں ان کا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ ہاں جو بڑے میڈیا ہاؤسیز دوغلی پالیسی اپنا کر ہمارا استحصال کر رہے ہیں، انہیں یقیناًبے نقاب کیا جانا چاہیے۔

شاہد ا لاسلام کی زیر نظر کتاب کا تعلق دہلی کی اردو صحافت سے ہے،لیکن مصنف نے جس کڑھن اور جذبے کے ساتھ اپنے موضوع کو برتنے کی سعی کی ہے اس سے صرف دلی ہی نہیں بلکہ پورے شمالی ہندوستان کی اردو صحافت(روزنامہ اخبارات کی حد تک) پر روشنی پڑتی ہے اوراس کی رو بہ زوال شبیہ کو بہتر کرنے کی کسی بھی کاوش میںیہ کتاب معاون و مدگار ہو سکتی ہے ۔امید کی جانی چاہیے کہ اردو صحافت کو عزیز رکھنے والا وہ طبقہ جو اسے پھلتا پھولتا بھی دیکھنا چاہتا ہے، اس کتاب کاخاطر خواہ انداز میں خیر مقدم کرتے ہوئے اس سے استفادہ کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقدمہ نگار شاہین نظر فی الوقت شاردا یونیورسٹی(گریٹر نوئیڈا) کے شعبۂ ماس کمیو نی کیشن میں’ ایڈجنکٹ‘ کے عہدے پر فائز ہیں۔ فروری۲۰۱۱ء میں مذکورہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ ’عرب نیوز‘ (جدہ) کے سینئر ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں اور اس سے بھی پہلے موصوف ’سعودی گزٹ‘ ( جدہ) ، ’خلیج ٹائمس‘ (دبئی) اور ’ٹائمس آف انڈیا‘ (پٹنہ) جیسے معروف انگریزی روزناموں سے منسلک رہے ہیں۔(ناشر)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *