دہلی میں عصری اردو صحافت……

asri sahafatجواز
دہلی میں عصری اردوصحافت خوب پھل پھول رہی ہے۔
ثبوت۔ وادئ صحافت میں اردواخبارات کا متواترمولود مسعود!
پہلا سچ!
اس وقت دہلی سے اردوکے تقریباً۸۵؍ روزنامہ اخبارات شائع ہو رہے ہیں۔
دوسراسچ!!
اردوروزناموں کا مجموعی سرکولیشن۱۵؍ لاکھ سے بھی زائد۔
تیسراسچ!!!
۸۵ ؍ اردو روزنامہ اخبارات کو حکومت اشتہارات سے نوازرہی ہے۔
بظاہر یہ صورتحال اس ’’حقیقت ‘‘ کی ترجمان ہے کہ اردو صحافت کے ارتقا ء کا سفر مسدو د نہیں، مبارک ہے!!!

تصویر کا یہ رخ دیکھ کرکوئی بھی احساس طمانیت میں مبتلا ہوسکتا ہے مگرتحقیق کی کسوٹی پران ’’سچائیوں‘‘ کو پرکھنے سے جو ’’حقیقت‘‘ سامنے آتی ہے، وہ حکومت کے ذریعہ پیش کردہ ’’حقیقت‘‘کے برعکس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویرکا دوسرا رخ کیا ہے؟ اس تحقیقی مقالے میںیہی دکھلانے کی کوشش کی گئی ہے!

اردوصحافت کوفروغ دینے کے نام پر منظرعام پر آنے والے اُردو اخبارات کے اس ہجوم میں نمائندہ اُردو اخبارات کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
درحقیقت انہیں کن مصائب و مشکلات کا سامنا ہے؟
بنیادی مسئلہ کیا ہے؟
قاری کا مسئلہ کیا ہے؟
وسائل کس حد تک کم ہیں؟
زردصحافت سے اردوصحافت کا کیا رشتہ ہے؟
مقامی خبروں کی فراہمی کے لحاظ سے اردو روزناموں کی کیا صورتحال ہے؟
کمرشیل اشتہارات انہیں کس حد تک ملتے ہیں؟
سرکولیشن کامعاملہ کیساہے؟
ہم عصرصحافت سے مقابلہ و موازنہ کے بعد اردو صحافت کی کیا صورت سامنے آتی ہے؟
جدید تکنیکی وسائل کو بروئے کارلانے میں اردوصحافت کس حدتک کامیاب ہے؟
’’حقیقت پسندی‘‘ کارجحان کس حد تک ’’فرقہ پرستی‘‘کو فروغ دینے کا محرک بن رہاہے؟
اردو صحافت نے خود کو کیوں کر’’خودساختہ‘‘ قفس میں قید کر رکھا ہے؟
صحافتی اقداروآداب اور تقاضوں کی پاسداری کس حد تک کی جا رہی ہے؟
اُردوصحافت کے اسلوب وآہنگ پر اردو زبان کی زوال پذیری کا احساس کس حد تک غالب ہے؟
احتجاج واشتعال سے یہ وادی کیوں بھری پڑی ہے؟
اخلاقیات کو نباہنے کا کوئی تصور بھی ہے یا نہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں، جودہلی کے اردواخبارات کے تعلق سے فطری طور پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی بہتر صورت یہی سمجھ میں آئی کہ اردو روزناموں کی روشنی میں دہلی کی عصری اردوصحافت کاجائزہ لینے کی کوشش کی جائے۔ لہٰذا یہ ضروری معلوم ہوا کہ دہلی کے نمائندہ روزنامہ اردو اخبارات کے مزاج و انداز، اطوار وآداب اور صحافتی ترجیحات کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق کے مروجہ اصولوں کو پیش نظر رکھ کر مشمولاتِ اخبارات کا جائزہ لینے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں کماحقہ اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ کسی طرح کی جانبداری یا مصلحت کو پیش نظر نہ رکھا جائے اور حقائق کی کسوٹی پر صورتحال کا تجزیہ کیا جائے۔ دہلی کی اردو صحافت میں رونما ہونے والے تغیر وتبدل کے درمیان آئے دن نئے اخبارات کے ورود مسعود کی خوشخبری گرچہ سنی جاتی رہی ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اخبارات کی اشاعت کے بظاہر دراز ہوتے سلسلوں کے باوجود معیاری اردو صحافت عنقا دکھائی دیتی ہے۔
لہٰذا کوشش اس بات کی بھی کی گئی ہے کہ اردو صحافت کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے کے لیے اہل علم کے خیالات سے بھی روشنی حاصل کی جائے۔ زیرنظر کتاب کا پہلا باب صحافت کے آغاز وارتقا ء سے متعلق ہے جس میں نہ صرف یہ کہ صحافت کی ابتدا کی بابت محققین کے نئے پرانے خیالات سپرد قلم کیے گئے ہیں بلکہ ’دہلی میں اردو صحافت کی ابتدا‘، ’دہلی میں روزنامہ اردو صحافت کا آغاز ‘، ’بیسویں صدی کے اوائل میں دہلی کی اردو صحافت‘،’ آزادی کے بعد دہلی میں اردو صحافت‘،اور’مختلف الجہات تبدیلیوں کا دور‘ جیسے ذیلی عناوین کے تحت بھی اردو صحافت کے قصۂ ماضی کو صفحۂ قرطاس پر لانے کی سعی کی گئی ہے۔ دوسرے باب کا مرکزی عنوان ’دہلی کی اردوصحافت کو درپیش چیلنجز‘ ہے جس کے تحت ۱۰؍ ذیلی عناوین قائم کرتے ہوئے دہلی کی اردو صحافت کے پیچیدہ مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے باب کا عنوان ’اردو صحافت اور جدید تکنیکی وسائل‘ ہے جس کے ذیل میں’ابلاغ و ترسیل اور اس کی ارتقائی صورت گری‘،’جدید ذرائع ابلاغ اور اردو صحافت‘ اور’عہد بہ عہداردو صحافت کی ارتقاء کی کہانی، جدید تکنیک کی زبانی‘کے تحت گفتگو کے سلسلے دراز کیے گئے ہیں۔ زیر نظرکتاب کا چوتھا باب ’ہم عصرصحافت اوراردوصحافت‘ کے درمیان پائے جانے والے زمین اور آسمان کے فرق کونمایاں کرتا ہے۔

دہلی کی عصری اردو صحافت کا جائزہ لینے کی بات جب ذہن میں آئی تو اُس وقت بحیثیت مجموعی میر و غالب کے اِس شہرسے ۴۷؍ اردو روزنامہ اخبارات منظر عام پر آرہے تھے۔ جب خوابوں میں رنگ بھرنے کاعمل شروع ہوا تواخبارات کی تعداد بڑھ کر۶۰؍ ہوگئی اور اب جبکہ دہلی کی صحافتی سرگرمیوں کا ایک اجمالیہ سامنے ہے، دہلی سے ۴۷؍ اردو روزناموں کی جگہ ۸۵؍ ایسے اردو روزنامہ اخبارات شائع ہورہے ہیں جنہیں ڈی اے وی پی کی منظوری حاصل ہے۔ ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۵ء کے درمیان دہلی میں ۴۰؍ سے زائد نئے روزنامہ اخبارات کا ورود مسعود یہ ظاہر کرنے کے لیے بہ ظاہر کافی ہے کہ دہلی کی سرزمین اردو صحافت کے لیے واقعی نہایت زرخیز واقع ہورہی ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ ۲۰۱۲ء کے ابتدائی زمانہ تک کارپوریٹ گھرانہ سے تعلق سے رکھنے والاواحد اردو روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘، ’انقلاب‘ کی اشاعت کے آغاز کے ساتھ ہی اپنی انفرادیت باقی نہیں رکھ پایا اور یوں اردوصحافت میں دو بڑے کارپوریٹ گھرانوں سے متعلقہ اخبارات کے درمیان مسابقہ کا بھی ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ لہٰذا یہ ضروری معلوم ہوا کہ دہلی میں عصری اردو صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنے کی بھی کوشش کی جائے کہ حال کے پانچ برسوں کے درمیان بطور خاص اردوصحافت کی دنیا میں کوئی انقلاب برپا تو نہیں ہوا؟ اس طرح’دہلی کی عصری اردوصحافت ‘ کے حقیقی چہرہ کو متشکل کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ یہ سعی کس حد تک کامیاب ہے، اس بات کا فیصلہ بہرحال ناقدین اردو صحافت کریں گے۔

دہلی کی اردو صحافت کو سمجھنے کی کوشش انفرادی طور پر نہیں کی گئی ہے بلکہ بعض بڑی علمی ہستیوں سے روشنی حاصل کرنا اور ان کا موقف جاننا بھی لازمی سمجھا گیا ہے تاکہ اجتماعی شعورکی بھی عکاسی ہوسکے۔ اس ضمن میں معاصر انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس ‘کی معتبرصحافیہ سیما چشتی، بزرگ اردو صحافی احمد سعید ملیح آبادی، ہفت روزہ نئی دنیا کے مدیر شاہد صدیقی، راجیہ سبھا ٹی وی کے معروف میزبان (اینکر) قربان علی، نئی نسل کے نمائندہ شاعر اور ماضی قریب کے مایۂ ناز صحافی فرحت احساس، ’’ہندوستان ایکسپریس‘‘ کے ایڈیٹر پرویز صہیب احمد اور جواں سال صحافی اسفر فریدی کا بھی ممنون ہوں جنہوں نے انٹرویوکے لیے قیمتی وقت دینا اور دہلی کی عصری اردو صحافت کی بابت بعض تلخ مگر حقیقی صورتحال کا اظہار کرنا گوارا کیا، جودلچسپ بھی ہے،حیران کن بھی اورقابل توجہ بھی۔
شاہدالاسلام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *